نیب نے شہباز شریف سے وارثتی جائیداد، فارن اکاؤنٹس، کاروباری تفصیلات طلب کر لیں

    نیب نے شہباز شریف سے وارثتی جائیداد، فارن اکاؤنٹس، کاروباری تفصیلات طلب ...

  

لاہور (آئی این پی) نیب نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں 17 اپریل کو طلبی کے موقع پر وارثت میں ملنے والی جائیداد سمیت دیگر ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے۔ نیب نے شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں 17 اپریل کو طلب کر رکھا ہے اس سلسلے میں انہیں مختلف ریکارڈ ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نیب کے نوٹس کے مطابق شہباز شریف کو وارثت میں ملنے والی جائیداد،بیرون ملک بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور 2005 سے 2007کے دوران بارکلے بینک سے لئے گئے قرض کی تفصیلات طلب کی گئیں ہیں۔ نوٹس کے مطابق شہباز شریف سے ان کی اہلیہ نصرت شہباز کو قصور میں تخفہ میں دیے گئے گھر کی تفصیلات، فیملی کو دئے گئے اور ملنے والے تمام تخائف کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ شہباز شریف سے پوچھا گیا ہے کہ نثار احمد گل اور علی احمد سے کیا تعلق ہے۔شہباز شریف کو ہدایت کی گئی ہے کہ 2008 سے 2019 کے دوران زرعی آمدنی کی تفصیلات فراہم کیں جائیں، ایف بی ار کے ریکارڈ کے مطابق اپنے تمام کاروبار کی تفصیلات فراہم کی جائیں، ماڈل ٹاون 96ایچ کتنے سال تک وزیر اعلی کیمپ ہاؤس رہا، اہل خانہ کے اکاؤنٹس میں ہونے والی بھاری ٹرانزیکشز کے ذرائع بتائیں، نیب کے مطابق 1998 سے 2018کے دوران فیملی کے اثاثے تیزی سے کیسے بڑھے اور پبلک آفس ہولڈر ہونے کی حیثیت سے ان اثاثوں میں اضافے کی وضاحت دیں۔

شہباز،تفصیلات

لاہور(این این آئی)قومی احتساب بیورو (نیب)نے غیر قانونی الاٹمنٹ کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سوالنامہ بھجوادیا۔ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سوالنامہ لندن میں ایون فیلڈ اور 180ایچ ماڈل ٹاؤن کے پتے پر بھجوایاگیا ہے۔نواز شریف کو سوا لنامہ دوسرے طلبی کے نوٹس کیساتھ ہی بھجوایا گیاتھا۔نواز شریف پر الزام ہے انہوں نے 1986میں بطور وزیر اعلیٰ میر شکیل الرحمن کو پلاٹس الاٹ کیے۔نیب نے نوازشریف کو 20اور 31مارچ کو طلب کیا تھا مگر وہ پیش نہیں ہوئے۔

نیب سوال نامہ

مزید :

صفحہ اول -