شہباز شریف اور سراج الحق، گفتار اور کردار کا فرق

شہباز شریف اور سراج الحق، گفتار اور کردار کا فرق
شہباز شریف اور سراج الحق، گفتار اور کردار کا فرق

  

مجھے اس وقت بڑی خوشی ہوئی تھی جب شہبازشریف نے کرونا وبا کے دنوں میں پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا تھا میرا خیال تھا کہ ان کی موجودگی اس وبائی صورت حال سے پیدا ہونے والے حالات میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو گی۔ مجھے یہ بھی یقین تھا کہ شہباز شریف اپنے عملی اقدامات سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو بتائیں گے کہ وبا کے دنوں میں وزیر اعلیٰ پنجاب کیسے کام کرتا ہے۔ مجھے سیلاب اور ڈینگی بخار کے دنوں میں ان کے وہ لانگ شوز اور ہیٹ والا گیٹ اَپ یاد آتا رہا، جب وہ انتظامیہ کے مشوروں کو رد کر کے موقع پر پہنچ جاتے اور ہدایات دیتے تھے۔ لیکن میری یہ توقعات اور امیدیں بار آور ثابت نہیں ہوئیں۔ شہباز شریف واپس تو آ گئے مگر انہوں نے خود کو لیپ ٹاپ تک محدود کر لیا وہیں سے پیغام نشر کرتے ہیں اور اسی کے سامنے بیٹھ کر پارٹی کے اجلاس کرتے ہیں۔

ویڈیو لنک کے ذریعے ہدایات جاری کر دیتے ہیں اور پھر حکومت پر تنقید کے دو چار نشتر چلا کر اگلے چند دنوں کے لئے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ تو شہباز شریف کا اصل روپ نہیں، وہ تو میدان کے شہ سوار ہیں، بالفرض وہ آج وزیر اعلیٰ پنجاب یا وزیر اعظم پاکستان ہوتے تو اس طرح ماڈل ٹاؤن کے گھر میں مقید ہو جا ت نہیں وہ مردانہ وار میدان میں نکلتے، جگہ جگہ نظر آتے، لوگوں کی مشکلات حل کرتے، انہیں دلاسہ دیتے۔ آج ان سے زیادہ متحرک تو عثمان بزدار نظر آتے ہیں حیرت تو یہ بھی ہے کہ اب شہباز شریف پنجاب کے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے۔ اس کی بری گورننس کا ذکر نہیں کرتے، ساری توجہ عمران نیازی پر مرکوز کئے ہوئے ہیں حالانکہ کریڈٹ تو وہ ہمیشہ پنجاب کی ترقی کا لیتے رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ جوں جوں لاک ڈاؤن کی مدت بڑھتی جا رہی ہے، عوام کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طورپر غریب اور دیہاڑی دار طبقے کے گھروں میں فاقے اتر آئے ہیں۔ وہ سڑکوں پر آ کر احتجاج بھی کر رہے ہیں اور امداد نہ ملنے کی دہائی بھی دے رہے ہیں اب سیاستدانوں کے پاس ایک طریقہ تو یہ ہے کہ وہ حکومت کے پیچھے ڈنڈا پکڑ کے اس پر تنقید شروع کر دیں۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ خود بھی میدان میں نکلیں اور زیادہ سے زیادہ فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ بدقسمتی سے اس وقت اپوزیشن ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔ بس سارا زور تنقید کرنے پر صرف ہو رہا ہے۔ کیا یہ مناسب رویہ ہے۔ کیا یہ وقت اس قسم کی سیاست یا پوائنٹ سکورنگ کا ہے اگر تو اپوزیشن یہ چاہتی ہے کہ لوگ بھوک سے مریں اور مجبور سڑکوں پر آ کر حکومت کے خلاف احتجاج کریں تو پھر اس کا یہ رویہ درست ہے، لیکن اگر مقصد یہ ہے کہ عوام کو مشکل حالات سے نجات دلائی جائے، ان کی امداد کی جائے تو پھر یہ رویہ انتہائی شرمناک اور نا مناسب ہے۔ اگر آپ پورے سیاسی منظر نامے پر نگاہ ڈالیں تو صرف جماعت اسلامی ہی وہ جماعت نظر آئے گی جس نے اپنی تمام سیاسی سرگرمیوں کو معطل کر کے عوام کی امداد کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اس وقت سب سے زیادہ متحرک ہیں وہ شہر شہر مستحقین میں امدادی سامان بھی تقسیم کر رہے ہیں اور انہوں نے جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کے ہسپتال بھی کرونا مریضوں کے لئے وقف کر دیئے ہیں۔ اگر وہ بھی اس فلسفے پر عمل کرتے کہ اس وقت عوام کی مدد نہ کر کے حکومت کے خلاف نفرت پیدا کی جائے تو آج صرف منصورہ میں بیٹھ کر تنقیدی بیانات جاری کر رہے ہوتے لیکن انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔

وہ سیاست کو پیچھے چھوڑ کر خدمت انسانیت کی خاطر آگے بڑھے اور آج پورا ملک دیکھ رہا ہے کہ جماعت اسلامی امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے سب کو پیچھے چھوڑ چکی ہے۔

بدقسمتی سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ عوام کی خدمت کے لئے، اقتدار میں ہونا ضروری نہیں۔ ساری امداد سرکاری پیسے سے کرنے والے اب اس لئے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں کہ سرکاری فنڈز تو ہیں نہیں عوام کی امداد کیسے کریں۔ پیپلزپارٹی سندھ میں بھی اپنے پلے سے کچھ نہیں کر رہی، دیگر صوبوں میں تو اس نے کیا کرنا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے ایک ایک رکن اسمبلی کے پاس اربوں روپے کے اثاثے ہیں آخر ان اثاثوں کو ہوا کیوں نہیں لگاتے اور اگر ان پر زکوۃ ہی نکالیں تو کروڑوں روپے نکل آئیں گے۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں برسوں برسر اقتدار رہی ہے اور اب بھی اس کے پاس پنجاب سے اکثریتی نشستیں موجود ہیں کیا اس کے ارکانِ اسمبلی کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اپنے حلقوں میں نکلیں اور ضرورت مندوں کی امداد کریں۔ کیا وجہ ہے کہ شہباز شریف نے واپس آ کر اس سلسلے میں کوئی پلان وضع نہیں کیا۔ اگر جماعت اسلامی ریلیف کا کام کر سکتی ہے تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے کیوں نہیں کیا سیاسی جماعتوں کو عوام کے دکھ درد صرف اس صورت میں یاد رہنے چاہئیں، جب وہ اقتدار میں ہوں۔ جماعت اسلامی تو کبھی بھی اقتدار میں نہیں رہی۔

اس کے باوجود وہ کروڑوں روپے کا امدادی سامان تقسیم کر چکی ہے، سوال تو یہ بھی ہے کہ شہباز شریف نے اپنے ذاتی وسائل سے غریبوں اور لاک ڈاؤن سے متاثرہ خاندانوں کی کتنی مدد کی ہے۔ کیا عوام جو شہر شہر میں بینرز لگا رہے ہیں کہ جس رکن اسمبلی کو امداد کی ضرورت ہو وہ عوام سے رجوع کرے بھرپور امداد کی جائے گی۔ میں تو یہ توقع کر رہا تھا کہ شہباز شریف واپس آئیں گے تو مسلم لیگ (ن) کو امدادی سرگرمیوں پر لگا دیں گے۔ شہر شہر، گاؤں گاؤں ان کی امداد پہنچے گیا ور لوگ حکومتی امداد کو بھول جائیں گے۔ شہباز شریف کا نہ صرف خود اُمراء میں شمار ہوتا ہے بلکہ اگر وہ آواز دیں تو ملک بھر کے صنعت کار، تاجر، سرمایہ دار اور مخیر حضرات ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اربوں روپے امدادی سرگرمیوں کے لئے فراہم کر سکتے ہیں۔ مگر شہباز شریف نجانے کیوں اس طرف نہیں آ رہے اور ان کی ساری توجہ سیاست پر مرکوز ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ایک طرف شہباز شریف اپنی جماعت کو امدادی کاموں کے لئے متحرک کریں اور دوسری طرف حکومت کو باور کرائیں کہ دیکھو یہ ہوتی ہے عوامی خدمت، یہ ہوتا ہے عوام کو مسائل سے نکالنے کا طریقہ لیکن ان کی عدم توجہی بتاتی ہے کہ یہ کام کرنے کا وہ کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ کیا اس کو بے رحم سیاست کہتے ہیں، کیا اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔؟

مزید :

رائے -کالم -