ورلڈ کپ کیلئے پریکٹس نہیں پریکٹیکل کرنے کا وقت آگیا

ورلڈ کپ کیلئے پریکٹس نہیں پریکٹیکل کرنے کا وقت آگیا
ورلڈ کپ کیلئے پریکٹس نہیں پریکٹیکل کرنے کا وقت آگیا

  


ورلڈ کپ کی آمد آمد ہے اور دوسری جانب میگاایونٹ سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم نے انگلینڈ کے خلاف پانچ ایک روزہ میچز کی سیریز کے ساتھ ایک ٹی ٹو نٹی،تین ایک روزہ میچز کاؤنٹی ٹیم کے ساتھ جبکہ دو وارم اپ میچ بنگلہ دیش اور افغانستان کے ساتھ کھیلنے ہیں یوں ملا کر ٹوٹل گیارہ میچز گرین شرٹس کو ورلڈ کپ سے قبل کھیلنے کو ملیں گے جس کے بعد ٹورنامنٹ کا آغاز ہو جائے گا ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے گزشتہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد عامر کو ورلڈ کلاس باؤلر تو کہہ دیا مگر دبے لفظوں میں ان کی ورلڈ کپ اور انگلینڈ ٹور میں شمولیت کو نامناسب بھی کہہ ڈالا میرا خیال ہے کہ عامر جیسا باؤلر ان وکٹوں پر جو بھی کارکردگی دکھاتا مگر کوچ کو ان کی طرف داری کرتے ہوئے اس طرح کے ریمارکس دینے سے گریز کرنا چاہیے تھا،اور محمد عامر کے سوال پر معاملہ سلیکشن کمیٹی کے سپرد کرنے کا جواب دے دیا جاتا تو ان کی فاسٹ باؤلر کے خلاف کھلی بغاوت یا ناپسندیدگی سامنے نہ آتی۔خیر جو بھی ہے ورلڈ کپ اور انگلینڈ کے ٹوور پر جانے والی قومی ٹیم کون سی ہو گی اور کن کھلاڑیوں کے نام کا قرعہ سلیکشن کمیٹی نکالتی ہے یہ توآنیوالے دنوں میں پوری قوم کو پتہ چل ہی جائے گا ۔مگر کیا پاکستان ون ڈے کپ کے ٹا پ سکورر اس کا حصہ ہوں گے ؟اس کاجواب شاید سلیکشن کمیٹی کے پاس بھی نہیں ہوگا۔پاکستان ون ڈے کپ میں عمر اکمل کی سوپرڈوپر پرفارمنس نے جہاں پوری قوم کو ورطہ حیرت میں ڈالا وہیں پر سلیکشن کمیٹی بھی انگلیاں دانتوں میں داب کر رہ گئی۔پاکستان کپ میں عمر اکمل رنزوں کا انبار لگا رہے ہیں اور اپنی پرفارمنس و فٹنس سے سب کو ہی حیرت زدہ کر رہے ہیں۔اس کے ساتھ محمد حفیظ بھی ردھم میں واپس آرہے ہیں اور انگلی کے فریکچر کے باعث آرام کے بعد ٹیم میں واپسی کے لیے پر امید بھی ہیں اور انہیں ہونا بھی چاہیے کیونکہ انگلینڈ کی کنڈیشن میں ان کو کھیلنے کا تجربہ بھی ہے اور وہاں کی کنڈیشن ایشیاء کی ٹیموں کے لیے آئیڈیل کنڈیشن ہے جس کا فائدہ ایشین ٹیموں کو لازمی ہو گا اسی لیے محمد حفیظ جیسے سینئر آل راؤنڈر کو ٹیم کا حصہ ضرور ہونا چاہئے۔شاہین آفریدی،عثمان شنواری،جنید خان ،راحت علی اورمحمد حسنین بھی انگلش کنڈیشنز میں کار آمد ہو سکتے ہیں ،بشرطیکہ انہیں ان کی خامیوں کے بارے میں بتایا جائے اور ان پر کھل کر کام کیا جائے تا کہ ورلڈ کپ میں یہ کھلاڑی اپنی ذمہ داری بھر پور طریقے سے اداکر سکیں ۔حسنین اور شنواری کی تیزرفتاری اور باؤنسر مخالف کھلاڑیوں کو پریشان کریگا۔دوسری جانب نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیم اناؤنس کرکے ورلڈکپ کی پہلی ٹیم ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا جبکہ ہمارے ہاں ابھی اس پر شاید مشاورت بھی نہ ہوئی ہو اور ہو سکتا ہے کہ انگلینڈ روانگی سے ایک دو روز قبل ٹیم اناؤنس کی جائے۔مگر ٹیم جب بھی اناؤنس کی جائے انگلینڈ اور ورلڈ کپ کے دونوں ٹوور ز کے لیے ایک ہی ٹیم اناؤنس کی جائے تا کہ کھلاڑیوں کو ایک ماہ میں وہاں پر رہ کر وہا ں کی کنڈیشن کے بارے زیادہ معلومات مل سکیں اور ہاں کے موسم کی مناسبت سے کھلاڑی اپنے آپ کو تیا ر کرنے میں سر گرم ہوں اس کا فائدہ قومی ٹیم کو ہو گا زیادہ ترکھلاڑی محنت و جذبے سے کھیلیں گے۔سلیکشن کمیٹی کے ممبران کو چاہیے کہ ٹیم اناؤنس کرتے وقت ذاتیات کو ترجیح دیے بغیر قوم کی امیدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی ٹیم اناؤنس کریں جو قوم و ملک کے لیے کھیلے ،بغیر کسی لالچ کے کھیلے۔

، ایک ہو کر کھیلیں،کیونکہ یہ ورلڈ کپ اور ٹوور ہمارے مستقبل کے سٹارز کا انتخاب بھی کرے گا اور اس سے ہمیں مستقبل کے وسیم ،وقر،شعیب،جاوید میاں داد ،انضمام،یونس خان،محمد یوسف جیسے پلیئرز ملیں گے جو آگے جا کر ملک و قوم کا نام روشن کریں گے ۔

مزید : رائے /کالم


loading...