حضرت علامہ ابوالحسنات، غلط فہمی کا ازالہ

حضرت علامہ ابوالحسنات، غلط فہمی کا ازالہ
حضرت علامہ ابوالحسنات، غلط فہمی کا ازالہ

  


بزرگوں کی عقیدت و احترام واجب ہی نہیں لازم بھی ہے۔ اس سلسلے میں بعض حضرات اس حد سے بھی آگے گزرجاتے ہیں، اگرچہ اعتدال لازم ہے۔یوں بھی جن بزرگ حضرات کی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہوں ان کا احترام تو مخالف بھی کر لیتے ہیں،جہاں تک دین سے متعلق شخصیات کا تعلق ہے تو ان کا اپنا اپنا مقام ہے۔

اسی طرح تاریخ میں جمعیت علماء پاکستان کے صدر مولانا شاہ احمد نورانی کی بھی اپنی حیثیت و مقام ہے۔ تاریخ کو بھول جانے یا عقیدت میں اصل حق دار کے احترام سے گریز پا ہو جانے سے مرکز عقیدت کی حیثیت کو کوئی فرق نہیں پڑتا، حال ہی میں قابل احترام مولانا شاہ احمد نورانی کا ذکر اور تعریف کرتے ہوئے ایک محترم، جمعیت علماء پاکستان کی تاریخ سے صرف نظر کر گئے ہیں۔

ان صاحب نے اپنے مضمون میں جمعیت علماء پاکستان کے قیام کا عرصہ تو یاد رکھا لیکن جمعیت کا بانی صدر حضرت علامہ احمد سعید کاظمی کو قرار دے دیا۔ تاریخی طور پر یہ درست نہیں، جمعیت علماء پاکستان کے بانی حضرت علامہ ابوالحسنات قادریؒ ہیں اور جب تک اللہ کو پیارے نہیں ہوئے جمعیت کے صدر وہی تھے۔

یہ تو ان کے وصال کے بعد کی بات ہے کہ مولانا عبدالحامد بدایونی اور صاحبزادہ فیض الحسن کے درمیان صدارت کا تنازعہ ہوا اور جمعیت ہی دو حصوں میں بت گئی اور یہ تنازعہ کوشش کے باوجود ختم نہ ہو سکا، مولانا عبدالحامد بدایونی کے انتقال کے بعد بھی دونوں حصوں کو ایک کرنے کی کوشش جاری رہی اور اسی سلسلے میں علامہ احمد سعید کاظمی کو متفقہ صدر بنایا گیا تاہم حضرت مولانا فیض الحسن والا دھڑا انضمام میں نہ آ سکا تھا۔

بہرحال جمعیت علماء پاکستان کی یہ تاریخ افسوس ناک ہے کہ آج تک یہ اتحاد نہیں ہوا اور کئی دھڑے موجود ہیں، البتہ مولانا شاہ احمد نورانی کی شخصیت اور ان کے اپنے حسن سلوک کا یہ اثر ضرور تھا کہ ان کی صدارت میں د وسرے دھڑے ماند پڑ گئے تھے، حتیٰ کہ ہمارے مولانا عبدالستار خان نیازی بھی ان کے ساتھ آ ملے اور جمعیت کے جنرل سیکرٹری ہوئے جس کے انتخابات بھی کرائے گئے۔ مولانا شاہ احمد نورانی 1970-71ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے اور آئین کی تدوین کے علاوہ ختم نبوت کے حوالہ سے آئینی ترمیم میں ان کی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ تو ایک وضاحتی صورت حال تھی،ہم نے اپنے ذاتی علم اور تجربے کے مطابق غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی ہے، ورنہ ذکر تو اپنے بزرگ اور مرکز عقیدت حضرت علامہ ابوالحسنات سید محمد احمد قادریؒ کا مقصود ہے، جن کا دو روزہ عرس 2شعبان المعظم سے شروع ہو رہا ہے، جس کا اہتمام اب ان کے نواسے کرتے ہیں کہ ان کے صاحبزادے امین الحسنات سید خلیل احمد قادری بھی وفات پا چکے اور ان کی نرینہ اولاد نہیں تھی۔حضرت علامہ ابوالحسناتؒ ایک متقی، پرہیز گار اور باعمل عالم دین تھے اور ان کی خدمات سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، وہی جمعیت علماء پاکستان کے بانی صدر بھی ہیں جو 1948ء میں جامع مسجد وزیر خان میں علماء کرام کے درمیان قائم کی گئی تھی، ہماری پیدائش اس محلہ کی ہے جہاں حضرت علامہ کی رہائش تھی اس لئے آنکھ کھولتے اور ذرا ہوش سنبھالتے ہی ان کو دیکھا اور ان کے نورانی چہرے سے مسحور ہوئے، محلے کی مسجد سے تو سیپارے سے تعلیم شروع کی تاہم نماز جمعہ اور عیدین علامہ ابوالحسنات کی اقتدا میں جامع مسجد وزیر خان جا کر پڑھتے رہے۔ بچپن میں ہم لڑکے گلی میں کھیلتے تو حضرت کی شفقت بھی پاتے تھے، انہوں نے کبھی بھی ہمیں ڈانٹا نہیں تھا۔ کبھی ضرورت ہوتی تو بلا کر سمجھاتے تھے۔ ان کا گھر اگر دینی ادبی محفل تھا تو گراؤنڈ فلور پر دوکان مطب تھا کہ وہ طبیب بھی تھے، حضرت ابوالحسناتؒ کی ذات کے ساتھ بہت کچھ وابستہ ہے وہ عالم دین مولانا دیدار علی شاہ الوری کے بڑے صاحبزادے اور جامع مسجد وزیر خان کے خطیب بھی تھے، وہ بہت حلیم ،آہستہ بولنے والے اور بڑے صاحب علم تھے۔ حافظ قرآن تھے اور ان کی تفسیر قرآن، تفسیر الحسنات کے نام سے اب بھی موجود ہے۔ اگرچہ وہ خود اپنی زندگی میں 18یا 19سیپاروں کی تفسیر مکمل کر چکے تھے باقی ماندہ سیپاروں کی تفسیر ان کے صاحبزادے امین الحسنات سید خلیل احمد قادری نے مکمل کی تھی۔ علامہ ابوالحسنات اپنا روزگار طب کی پریکٹس سے حاصل کرتے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ ہم جیسے محلہ داران اور اپنے دوستوں کو ادویات مفت بھی دیتے تھے۔ ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ 1948ء میں جہاد کشمیر میں حصہ لیا تھا۔ یوں وہ زندگی بھر کشمیر کاذ کے لئے کام بھی کرتے رہے۔

علامہ ابوالحسنات اتنی محترم شخصیت تھے کہ جب ختم نبوت کے حوالے سے دینی حلقوں میں اضطراب پیدا ہوا اور تحریک کا سلسلہ شروع ہونے والا تھا تو تمام مکاتب فکر کی دینی جماعتوں نے متحد ہو کر تحریک آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا اس حوالے سے مزار شاہ محمدؒ غوث کے بالمقابل سرکلر روڈ پر مجلس احرار اسلام کے دفتر میں اجتماع ہوا۔

کل پاکتان تحریک ختم نبوت تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا مجلس تحفظ ختم نبوت بنی تو حضرت علامہ ابوالحسنات کو مکمل اتفاق رائے سے کسی اعتراض کے بغیر سربراہ (صدر) چن لیا گیا اور پھر انہی کی قیادت میں 1953ء کی تحریک ختم نبوت شروع ہوئی جس کا مرکز جامع مسجد وزیر خان ہی تھی۔

اس دور میں بڑے بڑے اکابر حراست میں لئے گئے، مولانا ابوالحسنات بھی گرفتار ہوئے تو مولانا سید مودودی کو بھی حراست میں لے لیا گیا ان کی گرفتاریاں اس منی مارشل لاء کے تخت ہوئیں جو صرف لاہور میں لگایا گیا اور جنرل اعظم خان تب ایڈمنسٹریٹر لگائے گئے تھیّ یہ گرفتاریاں یہیں تک محدود نہ رہیں بلکہ بعدازاں جب تحریک آگے بڑھانے کے لئے مولانا عبدالستار نیازی اور علامہ ابوالحسنات کے صاحبزادے امین الحسنات سید خلیل احمد قادری نے چارج سنبھال لیا تو وہ بھی گرفتار کرلئے گئے تھے۔

اس تحریک ختم نبوت کے دوران ہمارے کئی ساتھی نوجوانوں نے جام شہادت بھی نوش کیا۔ ملٹری کورٹس سے امین الحسنات سید خلیل احمد قادری، مولانا عبدالستار نیازی اور کئی دیگر سرگرم احباب کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔

مولانا ابوالحسنات تب لاہور سنٹرل جیل (اب کیمپ جیل) میں مولانا مودودی اور احباب کے ساتھ زیر حراست تھے۔ اطلاع ملنے پر اکلوتے بیٹے کی سزائے موت پر بھی غم نہ ہو اور کہا الحمد للہ خلیل کو شہادت کا درجہ ملے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعدازاں تحریک سے تعلق رکھنے والے سب حضرات رہا ہوئے اور سزائیں بھی ختم کی گئیں۔

حضرت علامہ ابوالحسنات کو اردو کے علاوہ عربی اور فارسی زبانوں پر بھی مکمل اور پورا عبور حاصل تھا۔ تفسیر لکھی تو حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کی تصنیف کشف المعجوب کا اردو ترجمہ بھی کیا۔

اس دور کی اردو مشکل تھی اسے محترم طاہر احمد بخاری نے ذرا سلیس کرکے معارف اسلامی داتا گنج بخشؒ سے شائع کیا، ان کی اس خدمت کے عوض جب انتقال کے بعد صاحبزادے امین الحسنات سید خلیل احمد قادری نے حکومت اور محکمہ اوقاف سے احاطہ گنج بخش میں تدفین کی درخواست کی تو یہ منظور کر لی گئی آج وہ حضرت علی ہجویری کے احاطہ میں ان کے قدموں کے دائیں طرف آسودہ خاک ہیں، اللہ ان کے درجات بلند کرے۔

مزید : رائے /کالم


loading...