کرونا وائرس، امریکہ میں علاج کی دریافت تیز کرنے کے خصوصی پروگرام کا آغاز

کرونا وائرس، امریکہ میں علاج کی دریافت تیز کرنے کے خصوصی پروگرام کا آغاز

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) صدر ٹرمپ نے بتایا ہے کہ کرونا وائرس کے علاج کی دریافت کو تیز کرنے کیلئے اس ہفتے سے امریکہ میں ایک خصو صی پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ٹاسک فورس کے ہمراہ نیوز بریفنگ میں، انہوں نے یہ اعلان کرتے ہوئے امریکی عوام کو خبردا ر کیا،کہ اس وباء کے آئندہ دو چار ہفتے بہت سخت ہوں گے، لیکن رواں ہفتے کا سخت ترین ہونے کا امکان ہے، اسلئے وہ خصوصی احتیاط کی ہدایات پر پو ری ذمہ داری سے عملدرآمد کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔ صدر نے امید ظاہر کی کہ فوڈ اینڈ ڈرک اتھارٹی (ایف ڈی اے) نے علاج کے جس پروگرام کا آغاز کیا ہے،اس کے بہت اچھے نتائج ظاہر ہوں گے، جن کے بارے میں جلد معلومات فراہم کروں گا۔ امریکی محکمہ صحت انسانی خون کے پلازمہ کے ذریعے علاج کے جن طریقوں پر تجربے کر رہا ہے، اس سے بھی اس بیماری کی تکلیف اور دورانیہ میں کمی واقع ہوگی۔ صدر ٹرمپ ایک میڈ یکل ماہر ڈاکٹر فاچی کے تحفظات کے باوجود ملیریا کیلئے استعمال ہونیوالی دوا، ہائیڈروکسی کلوروکوئن سے کرونا وائرس کے علاج کے حامی ہیں، جن کی ہدایت پر اس کے ذریعے علاج کے تجربات کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ صدر نے واضح کیا کہ اس دوا کا مریکہ میں وافر سٹاک موجود ہے۔ صدر نے بریفنگ میں مزید بتایا کہ کرونا وائرس کے علاج کیلئے جہاں مثبت نتائج متوقع ہیں، اس دوران ویکسین کی تیاری پر بھی کام ہو رہا ہے جس پر ایک سا ل سے زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے،اسلئے فوری طور پر علاج دریافت کرنے پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ صدر نے ایک اور دوا ”ریمڈیسی ور“ کا ذکر کر تے ہوئے بتایا کہ اس پر تجربات تیسرے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں، جو اس وائرس کے علاج میں موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ بیرون ملک پھنسے امر یکی شہریوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے بتایا چالیس ہزار سے زیادہ امریکیوں کو کامیابی کیساتھ 75 ممالک سے امریکہ واپس لایا جا چکا ہے۔

امریکہ پروگرام آغاز

مزید :

صفحہ اول -