امریکی بحریہ بھی کرونا وائرس کا شکار (2)

امریکی بحریہ بھی کرونا وائرس کا شکار (2)
امریکی بحریہ بھی کرونا وائرس کا شکار (2)

  

ائر کرافٹ کیرئیر جس کا اردو ترجمہ ”طیارہ بردار بحری جنگی جہاز“ کیا جاتا ہے ایک ایسا وارشپ (Warship) ہے جو سینہ ء بحر پر رواں دواں ایک فضائی اڈہ یا فضائی مستقر ہے جس کے عرشہ پر ایک ایسا رن وے ہوتا ہے جس پر سے جنگی جہاز اڑائے اور لینڈ کئے جا سکتے ہیں۔ اس میں وہ تمام سہولیات موجود ہوتی ہیں جو زمین پرکسی ائر بیس میں ہوتی ہیں، یعنی طیاروں کو پارک کرنا، ان میں ایندھن بھرنا، گولہ بارود اور میزائلوں سے انہیں مسلح اور لیس کرنا، ان کی ابتدائی مرمت کرنا، ان کے عملے کے لئے رہائش گاہیں اور ہسپتال وغیرہ۔

اس کے تصور کا آغاز ہوائی جہاز کی ایجاد (1903ء) کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ پہلی عالمی جنگ (1914-18ء) میں تو اس تصور کو عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔ لیکن اس جنگ کے اختتام سے لے کر دوسری عالمی جنگ کے آغاز تک کے 21برسوں (1918ء ا 1939ء) میں اس خیال کو عمل میں ڈھالنے کی طرف از بس توجہ دی گئی۔ اس مختصر کالم میں طیارہ برادر وارشپ کی تاریخ نہیں بتائی جا سکتی۔ صرف اتنا کہنا کافی ہوگا کہ دوسری جنگ عظیم کے آخری دو برسوں (1944-45ء) میں خطہ ء بحرالکاہل Pacific Wartheater) میں جاپان اور امریکہ نے کئی طیارہ بردار بنائے اور لانچ کئے اور ایسی بحری لڑائیاں لڑی گئیں جنہوں نے اس جنگ کا فیصلہ امریکہ کے حق میں کر دیا۔ تاہم اس جنگ عظیم کے6برسوں میں کئی دوسرے ممالک نے بھی طیارہ بردار بنائے اور اس جنگ میں ان کی کنٹری بیوشن دلچسپ اور سبق آموز ہے۔ لیکن جب یہ جنگ ختم ہوئی اور میزائل سازی کا آغاز ہوا تو ان طیارہ برداروں کو فضائی حملوں کا سامنا ہوا۔ یہ فضائی حملے وہ میزائل حملے تھے جن کو زمینی مستقروں (Ground Bases) سے لانچ کیا جاتا تھا۔ یہ خطرہ طیارہ بردار کے لئے دوسرا خطرہ تھا۔ پہلا خطرہ تو آبدوز سے تھا جو چپکے سے زیر آب سفر کرتی ہوئی کسی طیارہ بردار کے نزدیک جا پہنچتی اور اسے تارپیڈو (بحری میزائل) مار کر غرق کر سکتی تھی۔ انہی خطرات کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک نے اپنے اپنے طیارہ برداروں کو ڈی کمیشن (غیر فعال) کرنا شروع کر دیا۔ جن ممالک نے اپنے طیاروں کو ڈی کمیشن کیا ان میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، جاپان اور ہالینڈ شامل تھے۔ پیشہ ورانہ حلقوں میں یہ بحث بڑی شدت سے چل پڑی کہ طیارہ بردار ایک بہت مہنگا ہتھیار ہے اور اس کو میزائل اور آبدوز سے جو خطرات لاحق ہو چکے ہیں، ان کے ہوتے ہوئے اس کا نہ ہونا، اس کے ہونے سے بہتر ہے۔ باایں ہمہ بعض جدید ممالک نے اپنی بحریاؤں (Navies) میں ان کو موقوف (Decomission) نہ کیا اور باقی رکھا۔ ان ملکوں میں فرانس، اٹلی، روس، برطانیہ اور سپین شامل تھے۔

طیارہ بردار ”پالنے“ کا سب سے زیادہ شوق ہمارے ہمسائے انڈیا کو چرایا۔ ایک وقت تھا کہ اس کے پاس تین طیارہ بردار تھے۔ اب ان میں سے دو کو غیر فعال بنایا جا چکا ہے اور ایک ابھی تک باقی ہے۔آپ شائد حیران ہوں گے کہ جنگ عظیم دوم کے بعد جن ملکوں نے اپنے طیارہ بردار ڈی کمیشن کئے ان میں جاپان اور برطانیہ شامل تھے۔ جاپان اس جنگ کا شکست خوردہ محوری ملک تھا جس نے 20عدد طیارہ برداروں کو غیر فعال بنایا اور دوسرا فاتح اتحادی ملک برطانیہ تھا جس نے صرف 2طیارہ بردار باقی رکھ کر 41کو غیر فعال کر دیا۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا یہ ایک بہت مہنگا ویپن سسٹم تھا لیکن چونکہ اس نے دوسری جنگ عظیم کے آخری دو برسوں میں جاپان کو شکست دی تھی اور اس شکست میں طیارہ برداروں کا بہت بڑا ہاتھ تھا، اس لئے پینٹاگون نے نہ صرف یہ کہ ان کو باقی رکھا بلکہ ان کی فائر پاور اور ان کے حفاظتی ہتھیاروں میں اضافہ کیا اور ڈیزل کی بجائے جوہری ری ایکڑوں سے چلنے والے طیارہ بردار بھی بنائے جو اس قدر دیوہیکل تھے کہ ایک ایک میں 5000ٹروپس کا عملہ بھی شامل ہے جس کے شب و روز سمندر ہی میں گزرتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے لئے حکومتِ امریکہ کو اربوں ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

آج صرف اور صرف امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس 11عدد طیارہ بردار گروپ موجود ہیں جو بحرالکاہل، بحراوقیانوس اور بحرہند کے سینہ ء آب پر رواں دواں رہتے ہیں۔ چین چونکہ ابھی ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے اس لئے اس نے دنیا کو یہ بھی باور کروانا ہے کہ وہ اس جدید ترین اور گرانڈیل بحری ویپن کو بنا بھی سکتا ہے اور آپریٹ بھی کر سکتا ہے۔ فی الحال چین کے پاس 2طیارہ بردار ہیں جو جدید ترین ہیں اور ان میں سٹیٹ آف دی آرٹ بحری وار ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے امریکہ کو بتا دیا ہے کہ وہ دن دور نہیں کہ جب چین کے طیارہ بردار بھی دنیا کے تینوں سمندروں میں دندناتے دیکھے جا سکیں گے!

اب آتے ہیں، اصل موضوع کی طرف…… جو یہ ہے کہ امریکہ کے ایک بہت بڑے طیارہ بردار (جس کا نام یو ایس ایس روز ویلٹ ہے) میں کرونا کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔ ابھی کچھ روز پہلے جب اس وارشپ کے کپتان کروزیر (Crozier) کو پتہ چلا تو اس نے اپنے طیارہ بردار کو بحرالکاہل کے ایک جزیرے گوام میں لنگر انداز کیا اور ایک ہزار سے زائد بیمار افسروں اور دوسرے مریض عملے کو گوام کے ہوٹلوں اور ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈوں میں منتقل کیا (یہ جزیرہ جس کا نام گوام (Guam) ہے، بحرالکاہل کے بڑے بڑے جزائر میں شامل ہے جس کا طول 30میل اور عرض 10میل ہے اور یہاں امریکہ کا ایک ایک فضائی اور بحری مستقر بھی ہے۔ اس جزیرے کی تاریخ اور اس کا جغرافیہ بہت دلچسپ ہے لیکن ان موضوعات کو یہاں بیان کرنے کے لئے چار پانچ کالموں کی ضرورت ہوگی۔ دوسری جنگ عظیم میں بحرالکاہل کے جن جزیروں نے نہائت خونریز لڑائیوں کا نظارہ کیا ان میں اوکی ناوا، مارشل، آیوجسیما، ہوائی اور گوام شامل ہیں)

اس طیارہ بردار کے کیپٹن کروزیر نے حکامِ بالا کو چار صفحات پر مشتمل ایک خط لکھا جس میں کہا کہ جب تک اس وارشپ سے 3000مزید عملے کو نہیں نکالا جاتا تب تک اس شپ کے آپریشنوں اور اس کے ذمے لگائے گئے جنگی فرائض کی بجاآوری کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اس لئے امریکی بحریہ کو جلد از جلد مطلوبہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کروزیر کا یہ خط کسی نہ کسی طرح لیک ہو کر منظر عام پر آ گیا اور وارشپ کے عملے کے 4000افسروں اور جوانوں کے لواحقین نے آسمان سر پر اٹھا لیا کہ ان کا کیا بنے گا۔ امریکہ میں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق کرونا وائرس سے 6000سے زیادہ امریکی موت کا شکار ہو چکے ہیں۔امریکی وزارتِ دفاع کو اب یہ خطرہ لاحق ہو چلا ہے کہ اگر اس ایک طیارہ بردار (یو ایس ایس روز ویلٹ) پر کرونا کی وبا پھوٹ سکتی ہے اور ہزاروں افراد اس کی زد میں آکر ناکارہ (داخلِ ہسپتال) ہو سکتے ہیں تو امریکن نیوی کے دوسرے 10طیارہ بردار جہازوں کے عملے کا کیا بنے گا؟ کیا ان پر بھی یہ وائرس حملہ آور ہو گا؟کیا ان کے افسروں اور جوانوں کو بھی جہاز خالی کرنے پڑیں گے؟ ان وارشپس کو وائرس سے ”پاک“ کرنے کا آپریشن کتنا بڑا چیلنج ہو گا؟ اس کے اندر رکھے حوئے ہتھیاروں اور دوسرے ضروری ساز و سامان (Equipment) کو کس طرح کارگر رکھا جا سکے گا اور اس کے جوہری ری ایکٹر کو رواں دواں رکھنے اور اس کی دیکھ بھال کرنے کے لئے جو کم سے کم عملہ درکار ہوگا، وہ کہاں سے آئے گا؟…… کچھ امریکی تھنک ٹینک تو یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ اگر نیوی میں کرونا پھوٹ سکتا ہے تو باقی تین سروسوں (آرمی،ائر فورس، میرین) میں کیوں نہیں پھوٹ سکتا؟…… اور اگر ایسا ہو گیا تو امریکہ کی سمندر پار افواج جو مختلف ممالک میں صف بند رکھی گئی ہیں اور علاوہ ازیں اندرون ملک جو فوج (ملٹری) تعینات ہے، اس کا انجام کیا ہو گا؟……

امریکی افواج میں ہر سروس (آرمی، نیوی، ائر فورس، میرین)کا ایک ایک وزیر بھی ہوتا ہے امریکی بحریہ کے وزیر (Navy Secretary) تھامس موڈلی (Modly) نے روز ویلٹ کے کپتان کو سلسلہ ء کمانڈ کی پیروی نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کمانڈ سے فوری طور پر برطرف کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے سب سے پہلے مجھے مطلع کرنا چاہیے تھا۔ کپٹن کروزیر اب اپنے طیارہ بردار کی کمانڈ چھوڑ چکا ہے۔ لیکن اس کے 5000افراد پر مشتمل عملے نے اپنے کپتان کو ہیرو کا درجہ دیا ہے اور اسے رخصت کرتے ہوئے ان ہزاروں لشکریوں نے اپنے کمانڈر کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ کروزیر کو سیک کرنے کے اس فیصلے کو امریکی اپوزیشن نے ایک سیاسی ایشو بنا دیا ہے۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے صدر ٹرمپ پر سخت تنقید کی ہے اور انہیں آڑے ہاتھوں لے کر مطالبہ کیا ہے کہ کروزیر کو سیک کرنے کی بجائے موڈلی کو سیک کیا جائے کہ کروزیر نے تو اپنے عملے کی جانوں کی حفاظت کی اور کسی بھی وارشپ پر اگر سب سے زیادہ کوئی قیمتی اثاثہ ہوتا ہے تو وہ اس کا عملہ ہوتا ہے۔ کروزیر نے اس اثاثے کو بچایا ہے لہٰذا اس کو واپس روز ویلٹ کی کمانڈ دی جائے اور امریکی نیوی کے دوسرے طیارہ برداروں کی خیر منائی جائے!(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -