آئندہ بجٹ میں غیر ہنر مند مزدورں کی کم از کم تنخواہ 30 ہزار روپے مقررکی جائے:نیشنل لیبر فیڈریشن

 آئندہ بجٹ میں غیر ہنر مند مزدورں کی کم از کم تنخواہ 30 ہزار روپے مقررکی ...
 آئندہ بجٹ میں غیر ہنر مند مزدورں کی کم از کم تنخواہ 30 ہزار روپے مقررکی جائے:نیشنل لیبر فیڈریشن

  


اسلام آباد(صباح نیوز)نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مر کزی صدر شمس الر حمن سواتی نے کہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں غیر ہنر مند مزدورں کی کم از کم تنخواہ تیس ہزار روپے اور پنشن اور بڑھا پا الاؤنس پندرہ ہزار روپے مقرر کیا جا ئے ،مہنگائی میں دیے جا نے والے ایڈہاک الاؤ نسس کو بنیادی تنخواہ میں ضم کر کے مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضا فہ کیا جا ئے ،غیر ترقیاتی اخر جا ت ختم کیے جا ئیں ، ٹیکس چوروں اور ٹیکس پو ٹینشل لو گوں کو ٹیکس نیٹ میں لا یا جا ئے تو اس کے نتیجے میںسالانہ 8سے 10ہزار ارب روپے ٹیکس وصول کیا جا سکتا ہے ،اضلا ع میں قائم لیبر ویلفیئر کے اہلکاروں کو بھتہ خوری کی لت پڑی ہو ئی ہے  نوٹس لیا جائے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں پر یس کانفر نس سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔اس موقع پر آئیسکو لیبر یو نٹی کے صدر راجہ عاشق خان ، این ایل ایف اسلام آباد کے صدر ڈاکٹر تہذیب الحسن اور دیگرمزدور یو نینز کے نمائندے بھی بھی مو جو د تھے۔

نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مر کزی صدر نے کہا کہ6کروڑ 55لاکھ غیر منظم مزدور جو کھیت ، منڈی ، فشریز، بھٹے اور کانوں میں کام کر تے ہیں یہ بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہیںجو کہ ملک میں مزدوروں کا 82فیصد ہے اس سیکٹر کے لیے سوشل سیکیورٹی اور انھیں بحیثیت مزدور رجسٹرڈکیا جا ئے اور ان کی کم از کم تنخواہ کا تعین ،انھیں تنظیم سازی ، ای او  آئی بی اور ورکر ویلفیئر فنڈ کے دائرہ کا ر میں لایا جا ئے ۔شمس الرحمن سواتی نے کہا حکو مت بجٹ بناتے وقت حسب سابق مرا عات یافتہ طبقے سے مشاورت کی بجا ئے مزدورطبقے سے تجاویز لے کیو نکہ ہمیشہ بجٹ غر یب عوام اور مزدور طبقے پر بجلی بن کر گر تا ہے ، مہنگائی بے روزگاری اور آئے روز قیمتو ں میں اضا فے نے مزودر طبقے سے جینے کا حق چھین لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر محبوب الحق فارمو لے کے مطابق خود کار نظام اپنایا جا ئے جس شر ح سے مہنگائی میں اضا فہ ہو،اس شر ح سے از خود تنخواہوں میں اضا فہ ہو جائے،ایک کروڑ  ملازمتیں ،پچاس لاکھ گھر وں کا نعرہ محض ایک سراب دکھائی دے رہا ہے،حکو مت ٹیکس نیٹ بڑھا نے کی بجا ئے ماضی کی طر ح ٹیکسوں کا بو جھ جی ایس ٹی کی شکل میں براہ راست عوام پر لگا رہے ہیں ۔انھوں نے کہا یومیہ اُجرت اور ٹھیکداری نظام کو تحفظ دے کر بیگار کیمپوں کی حو صلہ افزائی کی گئی جو کہ دستور پاکستان کے مطابق بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے،ای او  آئی بی اور ورکر ویلفیئر فنڈ میں ہو نے والی کر پشن کے ذمہ داروں کا کڑا احتساب کیا جا ئے ۔ انھوں نے کہا اضلا ع میں قائم لیبر ویلفیئر کے اہلکاروں کو بھتہ خوری کی لت پڑی ہو ئی ہے ہزاروں صنعتی ادروں اور کروڑوں مزدوروں کو رجسٹرڈ نہیں کیا گیا۔ شمس الرحمن سواتی نے کہا  سیاسی مداخلت اور افسر شاہی کے کر توتوں اور کر پشن کے باعث اداروں کو تباہ کر دیا جا تا ہے اور ان کا احتساب کر نے کی بجا ئے ادارے کی نجکاری کر کے اس کی سزاء ملازمین کو دی جا تی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ نجکاری کی بجا ئے اداروں میں باصلا حیت ،دیانت دار افرد کو تعینات کیا جا ئے ۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...