متوالوں نے ماڈل ٹاؤن سے مزاحمتی سیاست کا آغازکر دیا

متوالوں نے ماڈل ٹاؤن سے مزاحمتی سیاست کا آغازکر دیا

سیاسی ڈائری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دیبامرزا

مسلم لیگ کے متوالوں کو بھی مسلسل آمریت برداشت کرکے اور لیڈرشپ پر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے اور احتجاجی تحریکوں کی وجہ سے بھرپور مزاحمتی اور ڈٹ جانے والی سیاست کرنا آہی گیا ہے، کہا جاتا تھا کہ مزاحمتی سیاست صرف پیپلز پارٹی کے جیالے ہی کر سکتے ہیں لیکن مسلم لیگی متوالوں نے بھی اب جدوجہد سے بھرپور سیاست کرکے ثابت کردیا ہے کہ لاٹھی گولی اور مسلسل پولیس کی بھاری نفری کی تعداد اور مقدمات بھی ان کا راستہ نہیں روک سکتے۔ جمعہ اور ہفتہ کے روز جس طرح سے مسلم لیگی کارکنوں نے نیب کی جانب سے حمزہ شہباز کی گرفتاری پر ردعمل دیا وہ میڈیا کے لئے جہاں سرپرائز تھا وہیں پر اب دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی اس کو اس جماعت کی طرف سے ایک مزاحمتی سیاست قرار دینا شروع کردیا ہے کہ مسلم لیگی کارکن بھی اب کسی سے پیچھے نہیں رہے ۔مسلم لیگی کارکنان کو شبہ تھا کہ نیب جمعہ کے روز ناکامی کے بعد اگلے روز بھی ان کے لیڈر میاں حمزہ شہباز شریف کو گرفتار کرنے کے لئے آ سکتا ہے اس خدشے کے پیش نظر زیادہ تر کارکنوں نے رات کاقیام بھی اپنے لیڈرکی رہائش گاہ کے باہر کیا اور ناشتہ بھی اپنے لیڈر کی رہائش گاہ کے باہر ہی کیا ،یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مسلم لیگی کارکن مزاحتمی سیاست کے حوالے سے مکمل چارج نظر آئے، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا توان کارکنوں کا جوش و جذبہ بڑھتا چلا گیا اور نیب کی جانب سے پولیس کی بھاری نفری اور زورو زبردستی کے باوجود بھی ان مسلم لیگی متوالوں کے حوصلے پست نہ ہوئے ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ان مسلم لیگی کارکنان کے لئے کھانے پینے کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا تھا اور یوں لگ رہا تھا کہ جیسے اب مسلم لیگ نے ایک بھرپور مزاحمتی سیاست کی تیاری شروع کردی ہے اور ان مظاہروں کو ایک فل ڈریس ریہرسل بھی قرار دیدیا ہے ۔جہاں مسلم لیگی کارکنان کی شرکت دیدنی تھی تو وہی پر مسلم لیگی خواتین بھی مرد کارکنان کے شانہ بشانہ ہی احتجاج کرتی ہوئی دکھائی دیں اور انہوں نے بھی اس احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ مسلم لیگی ایم پی ایز اور ارکان اسمبلی بھی اپنے ساتھ ورکرز لیکر آئے تاہم ہفتہ کے روز ہونے والے اس احتجاج میں چیئرمینوں کی تعداد کم تھی لیکن پھر بھی کچھ یونین کونسلوں کے چیئرمینوں نے اپنے اپنے کارکنان کے ساتھ شرکت کی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...