کرونا کے ملکی معیشت پر مضر اثرات سے نبردار آزما ہونے میں مشکلات کا سامنا: شاہ محمود

  کرونا کے ملکی معیشت پر مضر اثرات سے نبردار آزما ہونے میں مشکلات کا سامنا: ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عالمی وبانے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، پاکستان جیسے کم معاشی وسائل کے حامل ترقی پذیر ممالک کو، اس وبا اور ملکی معیشت پر اس کے مضر اثرات سے نبرد آزما ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے،ایک طرف برآمدات کی شرح میں بہت حد تک کمی واقع ہو چکی ہے تو دوسری طرف لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں،اس صورت حال کے پیش نظر، وزیر اعظم عمران خان نے کم وسائل کے حامل، ترقی پذیر ممالک کو واجب الادا قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے کی تجویز دی ہے جسے مختلف بین الاقوامی فورمز پر زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرونا وبائی صورتحال اور اس وبا کے نتیجے میں معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا۔جس میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر مملکت برائے خزانہ عماد اظہر نے شرکت کی۔سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور وزارت خارجہ کے سینئر افسربھی اجلاس میں شریک ہوئے،پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم اور جنیوا میں پاکستان کے مستقل مندوب خلیل ہاشمی بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیر خارجہ نے شرکاء اجلاس کو قرضوں میں سہولت سے متعلق، وزیر اعظم عمران خان کی تجویز کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے حوالے سے کی گئی اپنی حالیہ کاوشوں سے بھی آگاہ کیا۔وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ، سیکرٹری جنرل او آئی سی، سیکرٹری جنرل شنگھائی تعاون تنظیم، یورپی اور سارک ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونیوالے حالیہ ٹیلیفونک رابطوں سے بھی، شرکاء اجلاس کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ واجب الادا قرضوں کی ری سٹرکچرنگ، جہاں ایک طرف کمزور معیشتوں کو اس عالمی چیلنج سے نمٹنے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں مدد دے گی تو دوسری طرف دیرپا اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو گی۔وزیر خارجہ نے مستقل مندوبین کو بھی اس حوالے سے بین الاقوامی فورمز پر اپنی کاوشیں بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔علاوہ ازیں شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل والادی میرنوروف سے ٹیلیفونک گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم کے ذریعے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے تاکہ اس وبا کے انسداد کے لیے موثر حکمت عملی اپنائی جا سکے، چین نے جس طرح اس عالمی وبا کو شکست دی ہے وہ قابل تحسین ہے ہمیں چین کے تجربات سے استفادہ کرنا ہو گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے، قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کی تجویز کو آگے بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریگی۔دونوں رہنماؤں کے درمیان کرونا عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے موثر لائحہ عمل اپنانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ سیکرٹری جنرل شنگھائی تعاون تنظیم نے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی تجویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کی معاشی معاونت وقت ہی اہم ضرورت ہے انہوں نے یقین دلایا کہ شنگھائی تعاون تنظیم سیکرٹریٹ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے تمام ممکنہ کاوشیں بروئے کار لاتا رہے گا۔ وزیر خارجہ نے سیکرٹری جنرل شنگھائی تعاون تنظیم کو حالات معمول پر آنے کے بعد دورہ پاکستان کی دعوت دی جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کرلیا۔

شاہ محمود قریشی

مزید :

صفحہ اول -