الوداع لاک ڈاؤن الوداع

الوداع لاک ڈاؤن الوداع
الوداع لاک ڈاؤن الوداع

  

اپنے کپتان پر ”یوٹرن خان“ کا فتویٰ لگانے والے مفتیان سیاست کو چاہئے کہ اب اپنے فتوے سے رجوع کر لیں۔ خان نے اس الزام کے بخیئے ادھیڑ دیئے ہیں۔ ایک ہی اعلان سے خود کو ثابت قدم منوا لیا ہے۔ ساری دنیا کہہ رہی تھی کہ کرونا وائرس کی وبا تاریخ کی خوفناک ترین وبا اس لئے ہے کہ اس کی دوا ابھی تیار نہیں ہوئی۔ صرف احتیاط سے خود کو محدود کر کے ہی اس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ اس کا واحد طریقہ سماجی فاصلہ ہے۔ سماجی فاصلہ اسی صورت ممکن ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن کر دے۔ چین نے اس نسخے پر عمل کر کے وبا کو شکست بھی دے دی تھی چنانچہ تمام متاثرہ ممالک چینی فارمولے پر عمل کرنے میں عافیت سمجھ رہے تھے۔ وطنِ عزیز میں بھی ماہرین اسی اقدام کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سندھ حکومت نے اس کا اعلان کر دیا تو اس کو میڈیا پر بھی توصیفی پذیرائی ملی۔ ہر طرف یہ کہا جانے لگا کہ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت بازی لے گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سب سے پھرتیلے وزیر اعلیٰ ثابت ہوئے ہیں۔ اس سب کے باوجود وزیر اعظم نے لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے اسے 25 فیصد غریب آبادی کے لئے زہر قاتل قرار دے دیا۔ تعلیمی ادارے بند کئے، سرکاری محکموں میں بھی تعطیل کی صورت بن گئی۔

انٹر سٹی ٹرانسپو رٹ بند کر دی گئی، کاروباری مراکز بھی بند مگر اشیائے ضرورت کی دکانیں، میڈیکل سٹور کھلے رکھنے کی اجازت۔ اس کے باوجود لاک ڈاؤن سے انکار خان نے بار بار دلیل دی کہ لاک ڈاؤن ہمیں وارے نہیں آتا۔ ہماری معیشت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ کروڑوں افراد کو ان کے گھروں پر راشن پہنچا سکے۔ پھر خود حکمران تحریک انصاف کی صوبائی حکومتوں (پنجاب اور خیبر پختونخوا) حلیف بلوچستان حکومت، مسلم لیگ (ن) کی آزاد کشمیر و گلگت بلتستان حکومتوں نے لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کر لئے تو سمجھا گیا کہ عملاً لاک ڈاؤن ہو گیا ہے اب کپتان خان کیا کرے گا؟ یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ جب وزیر اعظم لاک ڈاؤن کے مخالف ہیں تو صوبائی حکومتوں سے فیصلے کون کرا رہا ہے؟ اصل مقتدر کون ہے؟ اسی دوران وزیر اعظم نے حالات کے جبر سے بیروزگار ہونے والے مستحقین کی امداد کے لئے نہ صرف فنڈ قائم کر کے اہل ثروت سے عطیات کی اپیل کر دی بلکہ نوجوانوں کی ایک ٹائیگر فورس بھی قائم کر دی جس کا کام وزیر اعظم فنڈ سے حقیقی مستحقین کی ان کے گھروں پر مدد کرنا ہوگا۔ اس ٹائیگر فورس کی رجسٹریشن بھی شروع ہو گئی۔ ان کے لئے شرٹس بھی تیار ہو گئیں۔ اس سے تاثر یہی لیا گیا کہ خان نے عملاً لاک ڈاؤن کو قبول کر لیا ہے اور اپنے مؤقف سے یوٹرن لے لیا ہے۔ پھر سندھ حکومت ایک قدم اور آگے بڑھ گئی؎ ا ور جمعہ کے روز بارہ بجے سے تین بجے تک کا کرفیو نافذ کر دیا۔

جس سے مساجد میں نماز جمعہ نا ممکن ہو گیا۔ لوگوں سے کہا گیا کہ باقی نمازوں کی طرح نماز جمعہ بھی گھر پر ادا کریں۔ جن مساجد کے آئمہ نے خلاف ورزی کی ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔ دو امام مساجد کو گرفتار کیا گیا تو نمازیوں کا پولیس سے تصادم بھی ہوا۔ پشاور میں بھی نماز کے مسئلہ پر افسوسناک خونی واقعہ ہو گیا۔ اسی شام وزیر اعظم نے ہاؤسنگ (تعمیر مکانات) کو صنعت قرار دے کر 14 اپریل تے تعمیرات کی اجازت دے دی۔ تاکہ غریب محنت کش روزی روٹی کما سکیں۔ اس سلسلے میں کچھ مراعات کا اعلان بھی کر دیا جن میں بعض ٹیکسوں کی معافی اور بعض میں چھوٹ بھی شامل ہے۔ یہ ایک شعبہ ایسا ہے کہ اس سے کم و بیش 40 صنعتیں رواں ہو جاتی ہیں۔ ان میں خشت سازی (بھٹے) سیمنٹ سازی، لوہے کے کارخانے، لکڑی کے کارخانے، پائپ، برقی تار، قمقمے، ماربل، ٹائلوں، شیشے، ایلومینیم، برقی آلات، سینٹری فٹنگ، قبضے، تالے، ہینڈل، دروازے، کھڑکیاں اور دیگر ضروری سامان بنانے والے سینکڑوں ہزاروں کارخانے پیداوار شروع کر دیں گے۔

ان میں لاکھوں افراد کام کریں گے۔ ان کی پیداوار کی فروخت کے لئے ملک کے شہر شہر، قصبے قصبے، گاؤں گاؤں دکانیں (جو پہلے سے موجود ہیں) کھولنے کی اجازت بھی دینا لازمی ہو گی۔ ان دکانوں کے کھلنے سے کاروباری چہل پہل پھر سے ہو جائے گی۔ بیکریاں، میڈیکل سٹور، تنور، پٹول پمپ، کریانے کی دکانیں پہلے ہی کھلی ہیں۔ انڈسٹریل سٹیٹس (صنعتی علاقے) آباد ہوں گے تو مزدوروں اور کارکنوں کے لئے کینٹینیں، ڈھابے، سستے ہوٹل بھی کھولنا ہوں گے۔ ان کارکنوں کے آنے جانے کے لئے ٹرانسپورٹ بھی چاہئے ہو گی۔ ٹریفک پھر سے رواں دواں ہو گی تو یہ آدھ ادھورا لاک ڈاؤن بھی کہاں ہوگا؟ دیکھا آپ نے ہمارے کپتان نے یار کر مار کر کس طرح لاک ڈاؤن کی وکٹ اڑا دی ہے۔ الوداع لاک ڈاؤن الوداع۔

اس سارے منظر نامے میں مساجد کے اندر با جماعت نماز اور تعلیمی اداروں میں طالبانِ علم کے اجتماع پر ہی پابندی باقی رہ جائے گی۔ تعلیمی اداروں کی بندش سے تعلیمی نقصان تو ہے مگر طلبہ و اساتذہ اس کو تعطیلات سمجھ کر شاد ہیں تو یہ بات سمجھ میں آئی ہے مگر مساجد میں نمازیوں کے اکٹھے ہونے اور با جماعت نماز مشکل بنانا بہت ہی نازک اور حساس معاملہ ہے۔ ہمارے ہاں دیکھا گیا ہے کہ ہم کتنے بھی گناہ گار ہوں۔ بے نمازی ہوں، خدا کے گھر پر پابندیوں کو برداشت نہیں کرتے لوگ تو پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ سرکاری آٹے، نقد امداد کی مدد کے موقع پر جو جم غفیر جمع ہوتا رہا اس کا عشر عشیر بھی مساجد میں با جماعت نماز میں نہیں ہوتا۔ عام بے نمازی بھی جمعہ کی نماز میں اچھی خاصی تعداد میں سر بسجود ہو جاتے ہیں۔ اس پر جس انداز میں پابندیاں لگائی گئی ہیں اس کو آسانی سے قبول کرنا مذہبی طور پر خاصا مشکل ہے۔

اس اقدام کے خلاف مسلم اکثریتی معاشرے میں جذبات برانگیختہ ہونا قرین قیاس ہے۔ سرکاری محکمہ اوقاف کے ملازم آئمہ کرام تو شاید ملازمت کی مصلحت میں زبان بند رکھیں مگر عام لوگوں کے مذہبی جذبات مشتعل ہو سکتے ہیں۔ احتجاج میں اگر مذہب کا عنصر شامل ہو جائے تو اس پر قابو پانا ممکن نہیں رہتا۔ اگر موجودہ حکمرانوں کو یہ نکتہ سمجھ نہیں آ رہا تو وہ 1977ء کی پاکستان میں چلنے والے تحریک نظام مصطفیٰ اور 1979ء میں انقلاب ایران کی تحریک کا جائزہ لے لیں۔ اگر ان کے حافظے میں یہ تحریکیں نہ ہوں تو تاریخ سے شغف رکھنے والے لوگوں سے معلوم کر لیں۔ مذہبی عناصر کی قیادت میں چلنے والی یہ تحریکیں ذوالفقار علی بھٹو جیسے مقبول رہنما اور شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی کی مضبوط حکومت کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گئی تھیں۔ نتیجتاً بھٹو پھانسی چڑھ گئے اور رضا شاہ نے دربدری میں زندگی کی آخری سانسیں لیں۔

ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں

مزید :

رائے -کالم -