چینی کی برآمد پر سبسڈی کیوں دی گئی؟

چینی کی برآمد پر سبسڈی کیوں دی گئی؟

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آٹا، چینی بحران کے ذمے داروں کے خلاف فرانزک رپورٹ کے بعد کارروائی کروں گا، طاقت ور لابی عوامی مفادات کا خون کرکے منافع سمیٹنے کے قابل نہیں رہے گی گندم اور چینی کی قیمتوں میں یک لخت اضافے کی ابتدائی تحقیقات وعدے کے مطابق فوراً جاری کر دی گئی ہیں، تاریخ میں اس کی نظیر نایاب ہے۔ ذاتی مفادات کی آبیاری اور سمجھوتوں کی رسم نے ماضی کی سیاسی قیادتوں کو اس اخلاقی جرات سے محروم رکھا جس کی بنیاد پر وہ ایسی رپورٹوں کے اجرا کی ہمت نہیں کرتی تھیں ہم وعدے کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ رد و بدل کے بغیر سامنے لے آئے ہیں۔ انہوں نے یہ باتیں اپنے ایک ٹویٹ میں کہیں۔

ایف آئی اے کے سربراہ کی جو رپورٹ منظرِ عام پر آئی ہے اس میں چینی اور آٹے کے بحران کا ذمے دار وفاقی، پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومتوں کو ٹھہرایا گیا۔ چینی کی برآمد پر ملنے والی سبسڈی سے جن شوگر ملوں کے گروپوں نے فائدہ اٹھایا ان کے نام بھی رپورٹ میں دیئے گئے ہیں آٹے کے بحران کے ذمے داروں کا تعین بھی کیا گیا ہے لیکن اس رپورٹ کے مطالعے سے تشنگی کا ایک تاثر بھی ابھرتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ بعض معلومات جو میڈیا پہلے سے منظر عام پر لا چکا تھا ان پر تحقیقاتی کمیٹی نے نظر نہیں ڈالی یا پھر انہیں لائقِ اعتنا نہیں سمجھا حالانکہ ان میں سے بعض معلومات ایسی تھیں جو آٹے کے بحران کی بنیادی وجہ قرار دی جا سکتی ہیں، پنجاب میں ایسی فلور ملوں کو بھی سرکاری نرخ پر گندم پسائی کے لئے دے دی گئی جو پانچ سال سے بند پڑی تھیں، کیا گندم کا اجرا کرنے والے سرکاری افسر اس بات سے بے خبر تھے کہ یہ فلور ملیں چل نہیں رہیں یا پھر گندم کا یہ کوٹہ جاری کرتے وقت فلور ملز ایسوسی ایشن پر انحصار کیا گیا وجہ کچھ بھی ہو یہ گندم آگے فروخت ہوئی اور بند فلور ملوں کے مالکوں نے بیٹھے بٹھائے منافع کما لیا اس طرح کی واردات گندم جاری کرنے کے ذمے دار حکام کو اعتماد میں لئے بغیر نہیں ہو سکتی فلور ملوں کے مالکوں کی ایسوسی ایشن تو اپنا ایک موقف رکھتی ہے اور وہ سامنے بھی لے آئی ہے لیکن ایسے واقعات نے بحران کو گہرا کرنے میں بہرحال اپنا کردار ادا کیا پھر گندم برآمد کرنے کی اجازت بھی غلط وقت پر دی گئی بعد میں جب احساس ہوا کہ اس گندم کی برآمد سے بحران پیدا ہوا ہے تو پھر برآمد پر پابندی کا حکم بھی تاخیر سے جاری کیا گیا۔ نومبر (2019ء) میں پابندی لگائی جو اگر چند ماہ پہلے ہی لگ جاتی تو شائد بحران پیدا ہی نہ ہوتا یا اس کی شدت کم ہوتی۔

آٹے کی نسبت چینی کا بحران زیادہ سنگین تھا۔تحریک انصاف کی حکومت نے برسراقتدار آتے ہی اکتوبر 2018ء میں چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی اور تین ماہ کے اندر اندر گیارہ لاکھ ٹن چینی برآمد کی جا چکی تھی، فوڈ سیکیورٹی کی وزارت نے کیا تھا کہ اس سال گنے کی پیداوار کم ہوئی ہے اس لئے چینی برآمد نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے باوجود نہ صرف اجازت دے دی گئی پہلے برآمد کی ترغیب کے لئے سبسڈی بھی دی گئی جس کا برآمد کنندگان کو دوہرا فائدہ ہوا اور انہوں نے دونوں ہاتھوں سے اربوں روپے سمیٹے، ایک تو چینی برآمد کرکے سبسڈی وصول کی اور دوسرے ایکسپورٹ کے نتیجے میں اندرون ملک چینی کی قیمت یک دم بڑھی تو اس کا فائدہ بھی شوگر مل مالکان کو ہوا اس سے پہلے کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ چینی 16سے بیس روپے تک مہنگی ہوگئی ہو،یہ دھڑا دھڑ ایکسپورٹ ہی کاشاخسانہ تھا حکومت کی طرف سے سبسڈی کے دفاع میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق حکومتیں بھی ایسا کرتی رہی ہیں، حیرت ہے کہ جو حکومت سابق حکومتوں اور حکمرانوں کو گردن زدنی قرار دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی وہ سابق حکومتوں کی پالیسی کو اپنے حق میں بطور دلیل پیش کر رہی ہیں سابق حکمران تو کرپٹ تھے اور وزیراعظم کے بقول ”صرف مال بنانے کے لئے سیاست میں آئے تھے“ اس لئے ان کی پالیسیاں موجودہ حکومت کے لئے قابلِ تقلید کیسے قرار پا گئیں؟ اگر ماضی میں ایکسپورٹ پر سبسڈی دی جا رہی تھی تو اسے جاری رکھنا حکومت کے لئے کیوں ضروری تھا؟ یہ غلط پالیسی ختم کیوں نہ کر دی گئی؟ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کہتے ہیں کہ وہ سبسڈی دینے کے مخالف تھے اس کے باوجود اگر سبسڈی دی گئی تو اس کا صاف مطلب یہ ہے شوگر مل مالکان، جنہوں نے سبسڈی کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ان سے زیادہ طاقتور تھے یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ کرپٹ لوگوں کی حکومتوں میں اگر چینی برآمد کی جا رہی تھی اس وقت پیداوار بھی زیادہ تھی اور ملکی ضروریات سے زیادہ ذخائر بھی موجود تھے اس لئے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی لیکن جب پیداوار کم ہوئی اور ذخائر بھی نسبتاً کم تھے تو برآمد کی اجازت دینے کے فیصلے کی تائید نہیں کی جا سکتی۔

چینی کی برآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ تین سطحوں پر کیا گیا سب سے پہلے شوگر ایڈوائزری بورڈ نے اس کی منظوری دی اس کے بعد یہ معاملہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) میں گیا وہاں سے حتمی منظوری کے لئے کابینہ میں پیش ہوا۔ کابینہ نے بھی سبسڈی کی منظوری دی تو اس پر عملدرآمد ہوا۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ طاقتور لابی عوامی مفادات کا خون کرکے منافع سمیٹنے کے قابل نہیں رہے گی یہ تو مستقبل کی بات ہے۔ رواں ایام میں تو نہ صرف منافع سمیٹا گیا بلکہ عوامی مفادات کا خون بھی کیا گیا چینی بحران کے دوران جو قیمتیں بڑھ گئی تھیں وہ اب تک واپس نہیں آئیں دو ہفتوں بعد رمضان المبارک شروع ہونے والا ہے جس میں چینی کی کھپت بڑھ جاتی ہے اگر اس وقت سپلائی ضرورت کے مطابق جاری نہ رکھی جا سکی تو قیمتیں ایک بار پھر بڑھیں گی شاید چینی کے بحران کی منصوبہ بندی اسی لئے کی گئی تھی اب قیمتوں کو بڑھنے سے روکنا بھی ایک چیلنج ہوگا کیونکہ ایسی اطلاعات بھی منظرِ عام پر آ رہی ہیں کہ شوگر مل مالکان قیمتیں بڑھانے کے لئے حکمتِ عملی بنا رہے ہیں، اگر ایسا ہوا تو ایک بار پھر عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جائے گا۔ کورونا کے بحران نے غریبوں کو کوڑی کوڑی کا محتاج کر دیاہے۔ ان سے روزگار چھن چکا ہے اور فاقوں کی نوبت آ چکی ہے۔ خدشہ ہے کہ معاشی بحران کی شدت میں بھی اضافہ ہوگا۔ایسے میں ذمے داروں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ کسی نئے بحران کو جنم لینے سے بھی روکنا ہوگا جس کے لئے تدبر سے کام لے کر حکمتِ عملی بنانے کی ضرورت ہو گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -