’’آسانیاں ‘‘

’’آسانیاں ‘‘
’’آسانیاں ‘‘

  


میری اشفاق احمد صاحب سے محض دو ملاقاتیں ہوئیں ۔ اکتوبر 1997 اور دسمبر 2003 میں ۔ تین چار گھنٹوں پر محیط تفصیلی ملاقاتیں ۔ تین چار بار خط و کتابت ہوئی ۔ ان کے مقبول ترین کردار اور پروگرام ' تلقین شاہ ' کی بابت بہت سنا اور پڑھا مگر نہ کبھی پروگرام سننے کا اتفاق ہوا اور نہ ہی کتابی شکل میں پڑھنے کا دل ہوا ۔ اسی طرح ' زاویہ ' دیکھنے اور سننے کا موقع بھی کم کم ملا ۔ لیکن ان کی وفات کے بعد جب ' زاویہ ' کتابی شکل میں آئی تو اسے پڑھ کر اسے گھول کر پینے کا دل خود بخود ہونے لگا ۔ سنا ہے بحیثیت افسانہ نگار ان کی شہرت ' گڈریا ' کے بعد پروان چڑھی اور بحیثیت ڈرامہ نگار  ’ایک محبت سو افسانے ‘ نے ان کی شہرت کو چار چاند لگائے ۔ مجھے یہ سب کچھ بہت بعد میں پتہ چلا ۔ ہم سب کو ہی بہت کچھ بہت بعد میں پتہ چلتا ہے  مگر میری اشفاق احمد صاحب سے محبت کا آغاز 1980 ، 1981 میں ہوگیا تھا ۔

’اور ڈرامے ‘ سیریز کے اور طرح کے ڈرامے دیکھ دیکھ کر ۔ پھر 1982 میں ان کی سفر نامہ نما کتاب ' سفردرسفر ' پڑھی تو محبت میں اضافہ ہونا شروع ہوا ۔ لیکن فل اینڈ فائنل فل اسٹاپ، ' من چلے کا سودا ' دیکھنے اور ' زاویہ ' پڑھنے کے بعد لگا ۔ گو یقینا اشفاق احمد صاحب سے بہت بڑے اور بہت اچھے اور اثر انگیز لکھاری اور بول چال کے ماہر گزرے ہیں اور موجود ہوں گے اور آئندہ بھی آتے رہیں گے ۔ لیکن شاید جتنے رنگ، جتنی جہتیں، جتنے زاویے اشفاق احمد صاحب کی شخصیت میں قدرت نے رکھے تھے اتنے کسی اور صاحب طرز ادیب و دانشور میں نہ رہے ہوں ۔ اور پھر زندگی کے ہر مقام پر، اس لمحے کے رنگ اور زاویے کو بھرپور پذیرائی بھی ملی ہو ۔ شہرت، عزت، مقبولیت، اور دولت ، قدرت کی ان چاروں نعمتوں کو بھی بہت کم اردو زبان کے کسی لکھاری کے دامن میں ڈالا گیا ہے ۔ اپنی اپنی زندگی میں تو بہت سوں کو بہت کچھ عطا ہوا مگر مٹی پڑتے ہی کچھ کا نام رہ گیا تو کچھ کا کام ۔ ہر کسی کے حصے میں سب کچھ نہیں آ پایا ۔ کسی کے حصے میں کبھی بھی سب کچھ نہیں آ پاتا ۔ عزت ملتی ہے تو شہرت پاس نہیں ہوتی ۔ شہرت کا آسمان چھولیتے ہیں تو عزت کے بخیئے ادھڑنے لگتے ہیں ۔ مقبول ہوتے ہیں تو وہ آنکھیں بند ہوتے ہی لائم لائٹ سے پردہ کر جاتے ہیں ۔ دولت پاس ہو تو عزت اور شہرت خریدنے کے باوجود مقبولیت نہیں مل پاتی ۔

اردو زبان و ادب میں کچھ اسی طرح کی کہانیاں ہیں ۔ بڑے بڑے ناموں سے پورا صفحہ بھر جائے گا مگر جب ہم ان سب ناموں کے حالات زندگی پر نظر ڈالیں گے تو ہمیں ان کے کچھ نہ کچھ حاشیے خالی یا ادھورے ملیں گے ۔ اور اگر ڈھونڈے سے دو چار نام بھاری بھرکم حوالوں والے مل بھی جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کی خانگی اور گھریلو زندگی تنہائی اور ابتری میں گزری ہے ۔ یہاں ان گنت مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں مگر مقصد موازنہ نہیں بلکہ ایک حقیقت کا اظہار ہے ۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ اردو زبان کے دانشوروں اور ادیبوں اور لکھاریوں کے حوالے سے میری معلومات مکمل طور پر درست ہوں اور تاریخ میں ایسے بھی نہایت کامیاب و کامران و شاد آباد لکھنے والے گزرے ہوں جن کی زندگی کے لگ بھگ تمام گوشے اپنی زندگی میں بھرپور رہے ہوں اور آج بھی وہ عوام و خواص میں مقبول ہوں ۔ یہ عنایت بھی بہت کم لوگوں کو ملتی ہے کہ ان کا لکھا ہوا معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کرے ۔ اَن پڑھ، جاہل، اجڈ، گنوار، سے لے کر ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، وکیل، بینکر، بزنس مین، بیوروکریٹ، کرنل، جنرل اور حکمران وقت تک سبھی اس لکھاری و دانشور کے خیالات اور فلسفوں سے متاثر ہوں ۔ بڑے بڑے مشہور اور مقبول رائٹرز کو سوسائٹی کے ہر طبقے میں یکساں پذیرائی نہیں مل پائی ۔

بہت اچھا ، بہت خوبصورت لکھنے والے بھی مخصوص حلقوں کی ریڈر شپ اور خاص الخاص ذہنوں، عمروں اور دلوں کو ہی اپنی گرفت میں لے پائے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ قدرت کسی بھی عہد ، کسی بھی زمانے میں ، کسی خاص وقت میں کروڑوں، اربوں لوگوں میں سے دو چار لوگوں کو ہی کیوں صف اول میں رکھتی ہے ۔ اور ان کو ایسی دو چار اضافی خوبیاں اور منفرد صلاحیتیں عطا کرتی ہے جو اس زمانے کے اور اس زمانے سے بہت بعد کے زمانوں تک کے لوگوں کے حصے میں نہیں آتیں ۔ زندگی کے ہر شعبے، ہر میدان میں گنتی کے دو چار افراد ہی اپنی منفرد اور اپنے عہد کے باقی لوگوں سے الگ اور انوکھی سوچ، رویوں اور افعال کے حامل ہوتے ہیں ۔ اور اپنے عہد کے لوگوں کی بھرپور تنقید کا نشانہ بنتے ہیں مگر اپنے منتخب کردہ راستے کی رکاوٹیں دور کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔ آخری سانس تک اپنے پیشن ، اپنے پروفیشن ، اپنے مقصد حیات میں لگے رہتے ہیں ۔ خواہ وہ کچھ بھی ہو ، کیسا بھی ہو  اور بظاہر اس کا نتیجہ کچھ بھی اور کیسا بھی کیوں نہ نکل رہا ہو ۔

بات تھوڑی سی آگے بڑھاتے ہیں ۔ اشفاق احمد صاحب کی جگہ مثال کسی مغربی باشندے کی بھی دی جا سکتی تھی ۔ کہ عام طور پر ہم جیسی احساس کمتری کی ماری قوم ، اپنے اندر جھانکنے کی بجائے ، اپنے اپنوں اور اپنے خالص روایتی رنگوں کو اپنا آئیڈیل بنانے کی بجائے غیر ملکی تہذیبوں اور ثقافتوں کی پوجا کرنا اپنا مذہبی فریضہ اور اخلاقی ذمہ داری سمجھتی ہے ۔ لیکن اس صورت میں جو بات آپ تک پہنچانی تھی ، وہ صاف و شفاف انداز میں نہیں ہو سکتی تھی ۔ اشفاق احمد صاحب نے ' سفردرسفر ' میں اپنے مخصوص انداز میں ، خوبصورت الفاظ کی مدد لے کر جو مرکزی خیال 1982 میں قارئین کے سامنے پیش کیا ۔ وہی خیال برازیل کے ایک لکھاری نے سات سال بعد 1989 میں اپنے ایک ناول میں ، ذرا مختلف انداز میں ، ذرا مختلف الفاظ سے ظاہر کیا ۔ اس لکھاری کے نام سے آج کروڑوں لوگ واقف ہیں اور اس کا وہ اولین ناول ، جو اپنے پہلے ایڈیشن کے بعد فلاپ قرار دے دیا گیا تھا ، آج تک سو سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو کر کروڑوں کی تعداد میں فروخت ہو چکا ہے اور ادب کی دنیا میں قدم رکھنے والا ہر نووارد اور طالب علم اس ناول کو پڑھے بنا اپنے مطالعے کو ادھورا سمجھتا ہے ۔

دوسری طرف ’ سفردرسفر ‘ کا سفر بڑا محدود رہا ۔ اشفاق احمد صاحب کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد بھی ان کی اس کتاب کے مطالعے سے شاید محروم ہے یا اس کے علم میں یہ کتاب ہے ہی نہیں ۔ زیادہ تر لوگوں کے نزدیک اشفاق احمد صاحب کی شناخت ، پہچان اور شہرت کے حوالے ’ گڈریا ‘ ، ’ ایک محبت سو افسانے ‘  اور ’ زاویہ ‘ ہیں  اور وہ بھی مقامی اور اردو زبان و ادب سے شغف رکھنے والوں کی ایک محدود تعداد ہی ، جب کہ برازیل کے ناول نگار کا نام آج کل دنیا کے چپے چپے کے بچے بچے کی زبان پر ہے ۔ فیشن کہہ لیں یا کریز یا لمحے کا جادو ۔ یہ سب باتیں بظاہر آپ کو ذرا بے ربط دکھائی دے رہی ہوں گی اور یہ سچ بھی ہے ۔ کہاں بین الاقوامی شہرت و مقبولیت و عزت و دولت کے آسمان کو چھوتا ہوا ، ادب اور ادیب اور کہاں ملکی سطح پر متوسط فن و تحریر کی قدغن میں الجھا ہوا دانشور ؟ جسے اس کے ہمعصر بھی تمام عمر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ۔ یہاں بھی دونوں ادیبوں اور ان کے تخلیق کردہ ادب کا موازنہ ، اس تحریر کا مقصد نہیں ۔ تقابل اور موازنہ سے کبھی کچھ حاصل نہیں ہوتا ،  قدرت کی ہر اکائی کا رنگ الگ ہوتا ہے ۔

دونوں ادیبوں نے اپنے قلم سے اپنے نصیب کی دولت، عزت، شہرت کمائی ۔ دونوں نے ہزاروں کہانیاں لکھیں،اَن گنت کردار تخلیق کئیے ، انداز اور الفاظ اور زبان کے مختلف ہونے کے باوجود ، بیان اور خیال اور فکر کے مختلف ہونے کے باوجود ، دونوں نے انسان کے اندر کی تنہائی اور تضاد کو ھائی لائٹ کیا اور اپنے اپنے نظریات اور فلسفہ حیات کی روشنی میں انسان کے روحانی کرب اور مسائل کا حل پیش کیا ۔ ان تمام حلوں میں ایک نکتہ مشترک ہے ۔ آسانی کا ، ایک دوسرے کی مدد کا ، ایک دوسرے کے لئیے آسانیاں پیدا کرنے اور مستقل کرتے رہنے کا ، ایک دوسرے کو اپنا وقت اپنی محبت دینے کا ، ایک دوسرے کی بات اور دل کا حال سننے کا ، ایک دوسرے کو راست بات بتانے اور درست مشورہ فراہم کرنے کا  کہ یہی ایک نکتہ ہمارے اندر کی تنہائی کو ختم کرتا ہے،خواہ ہمارا تعلق دنیا کی کسی بھی قوم سے ہو ؟ ہمارا رنگ ، ہماری نسل ، ہمارا قبیلہ کچھ بھی ہو ، کیسا بھی ہو ؟ ہماری جنس ، ہماری عمر ، ہماری تعلیم ، کچھ بھی ہو ؟ یہی ایک نکتہ انسان کو نہ صرف انسان سے بلکہ قدرت کے آفاقی نظام سے جوڑتا اور مربوط کرتا ہے  اور ہمیں آفاقی سوچ عطا کرتا ہے جو رنگ، نسل، قوم، زبان کے فرق اور فرقوں و طبقوں کی تفریق سے آزاد ہوتی ہےاور انسان کو دوسرے انسانوں سے محبت کرنا سکھاتی ہے  اور انسانیت پر یقین کو مستحکم کرتی ہے ۔

یہ آفاقی سوچ جب ایک فرد میں جنم لیتی ہے تو اس کے دل میں روشنی پیدا ہونے لگتی ہے اور اسے زندگی کے اندھیروں میں بھی امید اور اطمینان کی کرنیں پھوٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور جب کوئی گروہ یا معاشرہ اس سوچ کا حامل ہو جاتا ہے تو دور دور سے علم و فن و ہنر کے پروانے ، آسانیاں سمیٹنے اور اپنی زندگیوں کو آسان و پر سکون بنانے کے لئیے آسانیاں بانٹنے والے معاشروں کے چکر لگانے شروع کر دیتے ہیں اور اپنے صدیوں پرانے رہائشی علاقے چھوڑ کر آفاقی سوچ کی حامل بستیوں میں آ بستے ہیں ،دینے ، بانٹنے اور آسانیاں تقسیم کرنے اور محبت و اخوت کی روشنی کو عام کرنے کی سوچ اور فکر کسی مذہب ، کسی تہذیب ، کسی خاص نظریہ حیات کی میراث نہیں ،جس فرد ، جس قوم ، جس مذہب نے اس سوچ اور انداز کو اپنایا اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالا، اسے قدرت نے پھر نوازنا شروع کر دیا ۔ دولت، عزت، شہرت اور مقبولیت،ہر اس فرد ، قوم اور معاشرے کے آنگن میں اترنا شروع ہو جاتی ہے جو یہ نکتہ، یہ فلسفہ جان لیتا ہے کہ خلق خدا کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہی درحقیقت ہماری زندگی کا مطمع نظر ہونا چاہئیے ۔

ہماری ہر بات ، ہمارے ہر کام کی نیت یہی ہونی چاہئیے ۔ دل سے اس راستے پر چلنے اور چلتے چلے جانے سے ہمارے دل سے دولت ، عزت ، شان و شوکت ، شہرت ، جاہ و جلال ، سب دنیاوی حوالوں کی طلب اور خواہش ختم ہونے لگتی ہے اور ہماری زندگی سادہ اور آسان ہونے لگتی ہے،ہماری تنہائی مٹنے لگتی ہے ۔ ہمارے اندر سے اکیلے پن کا احساس ختم ہونے لگتا ہے ،ہماری روح ہلکی اور شاداب ہوجاتی ہے ، پھر جب ایک عمر بیتتی ہے سادگی ، سچائی اور آسانی کی سوچ اور فکر اور عمل کے ساتھ اور اس سوچ ، فکر اور عمل سے دوسروں کی زندگیوں میں بھی آسانیاں پیدا ہونے لگتی ہیں تو رحمت اور برکت کے دروازے کھلنا شروع ہو جاتے ہیں اور بن مانگے اللہ تعالی کی نعمتیں ہمارے لیئے آنا شروع ہو جاتی ہیں ۔

تصوف کے سفر نے اشفاق احمد صاحب کو اور زندگی کے تلخ تجربات اور ہجرت نے برازیل کے ناول نگار پاولو کوئھیلو کے دل کو اسی آفاقی سوچ کا حصہ بنا دیا ۔ اشفاق احمد آج ہمارے درمیان نہیں ۔ پاولو کوئھیلو آج بھی اپنی تحریروں سے بیچین روحوں کی پیاس بجھا رہا ہے ۔ میری روح کی تسکین کے لئیے تو قدرت نے کچھ پڑھنے ، کچھ سیکھنے ، کچھ لکھنے ، کچھ پڑھوانے ، کچھ سکھانے ، کچھ بتانے کا انتظام کر دیا ہے کہ اس طرح دو چار لوگوں کی زندگی بھی آسان ہو جائے اور ان کا کوئی مسئلہ حل ہو جائے تو میرے لئیے بھی قدرت کی رحمتوں اور برکتوں کا سلسلہ جاری ہو ۔ آپ بھی ذرا سوچئیے گا ۔ اس آفاقی سوچ کو اپنانے کا اور اپنی زندگی کو سادہ اور آسان اور شاداب بنانے کا ۔ کہ آپ کے لئیے قدرت نے آسانیاں پھیلانے کے لئیے کون سا راستہ رکھا ہے ۔

(ڈاکٹر صابر حسین خان شہر قائد میں رہائش پذیر اور ملک کے مشہور ماہر نفسیات ہیں ،علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے ہیں اور مختلف قومی و عوامی مسائل پراخبارات میں ان کے کالمز شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ فیڈ بیک اور دیگر مسائل کے  کے لئے وٹس ایپ نمبر 03456680988 پر ڈاکٹر صابر حسین خان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔) 

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...