دھڑکنیں تیز،دل تھام کر بیٹھیں کرکٹ کی عالمی جنگ شروع ہونے میں چند دن باقی

دھڑکنیں تیز،دل تھام کر بیٹھیں کرکٹ کی عالمی جنگ شروع ہونے میں چند دن باقی

کرکٹ کی دنیا کی بڑی ٹیموں میں شمارہونے والی پاکستان کرکٹ ٹیم آج کل پی سی بی کے تجربات سے گزررہی ہے وزیر اعظم پاکستان عمرا ن خان کو پاکستان کرکٹ پر دی جانے والی بریفنگ میں بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کو کھری کھری سننا پڑیں کیونکہ قومی کرکٹ ٹیم کے بنیادی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں اور بہتری کے لئے کچھ نہ کیا گیاتو پاکستان کرکٹ ٹیم اسی طرح کے اتار چڑھاؤ سے گزرتی رہے گی۔ گزشتہ دو اداوار میں پی سی بی کی نااہلیوں نے حالات اتنے خراب کردئیے کہ آج پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہر شعبہ درست کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے ورلڈ کپ کی آمد آمد ہے اور ہماری تیاریاں واجبی سی ہیں البتہ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے جانے والی سیریزورلڈ کپ کی تیاری کے لئے بہترین موقع ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی ورلڈ کپ کے لئے تیاری بھی چاہتی ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان جو خود صرف کرکٹ کے کھلاڑی ہی نہیں بلکہ وہ سٹار کھلاڑی رہے ہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی کاغذی کارروائیوں سے بالکل مطمئن نہیں اور اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کرکٹ کی بہتری وقت کا تقاضا ہے جس کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھی جاگنا پڑے گا۔عالمی کرکٹ ورلڈ کپ کے آغاز میں اب چند دن ہی باقی رہ گئے ہیں ہر ٹیم بھرپور تیاریوں میں مصروف ہے اسی طرح پاکستان کرکٹ ٹیم نے بھی اس حوالے سے تیاریوں کا آغاز کردیا ہے مگر ورلڈ کپ سے قبل کھیلی گئی آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں پاکستان کی ٹیم مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے اور جس طرح سے پانچ میچوں کی سیریز میں پاکستان کی ٹیم ایک بھی میچ اپنے نام نہ کرسکی اور وائٹ واش شکست کا سامنا کرنا پڑا اس سے تو لگتا ہے کہ پاکستان کے لئے ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کرنا بہت مشکل ہوجائے گا کسی بھی کرکٹ ٹیم کے لئے ورلڈ کپ سے قبل کھیلی جانے والی سیریز بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس میں کامیابی حاصل کرے یا کم از کم ایسی پرفارمنس تو ضرور دے جس سے وہ شائقین کرکٹ کو مطمئن کرسکے مگر پاکستان کرکٹ ٹیم ایسا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی پاکستان کی ٹیم نے ورلڈ کپ سے قبل میزبان ملک انگلینڈ کے خلاف بھی سیریز کھیلنی ہے جس کا آغاز واحد ٹی ٹونٹی میچ سے ہوگا جبکہ دونوں ٹیموں کے درمیان پانچ ون ڈے میچز بھی کھیلے جائیں گے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ کارکردگی کے پیش نظر کیا ٹیم انگلینڈ کے خلاف سیریز جیتنے میں کامیاب ہوجائے گی مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اس کے لئے بہت زیادہ محنت درکار ہوگی موجودہ کارکردگی کو سامنے رکھتے ہوئے تو لگتا ہے کہ پاکستان کی ٹیم کے لئے انگلینڈ کے خلاف جیتنا کسی بہت بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ مکی آرتھر نے آسٹریلیا کیخلاف سیریز میں نوجوان کھلاڑیوں کوموقع دینے کے حوالے سے اپنا موقف تو دیدیا ہے کہ ان کوکھلانا کا مقصد ان کی کارکردگی کو جانچنا تھا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی اہم سیریز میں ہی ایسے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو جانچنا بہت ضروری تھا جس میں سینئر کھلاڑیوں کو ہر صورت میں ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے تھا اگر مقابلہ کسی کمزور ٹیم کے ساتھ ہوتا یا ورلڈ کپ سر پر نہ ہوتا تو شائد ان کا یہ فیصلہ درست ثابت ہوتا مگر ایسے وقت میں تو ایک اچھے کوچ کی سوچ تو یہ ہونی چائیے کہ وہ ایک مضبوط ٹیم کو ہی میدان میں اتارے آسٹریلیا سے سیریز ہارنے کا پاکستان کی ٹیم کو مستقبل میں نقصان ہوسکتا ہے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو ٹیم کی اتنی بری شکست پر ٹیم مینجمنٹ سے ضرور رپورٹ طلب کرتی چائیے اور اگر ٹیم نے ورلڈ کپ میں عمدہ پرافارمنس کا مظاہرہ کرنا ہے تو ایسے تجربات کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔دوسری طرف کھلاڑی فٹنس مسائل کاشکار ہیں ورلڈ کپ میں سلیکشن کمیٹی کو کھلاڑیوں کو میرٹ پر ٹیم میں شامل کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے کوئی دباؤ یا سفارش کاعمل دخل نہیں ہونا چاہئیے مکی آرتھر نے اس حوالے سے دعوے تو بہت کئے ہیں اور اس سے قبل بھی کرتے آئے ہیں مگر آسٹریلیا کیخلاف سیریز میں ان کے تمام دعوؤں کی قلعی کھل کر سامنے آگئی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ورلڈ کپ کے لئے کیسی ٹیم تشکیل دی جاتی ہے اور اس حوالے سے کھلاڑیوں کی فٹنس کو کتنا مدنظر رکھاجاتا ہے بہرحال ورلڈ کپ سے قبل پاکستانی ٹیم کی آسٹریلیا کے خلاف کارکردگی صفر ثابت ہوئی ہے اور اس حوالے سے ٹیم مینجمنٹ سے پوچھ گچھ ضرور ہونی چاہئیے تاکہ مستقبل میں ایسے فیصلے کرنے سے گریز کیاجائے۔دوسری جانب قومی کر کٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھرکے پاکستان ٹیم کوچنگ کے 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ کوچ مکی آرتھر کاپاکستان ٹیم کے ساتھ تین سالہ دورناکامیوں کی عبرتناک داستان ہے،28 ٹیسٹ میں17 ہارے،صرف 10 جیت سکے۔ 55ون ڈے میچزمیں 28 میں شکست اور 26 میں فتح نصیب ہوئی۔ مکی آرتھر 2016 کے دورہ انگلینڈ سے قبل پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ مقررہوئے تھے۔ان کی ٹرم ورلڈکپ کے بعدختم ہوگی۔ مکی آرتھرکاتین سالہ دورپاکستان ٹیم کی ناکامیوں کی عبرت ناک داستان ہے۔تین سالہ دورمیں قومی ٹیم 2016 میں مختصر وقت کے لیے ٹیسٹ کی ٹاپ ٹیم بنی تھی۔مکی آرتھر کی کوچنگ میں قومی ٹیم کو 28 ٹیسٹ میں 17 میں شکست ہوئی۔ صرف 10 میں فتح حاصل کرسکی۔ان میں سے ایک کامیابی ٹیسٹ کرکٹ میں قدم رکھنے والے آئرلینڈکے خلاف تھی۔ یو اے ای کے فیورٹ میدان پربھی پاکستان ٹیم نیوزی لینڈ اورسری لنکاسے سیریزہارگئی۔55ون ڈے انٹرنیشنل میں پاکستان کو28 میں ناکامی اور26 میں کامیابی نصیب ہوئی۔ 26 میں فتوحات میں آئرلینڈ، ویسٹ انڈیز، زمبابوے اورافغانستان کے خلاف چودہ میچ شامل ہیں۔ ایشیاکپ میں افغان ٹیم سے بھی پاکستان بمشکل آخری اوور میں ایک وکٹ سے جیت سکا۔ جنوری 2018 سے ورلڈکپ میں شامل ٹیموں کے خلاف 22 میچوں میں پاکستان 18 میں شکست سے دوچارہوا،اورصرف چار جیت سکا۔مکی آرتھرکی کوچنگ میں پاکستان نے صرف ٹی ٹوئنٹی میں بہترکارکردگی پیش کی۔ اس دوران26 ٹی ٹوئنٹی میچز میں سرفرازالیون20 جیتی اورچھ ہاری۔ سرفرازپر پابندی کے دوران واحدناکامی جنوبی افریقاسے سیریز میں ہوئی۔دوسری جانب وہاب ریاض کا مسلسل تیسرا ورلڈکپ کھیلنے کا خواب ٹوٹ گیا جب کہ سلیکٹرز نے پاکستان ون ڈے کپ میں پرفارمنس کو دیکھے بغیر ہی ممکنہ 23کھلاڑیوں کی فہرست سے باہر کردیا۔راولپنڈی میں پاکستان ون ڈے کپ میچ میں خیبرپختونخوا کی نمائندگی کرتے ہوئے فیڈرل ایریاز کی 5وکٹیں اڑانے والے وہاب ریاض نے ایک روز قبل ہی پریس کانفرنس میں ورلڈکپ کھیلنے کا عزم ظاہر کیا۔ان کا کہنا تھا کہ 2میگاایونٹ کھیل چکا، کارکردگی بھی اچھی رہی،گزشتہ ایک سال میں جتنی بھی لیگز کھیلیں،کافی بیٹسمین آٹ بھی کیے، فارم اور فٹنس کو بھی برقرار رکھا، 50اوورز فارمیٹ کے پاکستان کپ میں بھی اچھا آغاز کرنے میں کامیاب ہوا۔وہاب نے کہا کہ کیریئر میں تیسری بار ورلڈکپ میں ملک کی نمائندگی کیلئے پر عزم ہوں، پوری کوشش ہوگی کہ اپنی کارکردگی سے سلیکٹرز کو متاثر کروں لیکن یہ سب امیدیں حسرت میں بدل گئیں، گزشتہ روز فٹنس ٹیسٹ کیلیے ممکنہ 23کھلاڑیوں کی فہرست جاری کی گئی تو ان کا نام موجود نہیں تھا۔جبکہ نوجوان بلے باز عابد علی کی فٹنس کے حوالے سے چھائے خدشات کے بادل چھٹ گئے۔آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے سیریز کے چوتھے میچ میں ڈیبیو کرتے ہوئے عابد علی نے شاندار سنچری جڑکر روشن مستقبل کی نوید سنائی لیکن پانچویں مقابلے میں جنید خان کی گیند پر شان مارش کا شاندار ڈائیونگ کیچ لینے کے دوران کہنی بڑی شدت کیساتھ زمین سے ٹکرائی، کندھے میں خاصی تکلیف کی وجہ سے انھیں میدان سے باہر جانا پڑا۔فزیو نے انجری کا جائزہ لینے کے بعد طبی امداد دی، بعد ازاں بیٹنگ کیلئے آئے تو پہلی ہی گیند پر آوٹ ہوگئے، ڈریسنگ روم میں بھی انھیں بازو پر پٹی باندھے دیکھا گیا۔عابد علی پاکستان ون ڈے کپ میں خیبرپختونخوا کی جانب سے فیڈرل ایریاز کی جانب سے ایکشن میں تھے لیکن ان کی اننگز20 رنز تک محدود رہی، خیبرپختونخوا ٹیم ذرائع کے مطابق عابدعلی دبئی میں ہونیوالی انجری سے مکمل طور پر نجات پاچکے ہیں، فزیو نے کوئی اسکین کروانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی، اوپنر کندھے کی ہلکی پھلکی ورزش جاری رکھے ہوئے ہیں، بیٹنگ کے دوران کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں کررہے۔ جبکہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اظہر علی نے کہا ہے کہ کسی بھی ٹورنامنٹ میں پاکستان کو کمزور حریف خیال نہیں کیا جاسکتا۔ قومی ٹیم کے ٹیسٹ کرکٹراظہر علی نے کہا کہ کپتان سرفراز احمد کو باصلاحیت کرکٹرز کی خدمات میسر ہیں، پاکستان کی بولنگ ہمیشہ سے مضبوط رہی ہے، چیمپئنز ٹرافی میں اس کی جھلک بھی نظر آئی، ورلڈ کپ میں بھی گرین شرٹس سے توقعات وابستہ ہوں گی لیکن ٹاپ آرڈر کو بڑے اسکور کیلیے اچھی بنیاد فراہم کرنا ہوگی تاکہ بولرز کو اپنی صلاحیتوں کے بھر پور اظہار کا موقع مل سکے۔انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں بھارت، پاکستان، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں فیورٹ ہوں گی، کیویز بھی اکثر چھپے رستم ثابت ہوتے ہیں، گرین شرٹس ردھم میں آ گئے تو حریفوں کو زیر کرتے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فخر زمان اور امام الحق جیسے اوپنرز سامنے آنے کے بعد ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا بروقت فیصلہ کیا، پوری توجہ ٹیسٹ میچز پر مرکوز رکھنا چاہتا ہوں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...