عالمی یوم صحت اور ہمارا پاکستان!

عالمی یوم صحت اور ہمارا پاکستان!
عالمی یوم صحت اور ہمارا پاکستان!

  


آج پوری دُنیا میں عالمی یوم صحت (ورلڈہیلتھ ڈے)منایا جا رہا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی زیر سرپرستی یہ عالمی یوم صحت پاکستان میں بھی منا یا جا رہا ہے ۔1948ء میں ورلڈ ہیلتھ آرگنا ئزیشن نے 7 اپریل کو اپنے کام کا آغازکیا تھا۔ اس دن WHOکی بنیا د رکھی گئی ۔

اُسی سال پہلی دفعہ ،پہلی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا کہ 1950ء سے ہر سال 7 اپریل کا دن ورلڈ ہیلتھ ڈ ے کی حیثیت سے منایا جایا کرے گا۔ ہر سال ورلڈ ہیلتھ ڈے کا انعقاد WHOکے افتتاح، یعنی فاؤ نڈیشن رکھنے کی یاد تازہ کراتا ہے اور اُس دن کو ایک بہترین موقع گردانا جا تا ہے کہ تمام دُنیا کی توجہ عالمی صحت کو لاحق کسی ایک انتہائی اہم ایشو کی طرف دلوائی جائے۔ اُس خاص مو ضوع پر WHO اس دن بین ا لاقوامی ، علاقائی اور مقامی فنکشنز اور ایوینٹس کا انعقاد کراتی ہے ۔تمام دُنیا کی اقوام ، ان کی حکومتیں اور بین ا لاقوامی اور مقامی NGO's عوامی صحت کے معاملے کی بہتری کے لئے اس خاص موضوع پر مختلف سرگرمیاں کرتی ہیں۔کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آج اربوں روپے میڈیکل شعبہ میں ہونے والی تحقیق، تعلیم و تربیت اور ساتھ ہی مختلف اداروں ہسپتالوں اور دیگر میڈیکل شعبہ میں کام کرنے والے افراد پر خرچ ہو رہے ہیں، مگر ان کے باوجود پاکستان میں صحت عامہ کا مسئلہ گھمبیر صورتِ حال اختیار کر چکا ہے ۔

سرکاری سطح پر عوام کی صحت کا مسئلہ سلجھانے کے لئے بار بار پروگراموں کا اعلان کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں میڈیکل اداروں اور ہسپتالوں کی شکل میں بھی بہت سی سہولتیں موجود ہیں، مگر اس کے باوجود سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ان سہولتوں اور پروگراموں کا صحیح استعمال بھی ہمارے سامنے آرہا ہے یا نہیں۔ میری نظر میں ان کے صحیح استعمال کے لئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو باقاعدہ طور پر تعلیم صحت فراہم کی جائے۔ معاشرے کے عام افراد کو اس بات کی تعلیم و تربیت دی جائے کہ وہ ان سب سہولتوں اور میڈیکل اداروں سے کس طرح فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اور انہیں اس بات کا بھی صحیح ادراک ہونا چاہئے کہ وہ معاشرے کی صحت کے بارے میں ہونے والی اجتماعی اور اصلاحی کوششوں میں کس طرح شریک ہو سکتے ہیں۔ اس تعلیم و تربیت کے لئے صحت سے متعلق کورسوں، سیمیناروں، جلسوں، ورکشاپوں اور آزادانہ دستیاب مطالعہ کی جتنی ضرورت اور اہمیت اب اس دور میں ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔

جتنا کثیر سرمایہ بنیادی مراکز صحت، تحصیل اور ضلعی ہسپتالوں اور دیگر اقسام کے مراکز صحت اور انفراسٹر کچر کے اجرا اور تعمیر و ترقی پر لگایا جاتا ہے۔ اس سے کچھ کم مقدار کا سرمایہ اگر بنیادی تعلیم صحت پر خرچ کر دیا جائے تو یہ ہسپتال اور کلینک چاہے سرکاری ہوں یا نجی ملکیت کے سب ویران ہو جائیں اور میں بالکل غلط نہیں کہوں گا کہ یہی ہمارا سب کا خواب ہونا چاہئے۔الیکٹرانک میڈیا نے بھی اس نازک موضوع پر کوئی غور نہ کیا اور عمل تو بہت دور کی بات تھی۔ یہ واضح حقیقت ہے کہ جتنا موثر اور طاقتور ذریعہ اطلاعات اور نشریات ٹیلی ویژن، کمپیوٹر نیٹ ورک اور سینما وغیرہ ہے اتنا کوئی اور میڈیا نہیں۔ جب ہم روزانہ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے پروگرام دیکھتے ہیں تو یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ پاکستان کے ٹی وی چینلز صحت عامہ کے پروگرام اور ہیلتھ ایجوکیشن کے سلسلے سے یکسر محروم ہیں۔

ایسے میں جبکہ پورے پاکستان میں ہیلتھ ایجوکیشن کا سرے سے فقدان ہے تو ٹی وی پر ایسی کمی کا احساس بہت شدید ہو جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت اور یونی سیف کے مطابق معاشرے میں افراد کو انفرادی یا اجتماعی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ انہیں صحت سے متعلق منصوبوں اور ان پر عمل درآمد میں شریک کیا جائے ۔صحت عامہ کو دنیا کے تمام حصوں میں مسائل کا سامنا ہے کسی جگہ اس کو کم مسائل اور کئی جگہوں پر بہت زیادہ مسائل اور دشواریوں کا سامنا ہے۔ اس طرح سے پاکستان میں بھی صحت عامہ کی حالت انتہائی خراب ہے۔

ایسے حالات میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان کے ہر فرد کو اپنی صحت کے مسائل کے بارے میں اور ان کے حل کے لئے مکمل طورپر آگاہی حاصل ہو اور اس بات کا ادراک ہو کہ ان مسائل کے حل کے لئے مل جل کر کام کرنا ہے۔ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو بیک وقت صحت عامہ کے حوالے سے بے شمار مسائل درپیش ہیں۔ہماری نظر میں پاکستان کے لوگوں کی صحت کو مندرجہ ذیل مسائل لاحق ہیں۔

1۔ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی(Pollution)

2۔بے لگام اور خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی عطائیت(Quackery)

3۔عوام الناس میں صحت عامہ کے متعلق تعلیم و تربیت(Health Education)کی شدید کمی۔

4۔اشیاء خوردونوش میں بڑھتی ہوئی خطرناک ملاوٹ(Adulteration)

5۔پاکستان میں ہر سوپھیلے ہوئے خطرناک اور لاعلاج متعدی امراض(Infections)

6۔حکومت کی طرف سے مہیا کردہ عامیانہ طرز کی اور صحت کے متعلق اور خاص قسم کی سہولیات تک عام انسانوں کی رسائی میں کمی۔

7۔طب و صحت کے متعلق ڈاکٹر حضرات اور دیگر اہل کارو ں میں پیشہ وارانہ جذبے کی انتہائی کمی۔

8۔ہمارے ہاں بننے والی ناقص کوالٹی کی تیار کردہ ادویات اور جعلی ادویات۔

9۔پاکستان میں دن بدن بڑھنے والے خطرناک موذی اور اپاہج کر دینے والے مرض۔

پاکستان میں آج اس ’’عالمی یو م صحت ‘‘ کے موقع پر ایسے سیمینار ، ورکشاپس اور دیگر ایونٹس کا بھر پور اور ہر پیمانے پر انتظام ہونا چاہئے۔ہر پاکستانی کی صحت کو لاحق تمام مسائل اور دیگر ہر طرح کی بیماریوں کے موضوع پر تاکہ علم وآگہی کا ترغیب و تربیت کے نتیجے میں پاکستانی عوام جلد ہی اس قابل ہو سکیں کہ خود کو صحت مند، اپنے خاندان کو صحت مند ، معاشرے کو صحت مند اور ماحول کو صحت مند بنانے کے سلسلے میں صحیح فیصلہ کر سکیں۔ اورمناسب اقدام اٹھانے کے قابل ہو سکیں۔ اور بہتر زندگی گزارنے کے لئے اپنے اردگرد ضرور تبدیلیاں لائیں گے۔پاکستان میں اس عالمی یوم صحت کو منانے کے اغراض و مقاصد اختصار کیساتھ مندرجہ ذیل ہیں۔

*پاکستانی عوام کوصحت کے جملہ مسائل کے بارے میں مکمل اور قابل اعتماد آگاہی ہو سکے۔

*پاکستانی عوام اس قابل ہو سکیں کہ آنے والے وقت میں صحت سے متعلق قابل اعتماد معلومات میں تفریق کر سکیں۔

*پاکستانی عوام مختلف شعبہ ہائے صحت کے نظام سے واقفیت حاصل کر سکیں۔ تاکہ ضرورت کے وقت صحیح مشیر صحت یا معالج کا نتخاب کر سکیں۔

*پاکستانی عوام اپنی اور اپنے خاندان اور اپنے معاشرے میں موجود ارد گرد کے افراد کی صحت اور ان کے باہمی تعلق کے بارے میں مکمل طور آ گاہ ہو سکیں۔

*پاکستانی عوام اپنے اور ان کی صحت کے مسائل کو حل کرنے کے لئے بہتر فیصلے کر سکیں۔

*پاکستانی عوام از خود اپنی صحت کے تمام مسائل کو اجتماعی اصلاح کے لئے معاشرے میں چلنے والی اجتماعی تحریک میں بہترطور پر شرکت کر سکیں۔

*پاکستانی عوام عطائی اور اس کی عطائیت کو آسانی سے پہچان سکیں اور عطائیت جیسی بری لعنت سے مکمل طور پر چھٹکارہ پاسکیں۔

*پاکستانی عوام خود ساختہ علاج معالجہ جو کہ’’حدود تحفظ‘‘ میں رہ کر کیا جا سکے کو جان سکیں اور استعمال کرسکیں۔

*پاکستانی عوام بطور"صارفین صحت" اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکیں۔

*پاکستانی عوام انسانی صحت اور تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول کا باہمی تعلق سمجھ سکیں۔

*پاکستانی عوام صحت عامہ کو درپیش مختلف قسم کی آلودگیوں(Pollution) کا شعور حاصل کر سکیں۔

*پاکستانی عوام اپنی صحت کو ماحول کی آلودگی سے بچانے کے طریقے اور اطوار سے واقف ہو سکیں۔

*پاکستانی عوام اپنی صحت کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے مضر صحت اور بے ضرر روز مرہ اشیاء خوردونوش کی بھرپور پہچان اور باہمی تمیز کر سکیں۔

عالمی یومِ صحت (ورلڈ ہیلتھ ڈے) کو منانے کا مقصد اور غرض و غائیت یہ ہوئی چاہئے کہ پاکستان کی عوام کو ان باتوں کا علم ، تربیت اور ترغیب دی جائے تو وہ بہتر سے بہتر زندگی گزارنے کے لئے اپنے اردگرد ضرور تبدیلیاں لائیں گے تاکہ ایک عام صحت ، ایک خاندان کی صحت، ایک معاشرے صحت اور بلا آخر اپنے پیارے پاکستان کی صحت کے معیار کو بلند تر کیا جا سکے۔(ان شاء اللہ)

مزید : رائے /کالم


loading...