کرونا وائرس کا خوف، ریونیواہلکار چڑچڑے پن کا شکار: اضافی الاؤنس بھی نہ مل سکا

  کرونا وائرس کا خوف، ریونیواہلکار چڑچڑے پن کا شکار: اضافی الاؤنس بھی نہ مل ...

  

لاہور(اپنے نمائندے سے)کرونا وائرس کا خوف اور پنجاب حکومت کی جانب سے دی جانے والی احتیاطی تدابیر کے سبب صوبائی دارالحکومت میں پٹوار خانے بھی تاحال بند،سائلین کی کثیرتعداد نے بھی گھروں سے نکلنا بند کردیا اور ریونیو سٹاف کو حکومت پنجاب کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر عمل در آمد کروانے، مہنگے داموں ماسک سینیٹائزرز بیچنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور گراں فروشوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے ٹاسک دے دیے گئے۔ اس کے علاوہ دوکانوں کو مقررہ ٹائم پر بند کروانے، شادی ہال سیل کروانے میں بھی ریونیو سٹاف متحرک نظر آیا اور پٹواریوں کی زیادہ تر تعداد پٹوار خانے بند کرکے اس وقت ضلعی انتظامیہ کی سب سے بہترین ٹاسک فورس کے طور پر نمایاں نظر آرہی ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اصغر جوئیہ کا کہنا ہے کہ حالات معمول پر آنے کے فوری بعد پٹوار خانوں کی بھی فوری بحالی عمل میں لائی جائے گی اس وقت تو عوام کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنا ہمارا مشن ہے۔دریں اثناء لاک ڈاؤن میں کام کرنے والے محکمہ ریونیو کے ہزاروں ملازمین چڑ چڑا پن، ذہنی دباؤ،بخار اور ڈپریشن جیسے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہونے لگے، اتنی مہلت بھی نہیں مل پا رہی کہ ملازمین معمول کے کرونا ٹیسٹ کروا سکیں۔روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق ڈپٹی کمشنر دانش افضال، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد اصغر جوئیہ، اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاؤن ذیشان رانجھا، اسسٹنٹ کمشنر کینٹ، اے سی شالیمار، اے سی سٹی تبریز صادق مری، اسسٹنٹ کمشنر رائے ونڈ عدنان اور مختلف قانون گوئی کا ریونیو سٹاف سرکاری ڈیوٹیوں کی ادائیگی میں سر فہرست نظر آتا ہے۔ ستم بالا ستم یہ کہ مذکورہ ریونیو سٹاف جو کہ تمام محکموں سے زیادہ کام کر رہا ہے کہ ابھی تک کوئی اضافی الاؤنس یا تنخواہ کی بھی آفر نہیں کی جا رہی جس طرح محکمہ صحت اور پولیس کے ملازمین کو دی جا رہی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -