آٹااور چینی بحران کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہونے چاہیے: صدر مملکت

آٹااور چینی بحران کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہونے چاہیے: صدر مملکت

  

اسلام آباد(آئی این پی) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ آٹا اور چینی بحران کے ذمہ داروں کیخلاف ہر صورت کارروائی ہونی چاہیے۔نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں صدر مملکت نے کہا کہ فرانزک آڈٹ آنے کے بعد ذمہ داروں سے استعفوں کا مطالبہ کیا جائے، رپورٹ آنے کے بعد پارٹی رہنما جہانگیرترین سرکاری میٹنگز میں شریک نہیں ہورہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے دونوں رپورٹ پڑھی ہیں،پہلی بار ایسی رپورٹ پبلک ہوئی ہے جس کا کریڈیٹ وزیر اعظم کو جاتا ہے، سبسڈی پہلے بھی ملتی رہی تھی، پہلی بار پتہ چلا کہ یہ پیسہ کسان کے بجائے کسی کی جیب میں جا رہا ہے۔کرونا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے بہت اچھا کام کیا۔ وزیر اعلی سندھ کو فون کرکے مبارکباد دی ہے۔ حکومت کی کرونا سے نمٹنے کے لئے تیاری ہے۔کرونا سے متعلق 18 ویں ترمیم پر اٹھتے سوالات پر صدر مملکت نے کہا کہ اس ترمیم کو برقرار رہنا چاہیے۔صوبے اچھا کام کر رہے ہیں۔ٹائیگر فورس پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے خود اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے رابطہ کیا اور انہیں بھی اپنے نوجوانوں کو باہر نکا لنے کا کہا۔پارلیمان میں جاری سیاسی دھینگا مشتی پر صدر مملکت نے کہا کہ کرونا کا معاملہ ختم ہوجائے تو کوشش کروں گا کہ پارلیمان مثبت اکھاڑہ بنے اور مشاورت سے قانون سازی ہو۔ قانون سازی کے معاملات عدالت میں نہ جائیں۔ پی ایم ڈی سی کا آرڈیننس کالعدم قرار دئے جانے کی اصل ذمہ دار پارلیمان ہے میرے پاس آرڈیننس اجرا کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔نیب کے قانون پر صدر پاکستان عارف علوی نے کہا کہ قانون کو بہتر کیا جائے ختم نہ کیا جائے۔ قاضی فائز عیسی پر ریفرنس پر صدر مملکت کا کہنا تھا ریفرنس واپس نہیں لے رہا۔ فیصلہ متعلقہ فورم ہی کرے گا۔

صدرمملکت

مزید :

صفحہ آخر -