”سارا معاشرہ کرپٹ، میں جب وزیراعظم صاحب اور اسد عمر سے بات کرتاہوں تو اب انہیں بھی احساس ہوگیا کہ ۔ ۔ ۔“صدر مملکت بھی تبدیلی کے واضح آثار دکھائی نہ دینے پر بول پڑے

”سارا معاشرہ کرپٹ، میں جب وزیراعظم صاحب اور اسد عمر سے بات کرتاہوں تو اب ...
”سارا معاشرہ کرپٹ، میں جب وزیراعظم صاحب اور اسد عمر سے بات کرتاہوں تو اب انہیں بھی احساس ہوگیا کہ ۔ ۔ ۔“صدر مملکت بھی تبدیلی کے واضح آثار دکھائی نہ دینے پر بول پڑے

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ میری ایک خواہش  اور ایک حقیقت ہے ،خواہش تھی  کہ جب حکومت آئے گی تو چند ماہ میں وہ سمت مل جائے گے کہ تبدیلی محسوس ہونے لگی ہے ، میں جب وزیراعظم صاحب سے بات کرتاہوں اور اسد عمر سے معیشت کے اعتبار سے بات کرتاہوں، اب ہمیں اور انہیں بھی احساس ہورہاہے کہ اس سمت کا ہم نے تعین کرلیا لیکن معیشت کے انجن کی رفتار بڑھانے میں تھوڑا وقت لگے گا۔

ہم نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں صدر مملکت نے کہا کہ  میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ہی ہوگا، دوچار چیزیں بڑی اہم ہیں، موجودہ حکومت نے کرپشن کو پکڑا، اس کرپشن کو پکڑنے کے اندر سب اداروں میں یکجانیت رہی ، سپریم کورٹ ہو، پی ٹی آئی یا پھر حکومت ، ساری پارٹیز بھی زبانی طورپر کرپشن کیخلاف بات کرتی ہیں، وزرا سمیت  کئی لوگ  گرفتار ہیں، ہم یہ طے کر لیں کہ پاکستان کرپشن کیساتھ چل نہیں سکتا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے آخری دنوں میں گرفتاریاں ، نیب آزاد ادارہ ہونے اور موجودہ حکومت کا تعلق نہ ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں صدر مملکت کا کہناتھا کہ حکومت نے ہی نیب آزاد چھوڑا ہے ، یہ نہیں  کہا کہ چھوڑ دیں، یہ کامیابی پاکستان کی ہے ۔ ہماری پارٹی شروع سے لے کر اب تک اپنے موقف پر کھڑی ہے ، کرپشن رکے گی نہیں لیکن کم ہوجائے گی، مقصد بھی کم کرناہے ، میں اس بات سے واقف ہوں، اثرات تب دکھیں گے جب پیسہ بچے گا، بہت سے ادارے فیصلوں سے ڈر گئے ہیں، وہ بھی بہت بری چیز ہے ، یعنی جب پوچھ گچھ شروع ہوئی تو بیوروکریسی اب فیصلوں سے ڈررہی ہے ، میں یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ بیوروکریسی نہ ڈرے ، انصاف کی بنیاد پر اسے کسی چیز پر اعتراض ہوتو فائل میں لکھ دے کہ یہ کام نہیں کرسکتا۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ سارا معاشرہ کرپٹ ہے ، صرف بیوروکریسی نہیں، جس کو موقع ملا، اس نے کرپشن کی، ڈیڑھ ہزار  مثالیں ہیں کہ کس نے کتنی کرپشن کی، بڑا تعجب ہوتا ہے کہ انسان اپنی ساری عقل انہیں شرارتوں میں صرف کرتا ہے ، اگر حلال کی طرف سے صرف کرے تو کتنا فرق پڑے ۔

مزید : قومی


loading...