گلوکار احمد رشدی کی 36ویں برسی11اپریل کو منائی جائے گی

گلوکار احمد رشدی کی 36ویں برسی11اپریل کو منائی جائے گی
گلوکار احمد رشدی کی 36ویں برسی11اپریل کو منائی جائے گی

  


لاہور(فلم رپورٹر) گلوکار احمد رشدی کی 36ویں برسی11اپریل کو منائی جائے گی اس سلسلے میں ملک بھر کے فلمی حلقوں میں تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا۔ احمد رشدی1938ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہو ئے تقسیم ہند کے بعد احمد رشدی کراچی منتقل ہو گئے۔ انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کراچی سے کیا معروف گانے ’’ بندر روڈ سے کیماڑی ،چلی میری گھوڑا گاڑی ‘‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا ۔ ان کی بطور گلوکار پہلی فلم ’’ کارنامہ ‘‘ تھی جو کہ ریلیز نہ ہو سکی جبکہ اس کے بعد آنے والی فلم ’’ انوکھی ‘‘ تھی جس میں احمد رشدی پلے بیک سنگر تھے ان کی بطور فلمی گلوکار آخری فلم ’’ مشرق و مغرب ‘‘ تھی۔ احمد رشدی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے دیگر گلوکاروں کے ہمراہ مل کر 1955ء میں پہلی مرتبہ پاکستان کا قومی ترانہ گایا انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ جنوبی ایشیاء کے پہلے گلوکار تھے جنہوں نے موسیقی میں پاپ سنگنگ کومتعارف کروایا انہوں نے پاکستانی فلموں میں پانچ ہزار سے زائد گانے ریکارڈ کروائے۔پاکستانی فلمی موسیقی کیلئے انتھک کام کرنے پر ان کی صحت گرنا شروع ہو گئی اور وہ 11اپریل1983ء کو دل کے دورے کے باعث 44برس کی عمر میں انتقال کر گئے انہیں سخی حسن قبرستان کراچی میں سپردخاک کیا گیاان کی وفات کے بیس برس بعد ان کی خدمات کے عوض سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔

مزید : کلچر


loading...