آہ افتخار مجاز

آہ افتخار مجاز
آہ افتخار مجاز

  


ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے مگر موت کی ہر خبر دکھ دیتی ہے۔ ایسی بعض خبریں زوردار صدمہ دیتی ہیں۔ شاعر حضرات نے اپنے آپ کو دریا قرار دے کر اپنی موت کو سمندر میں اترنے سے تشبیہ دی ہے۔ بلھے شاہ کا تو یقین ہے کہ موت اس کے لئے نہیں ہے بلکہ قبر میں تو کوئی دوسرا پڑا ہے۔ مگر موت موت ہے۔ اور ہر انسان کو اس وادی میں اترنا ہے۔ اور اکثر اپنی مرضی کے خلاف جانا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں آنے کی ایک ترتیب ہے مگر جانے کی کوئی ترتیب نہیں ہے۔

ہمارے ایک دوست زندگی کی بے قدری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے تھے کہ کتنے لوگ ہیں جنہیں اپنے پردادا کا نام بھی یاد ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اپنی زندگی میں وہ اپنے آپ کو خاصے طرم خان سمجھتے ہوں۔ میانی صاحب قبرستان کے متعلق بھی تو یہی کہا جاتا ہے کہ یہ ناگزیرلوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایسے لوگ جن کے لئے یہ تصور کرنا ممکن نہیں تھا کہ ان کے بغیر زندگی چل سکتی ہے۔

خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ دوستوں کے ساتھ خوش رہنے والے افتخار مجاز کو بھی موت آئے گی۔ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ چند ماہ قبل ان کی علالت کی خبر آئی تو ڈاکٹر شفیق جالندھری اور برادرم روف طاہر کے ساتھ ان کی تیمارداری کے لئے ویلنشیا کے ایک ہسپتال میں گئے۔

بیماری نے افتخارمجاز پر زبردست حملہ کیا تھا مگر ان میں زندہ رہنے کا بے مثال عزم موجود تھا۔ اس مختصر سی ملاقات سے میں نے زندگی کو موت سے طاقتور محسوس کیا۔ ہسپتال سے افتخارمجاز گھر منتقل ہو گئے۔ ان کی طرف جانے کا پروگرام بنتا رہا مگر کوئی نہ کوئی مصروفیت آڑے آتی رہی۔ فیس بک پر ان سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔

ان کی ہر تصویر دیکھ کر خوش ہوتے تھے اور اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے تھے کہ بیماری افتخار مجاز کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ گزشتہ روز ڈاکٹر شفیق جالندھری نے خبر دی کہ افتخار مجاز اپنے رب حقیقی سے جا ملے ہیں تو دل پر گہری چوٹ لگی۔ چند برس پہلے افتخار مجاز نے بتایا تھا کہ انہیں دل کا پیچیدہ سا مرض ہے جس کا وہ علاج کرا رہے ہیں۔ وہ اپنے دل کے مرض کا تذکرہ اتنی زندہ دلی کے ساتھ کر رہے تھے کہ اس پر تشویش میں مبتلا نہیں ہوا جا سکتا تھا۔

افتخار مجاز کو اگر سینکڑوں لطیفے یاد تھے توان کی یادداشت میں ہزاروں اشعار جگنوؤں کی طرح جگمگاتے رہتے تھے جو ان کی گفتگو میں برمحل استعمال ہوتے تھے۔ تقریبات میں وہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے تو مقررین کا تعارف بڑی فراخدلی کے ساتھ کراتے بلکہ بعض اوقات تعارف مقرر کی تقریر سے بھی طویل ہو جاتا۔

چند برس قبل افتخار مجاز نے کہا کہ ان کے پاس بہت بڑی لائبریری ہے اور وہ اپنی کتابیں کسی لائبریری کو دینا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے مشورہ طلب کیا تو مجھے نیویارک کے ایک مشہور شاعر یاد آ گئے جن کے متعلق ہمارے دوست میاں اشرف نے بتایا تھا کہ انہوں نے آخری عمر میں اپنی کتابیں تقسیم کرنا شروع کر دی تھیں کیونکہ ان کے خاندان میں کسی کو کتابوں کا ذوق نہیں تھا۔

اس کی خبر جب نیویارک کی ایک قابل احترام شاعرہ کو ملی تو انہوں نے کہا کہ آپ ایسا نہ کریں مگر ان کی باتوں پر توجہ نہیں دی گئی۔ میاں اشرف صاحب کے بقول کچھ عرصہ بعد اس محترم شاعر کو کینسر کا مرض لاحق ہو گیا اور وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

میں نے یہ واقعہ افتخار مجاز کو سنایا اور کہا کہ وہ فی الحال کتابیں خود پڑھا کریں اور اپنی لائبریری کی فکر نہ کریں۔ کیونکہ اگر بغداد کی لائبریری تباہ ہونے کے بعد بھی امت مسلمہ بچ گئی ہے تو ان کی لائبریری کسی انداز سے تاریخ کو متاثر نہیں کرے گی۔ افتخار مجاز جب بھی ملتے اس واقعہ کا ذکر کرتے اور بتاتے کہ کتابوں کے درمیان انہیں کتنی راحت محسوس ہوتی ہے۔ہر انسان اپنے لئے جدوجہد کرتا ہے مگر افتخار مجاز دوسروں کے لئے کوشاں رہتے تھے۔ برادر محترم اسلم لودھی کی ہر کتاب میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے۔ میرا کبھی کوئی اچھا کالم شائع ہو جاتا تو فون کر کے تعریف کرتے اور زور دیتے کہ مجھے کالم نویسی زیادہ باقاعدگی کے ساتھ کرنی چاہیے۔

افتخار مجاز ’’باتوں باتوں میں‘‘ کے عنوان سے کالم بھی لکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے سامنے بہت سے تاریخی واقعات کو ظہورپذیر ہوتے دیکھا تھا۔ ان کی تحریروں میں ماضی سے بڑے خوبصورت انداز میں ملاقات ہوتی تھی۔ ان کے ایک کالم ’’چٹے دن وی پیندا ڈاکہ‘‘ سے اقتباس:’’یہ بیتے دنوں کی ایک یاد ہے، مرحوم حبیب جالب تب حیات تھے اور ادیبوں کے ڈیرے پاک ٹی ہاؤس میں آتے جاتے تھے۔ ایک روز بیرونی دروازے پر آمنا سامنا ہو گیا۔

میں نے آگے بڑھ کر احترام سے جھکتے ہوئے پرجوش انداز سے سلام کیا تو میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر وہیں کھڑے کھڑے حالات کو کوسنے دینے لگے اور پھر رسمی حال چال کے تذکرے سے شروع ہونے والی گفتگو ضیائی مارشل لاء کے جبر اور اس کے مابعد اثرات پر آ گئی۔ جالب نے اپنی متحرک ادبی زندگی کے دوران ہمیشہ تسلسل سے لکھا۔ ضیائی مارشل لا کے دوران بھی حسب روایت جالب کا قلم مسلسل شعلے اگلتا رہا، مگر نہ جانے کیوں ان دنوں جالب پر مایوسی کے اثرات بہت نمایاں تھے۔ میں نے ایک مرتبہ تازہ کلام کی بابت دریافت کیا تو جواباً

زندگی ڈھل گئی مشینوں میں

شعر ہوتا ہے اب مہینوں میں

یہ لافانی شعر سنا کر کہنے لگے اب تو واقعتاً مہینوں بانجھ پن کی کیفیت رہتی ہے‘‘۔۔۔افتخار مجاز پاکستان ٹی وی کے قابل فخر پروڈیوسر تھے۔ شاعر تھے، مصنف تھے اور سب سے بڑھ کر وہ ایک مخلص دوست تھے۔ ان کی موت سے لاہور خالی خالی محسوس ہو رہا ہے اور واقعی ایسا لگتا ہے کہ زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے؟

مزید : رائے /کالم


loading...