کرونا کا عذاب اور عالمی یومِ صحت 7 اپریل2020

کرونا کا عذاب اور عالمی یومِ صحت 7 اپریل2020

  

کرونا جیسی عفریت کا اندازہ پاکستان میں ایک ماہ پہلے بھلا کس کو معلوم تھامگر اچانک دیکھتے ہی دیکھتے چین میں تباہی لانے کے بعد یہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔ اور آج کی تازہ ترین اطلاع آنے تک اس نے پوری دُنیا میں یعنی یکم اپریل 2020 ء تک کُل775540 مریضوں کو متاثر کیا ہے اور 37091 مریضوں کو موت کے منہ مین دھکیل دیا ہے۔جس میں ترقی یافتہ ممالک بھی شامل ہیں۔ غریب اور ترقی پذیر ممالک بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں آج کی مصدقہ اطلاع کے مطابق 1775 ء مریض سامنے آئے ہیں جن میں سے 24 کی اموات ہوئی ہیں۔

آج 7 اپریل 2020 ء کو پوری دنیا میں عالمی یوم صحت (ورلڈہیلتھ ڈے)منایا جا رہا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی زیر سرپرستی یہ عالمی یوم صحت پاکستان میں بھی منا یا جا رہا ہے۔اتفاق کی بات ہے کہ اس دفعہ عالمی یوم صحت کرونا جیسی عفریت کے ہوتے ہوے سامنے آیا ہے۔اور اب ہما رے لئے بھی انتہائی اہم ہے کہ اس دن کی مناسبت سے بھی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے، تاکہ ایک عام انسان کرونا COVID-19 جیسی پیچیدہ بیماری کو جان سکے اور اسی طرح کی دیگر پیچید گیوں اور سنجیدا مسائل کا حل کر سکے۔

1948ء میں ورلڈ ہیلتھ آرگنا ئزیشن WHO نے با قاعدہ 7 اپریل کو اپنے کام کا آغازکیا تھا۔ گویا کہ اس دن WHOکی بنیا د رکھی گئی۔ اُسی سال بالکل پہلی دفعہ،پہلی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس اسمبلی نے یہ فیصلہ کیا کہ 1950 ء سے ہر سال 7 اپریل کا دن ورلڈ ہیلتھ ڈ ے کی حیثیت سے منایا جایا کرے گا۔ ہر سال ورلڈ ہیلتھ ڈے کا انعقاد WHOکے افتتاح یعنی فاؤ نڈیشن رکھنے کی یاد تازہ کراتا ہے اور اُس دن کو ایک بہترین موقع گردانا جا تا ہے کہ تمام دنیا کی توجہ عالمی صحت کو لاحق کسی ایک انتہائی اہم ایشو کی طرف دلوائی جائے۔ اُس خاص مو ضوع پر WHO اس دن بین ا لاقوامی ، علاقائی اور مقامی فنکشنز اور ایوینٹس کا باقاعدہ انعقاد کراتی ہے۔تمام دنیا کی اقوام، ان کی حکومتیں اور بین ا لاقوامی اور مقامی NGO's عوامی صحت کے معاملے کی بہتری کے لیے اس خاص موضوع پر مختلف سر گرمیوں کو منعقد کرتے ہیں۔

مگر افسوس صد افسوس! اس عالمی صحت کی حقیقت سے نا صرف پاکستان کی مرکزی اور صوبائی حکومتیں بالکل بے خبر ہیں بلکہ پاکستانی میڈیا چاہے وہ الیکڑونک ہو یا پرنٹ میڈیا دونوں یکسر غافل ہیں۔ اس کالم میں پاکستان کے حوالے سے اس عالمی یوم صحت کے موقع پر بات کی جارہی ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آج اربوں روپے میڈیکل شعبہ میں ہونے والی تحقیق، تعلیم و تربیت اور ساتھ ہی مختلف اداروں ہسپتالوں اور دیگر میڈیکل شعبہ میں کام کرنے والے افراد پر خرچ ہو رہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود پاکستان میں کرونا جیسا مسئلہ گھمبیر صورت حال اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری سطح پر عوام سے کرونا کے مسئلہ کو سلجھانے کے لئے بار بار امدادی پروگراموں کا اعلان کیا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں میڈیکل اداروں اور ہسپتالوں کی شکل میں بھی بہت سی سہولتیں موجود ہیں۔ مگر اس کے باوجود سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ان سہولتوں اور پروگراموں کا صحیح استعمال بھی ہمارے سامنے آرہا ہے یا نہیں۔ میری نظر میں ان کے صحیح استعمال کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو باقاعدہ طور پر تعلیم صحت فراہم کی جائے۔ معاشرے کے عام افراد کو اس بات کی تعلیم و تربیت دی جائے کہ وہ ان سب سہولتوں اور میڈیکل اداروں سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور انہیں اس بات کا بھی صحیح ادراک ہونا چاہیے کہ وہ معاشرے کی صحت کے بارے میں ہونے والی اجتماعی اور اصلاحی کوششوں میں کس طرح شریک ہو سکتے ہیں۔ اس تعلیم و تربیت کے لیے صحت سے متعلق کورسوں، سیمیناروں، جلسوں، ورکشاپوں اور آزادانہ دستیاب مطالعہ کی جتنی ضرورت اور اہمیت اب اس دور میں ہے اس پہلے کبھی نہیں تھی۔

پاکستان میں Health Educationکا مسئلہ اتنی اہمیت کا حامل ہے کہ جتنی اہمیت کسی بھی بنیادی تعلیم کو دیں۔ میری نظر میں جتنا کثیر سرمایہ بنیادی مراکز صحت، تحصیل اور ضلعی ہسپتالوں اور دیگر اقسام کے مراکز صحت اور انفراسٹر کچر کے اجرا اور تعمیر و ترقی پر لگایا جاتا ہے۔ اس سے کچھ کم مقدار کا سرمایہ اگر بنیادی تعلیم صحت پر خرچ کیا ہوتا تو میرا دعویٰ ہے کہ یہ ہسپتال اور کلینک چاہے سرکاری ہوں یا نجی ملکیت کے سب ویران ہو جاتے اور کوئی کرونا کا مریض ڈھونڈھنے سے بھی نا ملتا۔ اور میں بالکل غلط نہیں کہوں گا کہ یہیں آئندہ کے لئے ہمارا سب کا خواب ہونا چاہیے۔

انتہا ئی شرم اور ُدکھ کا مقام ہے کہ سرکاری الیکٹرانک میڈیا اور پرائیویٹ الیکٹرانک میڈیا نے بھی اس نازک موضوع پر اب سے پہلے بالکل غور نہ کیا اور عمل تو بہت دور کی بات تھی۔ یہ واضح حقیقت ہے کہ جتنا موثر اور طاقتور ذریعہ اطلاعات اور نشریات ٹیلی ویژن، کمپیوٹرنیٹ ورک اور سینما وغیرہ ہے اتنا کوئی اور میڈیا نہیں۔ جب ہم روزانہ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے پروگرام دیکھتے ہیں تو یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ پاکستان کے ٹی وی چینلز صحت عامہ کے پروگرام اور ہیلتھ ایجوکیشن کے سلسلے سے یکسر محروم ہیں۔ ایسے میں جب کہ پورے پاکستان میں ہیلتھ ایجوکیشن کا سرے سے فقدان ہے تو ٹی وی پر ایسی کمی کا احساس بہت شدید ہو جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت اور یونی سیف کے مطابق معاشرے میں افراد کو انفرادی یا اجتماعی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ انہیں صحت سے متعلق منصوبوں اور ان پر عمل درآمد میں شریک کیا جائے۔

صحت عامہ کو دنیا کے تمام حصوں میں مسائل کا سامنا ہے کسی جگہ اس کو کم مسائل اور کئی جگہوں پر بہت زیادہ مسائل اور دشواریوں کا سامنا ہے۔ اس طرح سے پاکستان میں بھی صحت عامہ کی حالت انتہائی خراب ہے۔ ایسے حالات میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان کے ہر فرد کو اپنی صحت کے مسائل کے بارے میں اور ان کے حل کے لیے مکمل طورپر آگاہی حاصل ہو اور اس بات کا ادراک ہو کہ ان مسائل کے حل کے لیے مل جل کر کام کرنا ہے۔ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو بیک وقت صحت عامہ کے حوالے سے بے شمار مسائل درپیش ہیں۔

ہماری نظر میں پاکستان کے لوگوں کی صحت کو مندرجہ ذیل مسائل لاحق ہیں۔

1۔ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی(Pollution)

2۔بے لگام اور خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی عطائیت(Quackery)

3۔عوام الناس میں صحت عامہ کے متعلق تعلیم و تربیت(Health Education)کی شدید کمی۔

4۔اشیاء خوردونوش میں بڑھتی ہوئی خطرناک ملاوٹ(Adulteration)

5۔پاکستان میں ہر سوپھیلے ہوئے خطرناک اور لاعلاج متعدی امراض(Infections)جیسے کرونا COVID-19

6۔حکومت کی طرف سے مہیا کردہ عامیانہ طرز کی اور صحت کے متعلق اور خاص قسم کی سہولیات تک عام انسانوں کی رسائی میں کمی۔

7۔ہمارے طب و صحت کے متعلق ڈاکٹر حضرات اور دیگر اہل کارو ں میں پیشہ وارانہ جذبے کی انتہائی کمی۔

8۔ہمارے ہاں بننے والی ناقص کوالٹی کی تیار کردہ ادویات اور جعلی ادویات۔

9۔پاکستان میں دن بدن بڑھنے والے خطرناک موذی اور اپاہج کر دینے والے مرض۔

پاکستان میں آج اس "عالمی یو م صحت " کے مو قع پرکم ازکم کرونا جیسے موذی اور جان لیوا بیماری ہی وملحوظ خاطر رکھتے ہوے ایسے سیمینار، ورکشاپس اور دیگر ایوینٹس کا بھر پور اور ہر پیمانے پر انتظام ہونا چاہیے۔ ہر پاکستانی کی صحت کو لاحق تما م دیگر مسائل اور دیگر ہر طرح کی بیماریوں کے موضوع پر تا کہ علم وآگہی کا ترغیب و تر بیت کے نتیجے میں پاکستانی عوام جلد ہی اس قابل ہو سکے کہ خود کو صحت مند،اپنے خاندان کو صحت مند، معاشرے کو صحت مند اور ماحول کو صحت مند بنانے کے سلسلے میں صحیح فیصلہ کر سکیں۔ اورمناسب اقدام اٹھانے کے قابل ہو سکیں۔ اور بہتر زندگی گزارنے کے لئے اپنے اردگرد ضروری تبدیلیاں لائیں۔

پاکستان میں اس عالمی یوم صحت کو منانے کے اغراض و مقاصد اختصار کیساتھ مندرجہ ذیل ہیں۔

٭پاکستانی عوام کوصحت کے جملہ مسائل کے بارے میں مکمل اور قابل اعتماد آگاہی ہو سکے۔

٭پاکستانی عوام اس قابل ہو سکیں کہ آئندہ آنے والے وقت میں صحت سے متعلق قابل اعتماد معلومات میں تفریق کر سکیں۔

٭پاکستانی عوام مختلف شعبہ ہائے صحت کے نظام سے واقفیت حاصل کر سکیں۔ تاکہ ضرورت کے وقت صحیح مشیر صحت یا معالج کا نتخاب کر سکیں۔

٭پاکستانی عوام اپنی اور اپنے خاندان اور اپنے معاشرے میں موجود ارد گرد کے افراد کی صحت اور ان کے باہمی تعلق کے بارے میں مکمل طور آ گاہ ہو سکیں۔

٭پاکستانی عوام اپنے اور ان کی صحت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے بہتر فیصلے کر سکیں۔

٭پاکستانی عوام از خود اپنی صحت کے تمام مسائل کو اجتماعی اصلاح کے لیے معاشرے میں چلنے والی اجتماعی تحریک میں بہترطور پر شرکت کر سکیں۔

٭پاکستانی عوام عطائیت جیس بر ی لعنت کی حقیقت سے آشنا ہو سکیں۔

٭پاکستانی عوام عطائی اور اس کی عطائیت کو آسانی سے پہچان سکیں اور عطائیت جیسی بری لعنت سے مکمل طور پر چھٹکارہ پاسکیں۔

٭پاکستانی عوام خود ساختہ علاج معالجہ جو کہ"حدود تحفظ" میں رہ کر کیا جا سکے کو جان سکیں اور استعمال کرسکیں۔

٭پاکستانی عوام بطور"صارفین صحت" اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکیں۔

٭پاکستانی عوام انسانی صحت اور تیزی سے بدلتے ہوئے ماحول کا باہمی تعلق سمجھ سکے۔

٭پاکستانی عوام صحت عامہ کو درپیش مختلف قسم کی آلودگیوں (Pollution) کا شعور حاصل کر سکیں۔

٭پاکستانی عوام اپنی صحت کو ماحول کی آلودگی سے بچانے کے طریقے اور اطوار سے واقف ہو سکیں۔

٭پاکستانی عوام اپنی صحت کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے مضر صحت اور بے ضرر روز مرہ اشیاء خورو ونوش کی بھرپور پہچان اور باہمی تمیز کر سکیں۔

آج کے دن 7اپریل2020ء پاکستان میں عالمی یومِ صحت (ورلڈ ہیلتھ ڈے) کو منانے کا مقصد اور غرض و غائیت یہ ہوئی چاہیے۔ کہ پاکستان کی عوام کو ان باتوں کا علم، تربیت اور ترغیب دی جائے تو وہ بہتر سے بہتر زندگی گزارنے کے لیے اپنے اردگرد ضرور تبدیلیاں لائیں گے تاکہ ایک عام صحت، ایک خاندان کی صحت، ایک معاشرے صحت اور بلا آخر اپنے پیارے پاکستان کی صحت کے معیار کو بلند تر کیا جا سکے۔(انشاء اللہ)

مزید :

رائے -کالم -