کورونا سے بچنے کے لئے جیلوں میں ناکامی اقدامات

کورونا سے بچنے کے لئے جیلوں میں ناکامی اقدامات

  

کیمپ جیل سے 16قیدیوں کی رہائی کے بعد کورونا وائرس کی تصدیق سے کھلبلی مچ گئی

ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے ،پانچ اپریل تک وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 46 ہو چکی تھی۔ روزانہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کرونا وائرس کے 150سے زائد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ پنجاب میں کرونا وائرس کے 5اپریل تک سب سے زیادہ 1319 کیس سامنے آئے۔ سندھ میں 51 نئے کیس سامنے آنے کے بعد صوبے میں کیسوں کی کْل تعداد 881 جبکہ 743مریضوں کا علاج جاری ہے۔ خیبر پختونخوا میں 372، گلگت بلتستان میں 206، بلوچستان میں 189، اسلام آباد میں 78 اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں 14 کیس رپورٹ ہوچکے ہیں۔ مہلک وائرس سے متاثرہو کر سندھ میں 15، خیبر پختونخوا میں 14، پنجاب میں 13، گلگت وبلتستان میں تین ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ بلوچستان میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ 211 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ کرونا کے حوالے سے پنجاب کی جیلوں میں بھی قیدیوں کی حالت زار انتہائی خراب دکھائی دیتی ہے گزشتہ دنوں لاہور کی کیمپ جیل میں قید 16 قیدیوں کا رہائی کے فوری بعد کرونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد جیل انتظامیہ میں خوف کی لہر دوڑ گئی اور ان کی جانب سے ایڈیشنل چیف سکرٹری داخلہ کو جاری کیے جانے والے مراسلہ میں انتباہ کیا گیا کہ گذشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت کے بعد رہا ہونے والے 16 افراد کو لوگوں سے ملاقات سے روکا جائے اور جیل سے رہا ہونے والے ملزمان کو ان کے گھروں میں دو ہفتے کے لئے آئیسولیشن میں رکھا جائے، رہا ہونیوالوں میں محمد وقاص ولد رحمت علی گا ؤں چڑڑ، راشد وسیم گاؤں بھماں گاؤں لاہور، محمد زمان جڑانوالہ فیصل آباد، غلام احمد شاہکوٹ ننکانہ، مزمل جعفر سگیاں شاہدرہ، احمد سیماب ہربنس پورہ لاہور، سلطان مسیح کماہاں روڈ لاہور، محبوب علی کوڑے پنڈ والٹن، محمد قیصر اسلام پورہ، محمد ندیم پنجو کاہنہ لاہور، فرقان علی رینجرز ہیڈ کورٹر لاہور، عبدالرحیم عسکری الیون، افتخار علی سمن آباد، یاسین لال پل،زوالفقار علی باغبانپورہ، مقصود احمد غازی آباد لاہور شامل تھے۔ پہلے ان کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئیں کہ ان میں سے بعض اپنے گھروں میں نہیں پہنچ پائے، تاہم بعد ازاں پولیس نے انھیں تلاش کر کے گھر کے اندر ہی علیحدہ قر نطینہ میں بھجوا دیا،مراسلے کے ساتھ 16 ملزمان کی مکمل تفصیلات بھی فراہم کی گئیں جو رہا ہو کر اپنے گھروں میں گئے جیل انتظامیہ نے آگاہ کیا ہے کہ رہا ہونے والے ملزمان سے مزید کورونا وائرس پھیلنے سے روکنے کے انتظامات کئے جائیں۔

لاہور کی کیمپ جیل سے ملزم کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے دوروز بعد مزید 26 قیدی موذی وائرس کا شکار ہو گئے ہیں، تاہم وائرس کے تصدیق شدہ قیدی تاحال کیمپ جیل میں ہی موجود ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے قیدیوں کے نمونے لئے گئے تھے جن کی ایک روز قبل رپورٹس آنے کے بعد ان میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ اگر ان قیدیوں کو ہسپتال منتقل نا کیا گیا تو دوسرے قیدیوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ واضح رہے اس سے قبل بھی کیمپ جیل کے ایک قیدی میں کوروناوائرس کی تصدیق سامنے آئی تھی۔جیل سپرنٹینڈنٹ اسد وڑائچ کے مطابق کیمپ جیل لاہور میں ایک قیدی کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا یہ قیدی گزشتہ ماہ اٹلی سے واپسی پر منشیات کیس میں پکڑا گیا تھا۔ قیدی نے 18مارچ کوبخار کی شکایت کی جس پر قیدی کا ٹیسٹ کروا کر جیل ہسپتال میں داخل کیا گیا اس طرح کیمپ جیل میں اب تک مجموعی طور پر 43کیسز سامنے آچکے ہیں پنجاب حکومت کو مزید قیدیوں کو اس خطرناک وائرس سے باقی قیدیوں کو محفوظ رکھنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات عمل میں لانے چاہیں۔

ملک بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جمعے کی نماز کے اجتماعات پر پابندی پر عمل در آمد کے لئے پولیس نے پورے ملک میں سخت لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا تو جیلوں میں اس پالیسی پر عمل درآمد کیوں نہیں کروایا جا سکتا۔ سندھ میں حکومت نے جمعہ کے روز دوپہر 12 بجے سے 3 گھنٹے کے لئے ’کرفیو نما‘ لاک ڈاؤن نافذ کیا تاکہ لوگوں کو نماز کے لئے گھروں سے باہر آنے سے روکا جاسکے۔ سندھ میں بلدیات و اطلاعات کے وزیر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ’حکومتوں کو عوام کی زیادہ سے زیادہ بھلائی کے لیے مشکل اور تکلیف دہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں‘۔جان کے تحفظ کے لیے تمام مکاتب فکر کے علما کے اجلاس کے بعد مساجد میں نماز جمعہ کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسزمیں روز بروز اضافہ تشویس ناک ہے اور حال ہی میں تبلیغی جماعت کے اراکین کے کیسز سامنے آنے سے مزید اضافہ ہوا جنہوں نے گزشتہ ماہ لاہور میں اجتماع منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اجتماع تو ملتوی کردیا گیا تھا تاہم اس وقت تک سیکڑوں افراد پہلے ہی احاطے میں پہنچ چکے تھے اور وہ وہیں ٹھہرے رہے۔وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کئی شہروں میں لاک ڈاؤن ہے اور سکول، کالج، یونیورسٹوں سمیت تمام غیر ضروری بیزنس، دفاتر اور فیکٹریاں بند ہیں۔ ایسے میں شہری اپنے گھروں تک محدود رہ گئے۔ اس عالم میں طلبہ بھی پریشان ہیں کیونکہ ان کی پڑھائی پر اثر پڑ رہا ہے۔

اعلیٰ تعلیم کے اداروں نے طلبہ کے لئے آن لائن کلاسوں کا انتظام تو کیا ہے، تاہم انٹرنٹ تک رسائی یا سپیڈ کم ہونا اور لوڈ شیڈنگ طلبہ کے لئے ایک اہم مسئلہ ہے۔کورونا وائرس نے دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ ہونے پر مجبور کردیا ہے، لوگ خود کو بچانے کے لیے اپنے گھروں میں خود ساختہ قرنطینہ میں چلے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے ساتھ آس پاس کے دیگر لوگوں کو اس وبا سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ یہ بات بھی نہیں بھلائی جائے گی کہ خورد و نوش کی مصنوعی قلت سے قبل ملک بھر سے فیس ماسک اور سنیٹائزر غائب ہو گئے دس روپے والا ماسک ساٹھ میں اور چار سو والا سنیٹا ئزر سولہ سو میں بیچا گیا۔ صرف یہ بات بھی فخر سے یاد کی جائے گی کہ چین سے کٹوں اور دیگر امدای سامان کے عطیہ اور فراہمی سے قبل فرنٹ لائن پر جنگ لڑنے والے ہمارے ڈاکڑ اور دیگر پیرا میڈیکل اسٹاف صرف کاغذی ماسک اور شاپر پہن کر کئی ہفتوں تک یہ جنگ لڑتے رہے جس کے نتیجہ میں کچھ ڈاکٹر اور نرسوں کو موت کے منہ جانا پڑا، لیکن انکی عظمت کو سلام کہ آج سب تندھی سے اپنے فرائض منصبی اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر قومی خدمت میں پیش پیش ہیں اور یہ بھی یاد رکھا جائے گا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اس جنگ کے فرنٹ لائن فائٹرز ڈاکٹروں اور نرسوں کو سلامی پیش کی گئی، اور یہ بھی کہ پولیس،وارڈن،آرمی اور دیگر فورسز انتہائی تندہی سے فرائض دیتی نظر آئیں اور ابھی بھی لگن سے مصروف عمل ہیں اس موقع پر رفاعی اداروں اور افراد کی خدمت کو بھی سلام پیش کیا جائے گا جو تنگی داماں اور حالات کے باوجود مفلسوں کے چولہوں کو روشن رکھنے میں مصروف عمل رہی یہ بھی یاد رکھا جائے گاایک طرف جہاں چین کورونا وائرس پر قابو پانے کے بعد کسی حد تک سکون کا سانس لے رہا ہے، وہیں دوسری طرف ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک کورونا وائرس کی وبا سے پریشان نظر آرہے ہیں اور صورتحال قابو سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ پوری دنیا کے حالات بجلی کی سی رفتار سے تبدیل ہو رہے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -