عمران خان کیساتھ پہلے جیسے تعلقات نہیں رہے،جہانگیر ترین

    عمران خان کیساتھ پہلے جیسے تعلقات نہیں رہے،جہانگیر ترین

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے وزیراعظم عمران خان کیساتھ پہلے جیسے تعلقات نہیں رہے،پارٹی میں آدھے لوگ میرے خلا ف ہیں،چینی سکینڈل رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں،رپورٹ بنانے والوں کو مارکیٹ کا علم نہیں،سبسڈی کے56 کروڑ کسی صورت واپس نہیں کروں گا ملک میں کاروبار کو جرم نہ بنایا جائے کوئی غلط کام نہیں کیا،پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سے میرے گزشتہ6ماہ سے اختلافات ہیں جبکہ اسد عمر کی وزارت خزانہ میری وجہ سے نہیں بلکہ عمران خان کی مرضی کیخلاف کام کرنے کی وجہ سے گئی تھی،عمران خان اور واجد ضیاء کو کسی نے دھمکیاں نہیں دیں۔پیر کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو میں انکا مزید کہنا تھا میری ملوں سے ملکی پیداوار کی20فیصد چینی بنتی ہے،صرف8 فیصد گنا خود کاشت کرتا ہوں جبکہ بقیہ 92فیصد کسانوں سے خریدتا ہوں،ہمیشہ دوسروں سے زیادہ قیمت پر گنا خرید کر سب سے سستی چینی فروخت کرتا ہوں،میرے بارے میں غلط باتیں پھیلائی جارہی ہیں،کروڑوں روپے کمانے کی باتیں جھوٹ ہیں،چینی کے کاروبار میں سیاست میں آنے سے 10سال پہلے سے ہوں۔جہانگیر ترین نے کہا سبسڈی منافع ہرگز نہیں ہوتا جبکہ چینی برآمد کرنے سے ملک میں چینی کی کوئی قلت نہیں ہوئی۔میں نے چینی دوبارہ امپورٹ کرنے کی بات کبھی نہیں کی۔ میری صرف6شوگر ملیں ہیں اس کے علاوہ دیگر لوگوں کی بھی74 ملیں ہیں،ان سے بھی سبسڈی کا سوال ہونا چاہئے،ملک میں گنے کی قیمت ریگولیٹڈ ہے،حکومت پالیسی بناتی ہے جبکہ شوگر ملز اسے آگے بڑ ھا تی ہیں لیکن چینی کی صنعت کو آزاد ہونا چاہئے۔اسد عمر سے کبھی چینی کے موضوع پر بات نہیں کی،وہ خود فیصلہ کرنیوالے ہیں،میں نے ان کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔ تحریک انصاف میں آدھے سے زیادہ لوگوں کیساتھ نظریات کا فرق ہے۔ میں نے عمران خان کو قائل کیا کہ سیاسی خاندانوں کے افراد کے بغیر ا لیکشن نہیں جیت سکتے۔پنجا ب میں 60فیصد لوگ سیاسی خاندانوں سے ہیں جو حکومت بنانے میں ہمیشہ کردار ادا کرتے ہیں۔انہی سیاسی لوگوں کو تحریک انصاف میں لانے سے لوگ میرے خلاف ہوگئے ہیں،لیکن میں پارٹی اور عمران خان کیلئے جو بھی اچھا ہوگا وہ بولتا رہوں گا۔عمران خان سے تعلقات میں تھوڑا بہت اتار چڑھاؤ ضرور آیا ہے جو دوبارہ ٹھیک ہوجائیگا۔ میں تحریک انصاف کا حصہ ہوں اور رہوں گا۔حکومت کا بحران چیزوں پر عملدرآمد نہ ہونا ہے۔ہماری جماعت میں مختلف پارٹیوں سے لوگ آئے ہیں اسلئے یکجہتی کی فضاء نہیں،لیکن پارٹی میں یکجہتی بہت ضروری ہے۔ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کہتے ہیں پی ایم ہاؤس میں صرف میرا حکم چلے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار عمران خان کی چوائس ہیں اس لئے ان کی مدد کرنا میرا فرض ہے،لیکن عثمان بزدار خود کوئی کام نہیں کرتے اور ہر بات میں وزیراعظم عمران خان سے مشورہ کرتے ہیں۔ میرا کوئی ملازم ایف آئی اے کی تحویل میں نہیں،ہمارے سٹاف نے ایف آئی اے کو بیان ریکارڈ کروائے ہیں جبکہ ان کا مطلوبہ تمام ریکارڈ اور معلومات ہم نے رضاکارانہ طور پر ایف آئی اے کے حوالے کی ہیں۔ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اس لئے سبسڈی کے56کروڑ روپے واپس نہیں کروں گا،ملک میں تجارت کو جرم نہ بنایا جائے۔ہماری شوگر ملوں پر ایڈمنسٹریٹر بٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ عمران خان واجد ضیاء کو چینی بحران رپورٹ کے بارے میں دھمکیاں دینے کی باتیں بے بنیاد ہیں۔کابینہ میں تبدیلی وزیراعظم عمران خان کا اختیار ہے جبکہ ایف آئی اے کی رپورٹ میں میرے خلاف کوئی چیز نہیں،تفصیلی اور فارنزک رپورٹ آنے کے بعد ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

جہانگیر ترین

مزید :

صفحہ اول -