لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ لڑکوں کی بد تمیزی ، ہائر ایجوکیشن کمیشن سے کارروائی کا مطالبہ

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ لڑکوں کی بد تمیزی ، ہائر ...
 لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ لڑکوں کی بد تمیزی ، ہائر ایجوکیشن کمیشن سے کارروائی کا مطالبہ

  


لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں انٹر یونیورسٹیز مقابلے کے دن طالبات کے ساتھ لڑکوں کی بدتمیزی ، طالبات نے انصاف کے حصول کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹادیا ۔

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی طالبات نے سیکرٹری ہائر ایجو کیشن کمیشن کو ارسال کئے گئے خط میں 28مارچ کو لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں منعقد کئے گئے انٹر یونیورسٹی مقابلے میں طالبات کے ساتھ پیش آنیوالے واقعات پر شدید تحفظات کا اظہار کیاہے ۔اس مقابلے کا سب سے زیادہ تشویشناک عمل یونیورسٹی کا گیٹ لڑکوں کیلئے کھولا جانا تھا ۔طالبات کے مطابق مقابلے کا دن یونیورسٹی کی تاریخ میں ایک ”بلیک ڈے“ تھا جب لڑکے نامناسب لباس میں یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور لڑکیوں کوہراساں کیا، طالبات کے جواب نہ دینے کے باوجود بھی لڑکے ان پر جملے کستے اور نامناسب اشارے کرتے رہے ۔اس صورتحال کودیکھ کر نہ صرف طالبات بلکہ ان کے ساتھ آنیوالے والدین بھی شدید پریشانی کا شکار ہوئے ۔

اپنے خط میں طالبات نے انتظامیہ کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایاہے کہ جس نے جانب بوجھ کر ان طالبات کو نظر انداز کیا جو اپنے ساتھی لڑکوں کو یونیورسٹی میں لائیں اور اُن کے ساتھ موج مستی کی ۔ طالبات نے بتایا کہ اس موقع پر ویژول آرٹس ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر رفعت ڈار کے یہ  ریمارکس بھی انتہائی افسوسناک تھے جب اُن کی طرف سے کہاگیا کہ ’’لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں لڑکوں کیلئے بڑی کشش ہے،ہم نے پیسوں کیلئے اس کو لڑکوں کیلئے کھولاہے ، چنانچہ لڑکیو تم بھی انجوائے کرو‘‘۔

طالبات کے مطابق ڈاکٹررفعت ڈار اس  واقعہ کی ذمہ دار ہیں جبکہ اس ایونٹ کا انعقاد بھی پیسے کمانے کیلئے کیاگیا تھا ۔طالبات نے اس موقع پر باہر سے آنیوالے لڑکوں کی جانب سے طالبات کی بغیر اجازت تصاویر بنانے پر انتظامیہ سے شکایت بھی کی لیکن کوئی نوٹس نہ لیا گیا جبکہ سیکیورٹی گارڈ ز بھی ان کوروکنے سے قاصر رہے ۔

طالبات نے ہائر ایجوکیشن اتھارٹی سے مطالبہ کیاہے کہ اس واقعہ کے ذمہ داران کیخلاف ایکشن لیتے ہوئے مستقبل میں ایسی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...