خفیہ ایجنسیوں کا لاپرواہی سے رپورٹ بنانا شہریوں کے روشن مستقبل سے کھلواڑ: لاہور ہائیکورٹ

خفیہ ایجنسیوں کا لاپرواہی سے رپورٹ بنانا شہریوں کے روشن مستقبل سے کھلواڑ: ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ نے قراردیاہے کہ خفیہ ایجنسیاں لاپرواہی اورسنگدلی کے ساتھ رپورٹیں تیارکرتی ہیں جو ہونہار شہریوں کے روشن مستقبل سے کھلواڑ کے مترادف ہے،مسٹر جسٹس مجاہد مستقیم نے یہ آبزرویشن پنجاب پبلک سروس کمشن کا امتحان پاس کرنے والے شہری یوسف صدیق کی درخواست منظور کرتے ہوئے جاری کی،فاضل جج نے حکم دیاہے کہ ایجنسیوں کی رپورٹس کو کراس چیک کرنے کے لئے سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی)وضع کیاجائے،عدالت نے یہ بھی قراردیا کہ اگر کسی شہری کے خلاف خفیہ ایجنسی منفی رپورٹ دیتی ہے تو اس شہری کو حق حاصل ہے کہ اسے شنوائی کا موقع دیاجائے،عدالت نے مختلف احادیث اور قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے قراردیاہے کہ ہرشخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے،اسے کسی دوسرے کی غلطی پر نہیں پکڑا جاسکتا،درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے پنجاب پبلک سروس کمشن کا امتحان دیا اور وہ پولیس میں سب انسپکٹر کے عہدہ کے لئے منتخب کرلیا گیا۔ میرٹ لسٹ میں اس کا 40واں نمبر تھا لیکن خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ پر اس کا نام منتخب امیدواروں کی فہرست سے نکال دیاگیا،خفیہ ایجنسیوں نے رپورٹ دی تھی کہ اس کے بھائیوں کا کالعدم مذہبی تنظیم سے تعلق ہے،درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اس کے بھائی سرکاری ملازم ہیں،2012ء میں ان کے نام محکمہ داخلہ پنجاب نے فورتھ شیڈول کی لسٹ میں سے نکال دیئے تھے اور دوبارہ کبھی ان کا نام اس لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا، فاضل جج نے قراردیاکہ خفیہ اداروں نے بڑی سنگدلی،بے اصولی اورلاپرواہی سے رپورٹ مرتب کی اوررپورٹ کی بنیاد ایک ایسے معاملے کو بنایا جو 2012ء میں ختم ہوچکا تھا،ایسی رپورٹیں شہریوں کے بنیادی حقوق کے بھی منافی ہیں۔

خفیہ رپورٹس

مزید :

صفحہ آخر -