سندھ سے گندم کی درآمد پر تنازع؟

سندھ سے گندم کی درآمد پر تنازع؟

  

حالات کے ساتھ ساتھ معاملات بھی بدل جاتے ہیں،سندھ حکومت کی خوراک انتظامیہ کی طرف سے حکومت کی اجازت کے باوجود گندم پنجاب آنے سے روکنے نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔حکومت سندھ نے یکم اپریل کو ایک معاہدے کے تحت پنجاب کے دو شہروں لاہور اور شیخوپورہ کی دس ملوں کو سندھ کے پانچ اضلاع سے گندم خریدنے کی اجازت دی۔ ہر مل اس اجازت کے تحت تین سو میٹرک ٹن گندم خرید کر لانے کی حق دار تھی،سندھ میں گندم کی فصل پنجاب سے پہلے اپریل کے پہلے ہفتے ہی سے تیار ہو جاتی ہے۔اس اجازت کے تحت ان ملوں نے لاڑکانہ ضلع سے نجی طور پر گندم خریدی اور ٹرکوں پر لدوا کر لانے کی کوشش کی تو لاڑکانہ کے محکمہ خوراک کے افسروں اور اہلکاروں نے ٹرک روک لئے اور بتایا کہ صوبائی حکومت نے گندم صوبے سے باہر لے جانے پر پابندی لگائی ہوئی ہے،ٹرک والوں نے اجازت نامہ اور دوسری ضروری دستاویزات دکھائیں،لیکن محکمہ خوراک کے حکام نے صوبائی حکومت کی نئی اجازت کے بغیر گندم لے جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔یوں ایک نیا تنازع پیدا ہو گیا ہے،مل مالکان کے مطابق اگر بروقت گندم نہ پہنچی تو ٹرکوں کے کرایوں کی وجہ سے اس کے اخراجات اور قیمت خرید میں اضافہ ہو جائے گا۔اس کی وجہ سے مل مالکان کو نقصان ہو گا، یا پھر پنجاب میں آٹا اور گندم زیادہ مہنگی ہو جائے گی، اس سلسلے میں جو بھی ہوا وہ درست نہیں۔اگر صوبائی حکومت نے یکم اپریل کو اجازت دی تو 4 اپریل کو گندم لانے سے روکنا بالکل ہی غلط اقدام ہے،اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ خود حکومت اور محکموں کے درمیان کمیونیکیشن کی حالت درست نہیں۔یہ امر پہلے سے سوچنے والا تھا کہ تین ہزار میٹرک ٹن گندم پنجاب آنے سے سندھ کتنا متاثر ہو گا کہ پہلے ہی گزشتہ اور رواں سال کے حوالے سے گندم کے بحران نے ہنگامی صورت اختیار کی اور اب تو تحقیقاتی رپورٹ نے بااثر حضرات کی ”مہربانیوں“ کا پردہ بھی چاک کر دیا ہے۔سندھ کی صوبائی حکومت کو فوری طور پر یہ مسئلہ حل کرنا چاہئے۔ اگر اجازت دی تو گندم آنے دی جائے اور پابندی لگائی ہے تو اس کے بعد اس پر سختی سے عمل کرایا جائے۔اس سے بھی بہتر یہ ہو گا کہ خود صوبائی حکومت کاشتکاروں سے گندم کی خریداری فوری شروع کرے۔

مزید :

رائے -اداریہ -