سٹیل، سیمنٹ انڈسٹری پر عائد ٹیکس کم کئے جائیں، کراچی انڈسٹریل الائنس

سٹیل، سیمنٹ انڈسٹری پر عائد ٹیکس کم کئے جائیں، کراچی انڈسٹریل الائنس

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمرا ن خان کا کنسٹرکشن انڈسٹری کے لئے پیکیج کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔موجودہ حالات میں حکومت کے پاس اس پیکیج سے بہتر آپشن موجود نہیں تھا جس پر عمل درآمد سے40 صنعتوں میں جان پڑ جائے گی جبکہ لاکھوں افراد کو روزگار ملے گا۔ پیکیج کو مزید نتیجہ خیز بنانے کے لئے اسٹیل اور سیمنٹ انڈسٹری پر عائد ٹیکس بھی کم کئے جائیں جبکہ قوانین کو بھی بہتر بنایا جائے۔ میاں زاہد حسین نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے اس شاندار پیکیج کا اعلان ہوتے ہی بعض عناصر نے اسکے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔یہ لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور انھیں زمینی مسائل کا ادراک نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ کنسٹرکشن کے شعبہ میں قوانین کمزور ہیں جس سے عوام کا استحصال آسان ہو جاتا ہے جس نے بداعتمادی کو ہوا دی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کالا دھن رکھنے والوں کا پسندیدہ شعبہ رہا ہے اور موجودہ پیکیج سے ٹیکس چوروں کو بھی بڑا ریلیف ملے گا،معیشت کی دستاویز بندی کی کوششوں کو دھچکا لگے گا اور زیر زمین معیشت کا حجم بڑھے گامگر موجودہ حالات میں معاشی سرگرمیاں بحال کر کے عوام کو روزگار دینے کے لئے حکومت کے پاس یہ کڑوی گولی نگلنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ جس طرح تعمیراتی شعبہ کو ٹیکس مراعات دی گئی ہیں اور انھیں ٹیکس حکام اور دیگر اداروں کی دست برد سے محفوظ کیا گیا ہے اسی طرح معیشت کے دوسرے شعبوں کو بھی ریلیف دیا جائے تو ملکی معیشت کی ترقی کی رفتار، محاصل اور روزگار کے مواقع بڑھ جائیں گے جو کہ کاروباری برادری کا دیرینہ مطالبہ ہے۔

ملکی معیشت اسی وقت ترقی کر سکتی ہے جب کاروباری برادری کے ہاتھ پیر باندھ کر رکھنے اور انھیں مسلسل ہراساں کرنے کی پالیسی ختم کر دی جائے۔تعمیراتی شعبہ کو مراعات دے کر بزنس کمیونٹی کے موقف کو درست تسلیم کیا گیا ہے جو خوش آئند ہے۔

مزید :

کامرس -