جنوبی وزیرستان میں لشمینیا مچھر کے کاٹنے سے سینکڑوں افراد شدید متاثر

جنوبی وزیرستان میں لشمینیا مچھر کے کاٹنے سے سینکڑوں افراد شدید متاثر

ٹانک(نمائندہ خصوصی)جنوبی وزیرستان میں لشمینیا مچھر کے کاٹنے سے سینکڑوں افراد شدید متاثر ہوگئے ملیریا، لشمینا سمیت دیگر امراض کیلئے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے مچھر مار سپر ے کے کروڑوں روپے خرد بردکی نذر ،ہیلتھ آفیسر جنوبی وزیرستان اپنے دفتر میں ڈیوٹی سرانجام دینے کے بجائے پشاور کی رنگینوں میں غائب تفصیلا ت کے مطابق پچھلے کئی ماہ سے جنوبی وزیرستان کے علاقہ کوٹکائی ، بدر ، مکین ،کانیگرم ، کڑامہ،سراروغہ شنکئی ، شکتوئی ، شوال سمیت دیگر علاقوں میں لشمینیا مچھر کے کاٹنے سے متعدد افراد متاثر ہوگئے جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جنوبی وزیرستان کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے متاثرہ افراد بے یا ر ومدد گار کسی مسیحا کے منتظر ہیں علاقہ میں مچھر مار اسپرے نہ ہونے کے باعث لشمینیا مرض کے ساتھ ساتھ ملیریا ، ٹائیفائیڈ جیسے موضی امراض کا شکار ہوکر جاں بحق ہوچکے ہیں فوگ اسپرے کی مدد میں کروڑوں روپے کی خطیر رقم کو کاغذی کارروائی تک محدود کرکے کرپشن کی نظر کردیاگیا قبائلی رہنما ملک اے ڈی محسود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ او جنوبی وزیر ستان کی نااہلی کی وجہ سے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں اورموصوف علاقہ کادورہ کرنے کے بجائے پشاور کی رنگینوں میں غائب ہوکر سیر وتفریح کے مزے لوٹ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ڈائریکٹریٹ فاٹا کی جانب سے لشمینیا مرض کے علاج کیلئے محکمہ صحت جنوبی وزیر ستان کو فراہم کردہ تین سو گلوکینٹین انجیکشن منظور نذر افراد کی نظر کردی گئیں لشمینیا ، ملیریا سمیت دیگر موضی امراض کی اودیات ناپید ہوچکی ہیں انکا کہناتھا کہ آپریشن زدہ قبائلی عوام بازار سے مہنگے داموں ادویات خریدنے پر مجبور ہوچکے ہیں جبکہ بیشر لوگ مہنگی ادویات خریدنے کی سکت نہیں رکھتے انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا، صوبائی وزیر صحت سمیت دیگر تحقیقاتی اداروں سے فوگ اسپرے اور ادویات کی مد میں خرد برد کی تحقیقات سمیت جلد مچھر مار اسپرے کرنے کا مطالبہ کیاہے تاکہ جنوبی وزیرستان میں لشمینیا سمیت دیگر امراض کا خاتمہ ہوسکے انہوں نے کہا کہ بصورت دیگر صوبائی وزیرصحت کی سر د مہری کے خلاف 10اپریل کوپولیٹیکل کمپاؤنڈ میں طلب کردہ گرینڈ جرگہ میں آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...