پاکستان میں کرونا سے مزید 5افراد جاں بحق، 594نئے کیسز، تعداد 3ہزار 755ہو گئی

پاکستان میں کرونا سے مزید 5افراد جاں بحق، 594نئے کیسز، تعداد 3ہزار 755ہو گئی

  

اسلام آباد/لاہور/کینبرا/بیجنگ/ووہان /نئی دہلی /واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک،جنرل رپورٹر،شہنوا) ملک میں کرونا سے مزید 5 مریض جاں بحق ہونے پر تعداد 52 ہوگئی جبکہ کرونا وائرس میں مبتلا مجموعی کیسز 3755 تک جا پہنچے۔ملک میں گزشتہ روز جاں بحق ہونیوالے 3مریضوں کا تعلق پنجاب اور2مریضوں کا تعلق سندھ سے تھا۔ملک بھر میں اب تک کرونا سے ہونے والی 52 ہلاکتوں میں سے سب سے زیادہ سندھ میں 17 ہلاکتیں ہوئی ہیں، اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں 16، پنجاب 15 جبکہ گلگت بلتستان میں 3 اور بلوچستان میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔پنجاب میں گزشتہ روز کرونا وائرس کے مزید 538 کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 1918 ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ صوبے میں 3 ہلاکتیں بھی سامنے آئیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کی گئی ہیں، اس طرح صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔سندھ میں کرونا وائرس سے مزید 2 مریض انتقال کرگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 17 ہوگئی جبکہ مزید 51 کیسز سامنے آنے کے بعد کیسز کی تعداد 932 تک جا پہنچی۔سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے ہلاکتوں اور کیسز کی تصدیق کی اور ساتھ ہی بتایا کہ صوبے میں کرونا سے مزید 130 مریض صحت یاب ہوگئے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 253 ہوگئی ہے۔خیبرپختونخوا میں کرونا کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، جبکہ صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد تعداد 405 ہے۔ خیبرپختونخوا میں اب تک کرونا وائرس سے مجموعی طور پر 62 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔گلگت بلتستان میں کرونا کا صرف ایک کیس سامنے آیا ہے جس کے بعد گلگت بلتستان میں کیسز کی مجموعی تعداد 211 تک جا پہنچی ہے۔گلگت میں مہلک وائرس سے متاثرہ 15 مریض صحتیاب بھی ہوچکے ہیں جبکہ 3 افراد وفات پاچکے ہیں۔بلوچستان میں بھی کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، صوبے میں کرونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 192 ہے۔صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق 9 ڈاکٹروں سمیت 54 افراد میں مقامی طور پر کرونا وائرس منتقل ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔دوسری جانب صوبے میں کرونا وائرس سے اب تک 60 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ جام کمال نے کی۔وفاقی دارالحکومت میں کرونا وائرس کے مزید 4 کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 82 ہو گئی جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کی گئی ہے۔آزاد کشمیر میں کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا لہٰذا وہاں متاثرہ مریضوں کی تعداد 15 ہے۔ دوسری جانب دنیا بھر میں کرونا وائرس کے باعث متاثر ہ افراد کی تعداد 13لاکھ کے قریب اور ہلاکتیں 70ہزار سے زائد ہوگئیں،سپین میں متاثرہ افراداورہلاکتوں میں کمی آنا شروع ہوگئی جبکہ جرمنی میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی،آسڑیلیا میں بھی کرونا مریضوں کی تعداد میں کمی آگئی، آسٹریلوی محققین نے سارس-سی اووی- 2 وائرس کی ممکنہ ویکسین کی آزمائش شروع کردی، بھارت میں کرونا وائرس سے ہلاکتیں 109اور تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد 4 ہزار67ہوگئی،ویتنام میں کروناوائرس کی روک تھام اور احتیاط کے ضوابط کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور مقدمات ہونگے،جاپانی وزیر اعظم نے ٹوکیو اور دیگر بڑے شہروں میں ہنگامی صورتحال نافذ کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی،چین کے صوبہ ہوبے میں مدد دینے والے طبی کارکن قرنطینہ اور آرام کے بعد کام پر واپس پہنچ گئے۔جان ہاپکنز یونیورسٹی کے تخمینہ کے مطابق دنیا بھر میں نوول کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 70ہزار سے تجاوز کرگئی۔ یونیورسٹی کے سینٹر برائے سسٹمز سائنس اینڈ انجینئرنگ کے انٹرایکٹو نقشہ کے مطابق نوول کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تازہ ترین تعداد70ہزار356تک پہنچ گئی ہے جبکہ تصدیق شدہ کیسز 12 لاکھ 86 ہزار409 تک پہنچ گئے ہیں۔ اٹلی میں سب سے زیادہ 15 ہزار887 اموات دیکھنے میں آئیں جہاں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 1 لاکھ 28 ہزار948 ہے، اس کے بعد سپین میں اموات کی تعداد13ہزار55 اور کیسز کی تعداد1 لاکھ 35 ہزار32 ہے۔امریکہ میں نوول کرونا وائرس کے 3 لاکھ 37 ہزار933 تصدیق شدہ کیس رپورٹ ہوئے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد 9 ہزار653 ہے۔آسٹریلیا میں نوول کروناوائرس کیسز میں اضافے کی شرح 2 فیصد سے نیچے آگئی ہے۔ افغانستان کی وزارت صحت عامہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ مزید30کیسزسامنے آئے ہیں، جس سے ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 367ہوگئی ہے۔ادھر چین کے محکمہ صحت نے کہاہے کہ چینی مین لینڈ پر نوول کروناوائرس کے39مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 38درآمدی ہیں۔کرونا وائرس کی وجہ سے امریکا میں مسلسل پانچویں روز ایک ہزار سے زائد اموات ہونے کے بعد مجموعی تعداد ساڑھے 9 ہزار تک پہنچ گئی اور بیماروں کی تعداد 3 لاکھ 32 ہزار ہو چکی ہیں جبکہ آئرش وزیراعظم نے کورونا سے لڑنے کے لیے خود کو پھر سے ڈاکٹر کی حیثیت سے رجسٹرڈ کرالیا۔

کرونا وائرس

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کیخلاف ڈاکٹر اور میڈیکل سٹاف ہمارا ہر اول دستہ ہے۔ ڈاکٹرز اور طبی عملے کو ہر حال میں اور ترجیحی بنیادوں پر ان کی ضروریات کے مطابق حفاظتی سامان فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ہر ممکن اقدامات لئے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے ملک میں کرونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس کے دوران کیا، اجلاس میں وفاقی وزرا اسد عمر، مخدوم خسرو بختیار، حماد اظہر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاونین خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر معید یوسف، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل اور سینئر افسران اجلاس میں شریک تھے۔وزیرِ اعظم کو کرونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال اور کورونا متاثرین کی نگہداشت کے حوالے سے انتظامات پر چیئرمین این ڈی ایم اے اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ملک بھر میں 136 ہسپتالوں میں 3300 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لئے حفاظتی کٹس کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے این ڈی ایم اے ہسپتالوں کی انتظامیہ سے براہ راست رابطہ استوار کر لیا۔وزیراعظم کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 49 ہزار 500 حفاظتی کٹس پہلے ہی تمام صوبوں کے مختلف ہسپتالوں میں فراہم کی جا چکی ہیں۔ مزید کٹس کی ہسپتالوں کوفراہمی آئندہ ایک دو روز میں مکمل کر لی جائے گی۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ میں بتایا کہ این ڈی ایم اے کے پاس حفاظتی کٹس اور ماسکس کی کوئی کمی نہیں، ہمارا ہدف مطلوبہ تعداد میں وینٹی لیٹرز کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے جس کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات جاری ہیں۔شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں روزانہ کی بنیاد پر کرونا ٹیسٹ کی استعداد میں اضافہ کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تکنیکی عملے کی دستیابی اور ان کی تربیت کے حوالے سے بھی خصوصی اقدامات لئے جا رہے ہیں۔وزیراعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے فنڈز کا استعمال ان منصوبوں پر کیا جائے جن سے چھوٹے درجے اور درمیانے درجے کی صنعتیں وابستہ ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا وائرس کی صورتحال کے تناظر میں ملک میں معاشی سرگرمیوں کو رواں رکھنے اور خصوصاً غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں اور تعمیراتی شعبے کی بحالی کے ثمرات نچلے طبقے خصوصا مزدوروں تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ترقیاتی منصوبوں اور معاشی سرگرمیوں کی روانی کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی۔

وزیراعظم عمران خان

مزید :

صفحہ اول -