اصول نہیں مفادات

اصول نہیں مفادات
اصول نہیں مفادات

  

کرونا کا خوف بھی عجیب ہے۔ ہر طرف ہر شخص اور ہر چیز کچھ سہمی سہمی اور سمٹی سمٹی نظر آتی ہے۔ اگر کسی کو اس کا خوف نہیں تو وہ کرپشن ہے۔ اس معاملے میں خوف خدا مفقود ہے۔ کام بند، دفاتر بند مگروہ لوگ جنہیں کام کرانا آتا ہے وہ دلیری سے اپنے کام کروا رہے ہیں۔ اہلکار کیسے ڈھونڈھتے ہیں، کیسے ان تک پہنچتے ہیں، یہ عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر باتیں ہیں۔ آپ جتنے مرضی آہنی عزم کے ساتھ کرپشن کے خاتمے کی سعی کریں، کرپٹ مافیا آپ کو آپ ہی کے بچھائے ہوئے جال میں پھنسا کر اپنا کام جاری رکھتا ہے۔ اس مافیا کے کئی رنگ اور کئی روپ ہیں۔ اسے روپ اور رنگ بدلنا بھی آتا ہے۔یہ مافیا اپنی ضرورت کے مطابق اسی کے رنگ اور اسی کے روپ میں ڈھل کربھی اپنا کام دکھاتا ہے۔ میرے ایک دوست کو سرکاری محکمے میں کوئی ارجنٹ کام تھا۔ دفتر بند ہیں۔ میں نے اس سے اظہار افسوس کیا کہ بھائی تمھارا ضروری کام اب لٹک گیا ہے۔ ہنس کر کہنے لگا، کیوں لٹک گیا، میں نے ایک آدمی سے بات کی تھی اس کی خدمت کا معاوضہ اسے دے دیا تھا۔ وہ ہاتھوں ہاتھ گھروں سے دستخط کروا لایا ہے اور میرا کام ہو گیا ہے۔لوگوں کا مفاد کام کروانے میں ہوتا ہے۔ کرپٹ شخص کو پہیے لگ جائیں تو کام فوراً ہو جاتا ہے۔ ایماندار آدمی کام کم کرتا ہے اور کام میں غیر ضروری کیڑے نکالنے کا فن زیادہ جانتا ہے۔ اب لوگ کرپٹ سے نہیں ایماندار سے ڈرتے ہیں۔

چند سال پہلے کا واقعہ ہے۔ ایک درویش صفت آدمی ایک محکمے کے سربراہ مقرر ہوئے۔ انتہائی سادہ طبیعت اورپابند صوم و صلوۃ بھی تھے۔ ان کی چھوٹی چھوٹی داڑھی تھی اور سر پر ہر وقت ٹوپی ہوتی تھی۔ ہر اسلامی مہینے کی گیارہویں تاریخ کو اپنے گھر پردرود و سلام کی محفل بھی سجاتے تھے۔ ان کے سربراہ بنتے ہی پورے محکمے میں تبدیلی کا عمل شروع ہو گیا۔ جس آفیسر کو دیکھو اس نے چھوٹی چھوٹی داڑھی رکھ لی اور سر پر ٹوپی بھی سجا لی۔ان کے گھر ہونے والی گیارہویں تاریخ کی محفل میلادیکدم بڑی پر رونق ہونے لگی۔محکمے کا ہر افسر بڑے ذوق اور شوق سے اس میں شریک ہونے لگا۔ کوئی شخص جتنا زیادہ کرپٹ تھا۔اتنا زیادہ متحرک تھا۔ ان کے سربراہ بننے سے پہلے وہ محفل میلاد میں چند شریک دوستوں کے لئے دال روٹی کا بندوبست خود کرتے تھے۔ اب جو جم غفیر موجود ہوتا تھا اس کے لئے کھانے کا انتظام چونکہ ان جیسے ایماندار آدمی کے بس کی بات نہیں تھی۔ آنے والے افسروں نے کھانے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔اب دال روٹی نہیں، وہاں درجنوں دیگوں کا اہتمام ہونے لگا۔لوگ خوب کھاتے پھر بھی بہت کھانا بچ جاتا اور ان کی ہدایت کے مطابق کسی نہ کسی درگاہ یا کسی مدر سے کو ان کے حوالے سے بھیج دیا جاتا۔ درگاہ کے متولی یا مدرسے کے منتظم جو پہلے ہی ان کی سادگی اور شرافت کے بہت قائل تھے اب ان کی فیاضی کے گن بھی گانے لگے۔

کرپٹ افسروں کی اس شاندار کارکردگی سے محکمے کے سربراہ بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ سارے افسران عجز و انکساری میں اپنی مثال آپ ہیں۔ان کے سامنے وہ سر ہی نہیں اٹھاتے تھے۔ انہیں اندازہ ہی نہیں ہو رہا تھا کہ ان کرپٹ ہاتھیوں کے کھانے کے دانت اور ہیں،دکھانے کے اور۔محفل میلاد میں بعض افسروں پر وجد طاری ہو جاتا۔محفل کے لئے پھل اور کھانے کے شاندار انتظامات، محفل کی بے مثال رونق، نت نئے نامور نعت خوانوں کی آمد نے اس محفل میلاد کی دھوم مچا دی۔ان نعت خوانوں پر نعت پڑھتے وقت ہزاروں روپے نچھاور کئے جاتے۔یہ ہزاروں روپے کیوں اور کون خرچ کرتے ہیں، محفل کی رونق نے سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ کرپٹ افسروں نے اس کارکردگی کی پوری قیمت وصول کی۔ انہوں نے محکمے کی تمام نفع آور پوسٹنگ کے لئے ایک دوسرے کا نام تجویز کیا اور کچھ دنوں میں وہ پورے محکمے پر قابض تھے۔ہر طرف ٹوپی پہنے، چھوٹ سی داڑھی رکھے بظاہر پارسا آدمی بڑی صفائی سے اپنی واردات ڈال رہا تھا۔ واقف حال ہنس رہے تھے جب کہ محکمے کے سربراہ دعویٰ کر رہے تھے کہ یہ کیسے ممکن کہ کہ سربراہ ایک اچھا آدمی ہو اور محکمے کا مزاج اس کے مطابق نہ ہو، دیکھیں میری وجہ سے یہ محکمہ پرہیزگاراور نیک لوگوں کا محکمہ مشہور ہو گیا ہے۔انہیں اندازہ ہی نہیں ہو رہا تھا کہ پر تعیش انتظام اور اتنے پیسے خرچ کرنا ایماندار آدمی کے مزاج کا حصہ ہی نہیں ہوتا۔کیونکہ اس کے وسائل اس کی اجازت ہی نہیں دیتے۔

دو ڈھائی سال بعد موصوف ریٹائر ہو گئے۔ نئے آنے والے مختلف مزاج کے آدمی تھے۔ اگلے دو ماہ میں ان تمام افسروں نے جنہوں نے داڑھی نما بال بڑھائے ہوئے تھے۔ وہ بال صاف کروا لئے اب وہ کلین شیو تھے۔ سارے ڈیپارٹمنٹ میں سر پر ٹوپی رکھنے کا کلچر یکدم ختم ہو گیا۔ محفل میلادؐ میں اب وہی چند پرانے لوگ تھے،وہی پرانے چہرے۔ محفل میلادؐ میں کھانے اور پھل کون لاتا۔سوکھی پھیکی محفل میں شرکت کرنے والوں کی تعداد اس قدر کم ہو گئی کہ موصوف نے اس کا ا ہتمام کرنا ختم کر دیا۔ کچھ عرصے بعد ان سے میری ملاقات ہوئی تو کچھ پریشان تھے وہ لوگوں کے غلط رویوں اور آنکھیں پھیر لینے کی باتیں کر رہے تھے۔ انہیں گلہ تھا کہ وہ لوگ جنہیں انہوں نے بہت نوازا تھا، ایک تو کبھی ملنے نہیں آئے، دوسرا لوگوں میں ان کے خلاف باتیں بھی کرتے ہیں۔اب انہیں یہ بھی پتہ چل رہا تھا کہ وہ لوگ جنہیں وہ بہت دیانتدار سمجھتے رہے حقیقت میں انتہائی بد دیانت تھے۔مگر اب وہ بے بس تھے۔پچھتانے اور کڑھنے کے سوا کچھ بھی ان کے بس میں نہیں تھا۔

موجودہ حکومت میں بھی بہت سارے عنصر وہی ہیں جو اپنے مفاد کے لئے کسی بھی حد تک جانے میں کوئی برائی محسوس نہیں کرتے۔جو کرپٹ ہیں وہ ہر حال میں کرپٹ ہیں۔ تھوڑا سا واردات ڈالنے کا انداز بدل گیا ہے۔ سرکاری افسروں نے بھی زندہ رہنا ہے۔ انہیں بہتر اور منفعت پوسٹنگ کے لئے حوالوں کی ضرورت پڑتی ہے۔وہ سیاستدانوں کے اور سیاستدان ان کے محتاج ہوتے ہیں۔ سیاستدان تحفظ دیتے اور سرکاری افسران قوائد وضوابط کے گھیرے میں ہر چیز کا حل نکالتے ہیں یوں حکومتی مے خانے میں سارے بادہ خوار جی بھر کے جیتے اور پسند کی پیتے ہیں۔نعرے بازی جتنی بھی ہو کام اسی طرح چلتا رہے گا کسی ڈگر میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ سرکاری ڈرائی کلیننگ پلانٹ میلے کو اجلا اور کچھ اداروں کے پلانٹ اجلے کو میلا دکھانے میں کمال رکھتے ہیں اور وہ کمال دکھاتے رہیں گے۔ بات اصول کی نہیں فقط مفادات کی ہے۔مفادات کا تقاضوں کے تحت اصل یہی ہے کہ قائداعظم زندہ با د، پاکستان پائندہ باد۔

مزید :

رائے -کالم -