حکومت کسانوں سے گندم 1500روپے من کے حساب سے خریداری کا اعلان کرے: سراج الحق

 حکومت کسانوں سے گندم 1500روپے من کے حساب سے خریداری کا اعلان کرے: سراج الحق

  

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پورے ملک میں گندم کی کٹائی کا آغاز ہو چکا ہے مگر کرونا جیسی مہلک آفت سے کسانوں کو بچانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں ہیں۔ موجودہ حالات میں کسانوں کو درپیش مسائل فوری طور پر حکومتی توجہ کے منتظر ہیں۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کسانوں کو فوری طور پر حفاظتی سامان فراہم کیا جائے اور گندم کو سمیٹنے میں ا ن کی مدد کی جائے۔ گندم ہمارے ملک کی فوڈ سیکیورٹی کیلئے بہت اہمیت کی حامل اور کسان کیلئے سب سے بڑی کیش کراپ ہے۔ حکومت کسان سے گندم کے آخری دانے تک خریداری کا بندوبست اورکسانوں سے گندم1500 روپے من کے حساب سے خریداری کا اعلان کرے۔ آ ٹے اور چینی کے ذمہ داروں سے سبسڈی کی رقم وصول کر کے اسکے اصل حقدار کسانوں اور مزدوروں میں تقسیم کی جائے۔ملک میں زرعی ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے زراعت کیلئے کسانوں کے نمائندوں کی مشاورت سے زرعی پالیسی کا اعلان کیا جائے۔ بارہ سو ارب امدادی رقم میں سے کسانوں کو بھی ان کا حصہ دیا جائے۔ شوگر ملز مافیا سے رواں اور سابقہ سالوں کی گنے کے کاشتکاروں کی رقوم فوری طور پر دلوائی جائیں۔کسانوں کو آئندہ فصلوں کی کاشت کیلئے بیج اورکھاد مفت مہیا کی جائے اور آبیانہ معاف کیا جائے۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے جے آئی کسان کے صدر چوہدری نثار احمد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں اور ژالہ باری سے پورے ملک میں گندم کی تیار فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے جس نے کسان کی کمر توڑ دی ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے گھروں میں محصور کسان اپنی سال بھر کی روز ی سے محرورم ہوگئے ہیں۔گندم کی کم پیداوار اور تباہی سے ملک میں آئندہ سال خوراک کی کمی کا مسئلہ سر اٹھا سکتا ہے۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -