کرونا سے نبرد آزما ڈاکٹرز اور طبی عملے کو حفاظتی سامان کی فراہمی اولین ترجیح: وزیراعظم

کرونا سے نبرد آزما ڈاکٹرز اور طبی عملے کو حفاظتی سامان کی فراہمی اولین ترجیح: ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کیخلاف ڈاکٹر اور میڈیکل سٹاف ہمارا ہر اول دستہ ہے۔ ڈاکٹرز اور طبی عملے کو ہر حال میں اور ترجیحی بنیادوں پر ان کی ضروریات کے مطابق حفاظتی سامان فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ہر ممکن اقدامات لئے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے ملک میں کرونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے جائزہ اجلاس کے دوران کیا، اجلاس میں وفاقی وزرا اسد عمر، مخدوم خسرو بختیار، حماد اظہر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاونین خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر معید یوسف، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل اور سینئر افسران اجلاس میں شریک تھے۔وزیرِ اعظم کو کرونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال اور کورونا متاثرین کی نگہداشت کے حوالے سے انتظامات پر چیئرمین این ڈی ایم اے اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ملک بھر میں 136 ہسپتالوں میں 3300 وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لئے حفاظتی کٹس کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے این ڈی ایم اے ہسپتالوں کی انتظامیہ سے براہ راست رابطہ استوار کر لیا۔وزیراعظم کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 49 ہزار 500 حفاظتی کٹس پہلے ہی تمام صوبوں کے مختلف ہسپتالوں میں فراہم کی جا چکی ہیں۔ مزید کٹس کی ہسپتالوں کوفراہمی آئندہ ایک دو روز میں مکمل کر لی جائے گی۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے بریفنگ میں بتایا کہ این ڈی ایم اے کے پاس حفاظتی کٹس اور ماسکس کی کوئی کمی نہیں، ہمارا ہدف مطلوبہ تعداد میں وینٹی لیٹرز کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے جس کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات جاری ہیں۔شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں روزانہ کی بنیاد پر کرونا ٹیسٹ کی استعداد میں اضافہ کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تکنیکی عملے کی دستیابی اور ان کی تربیت کے حوالے سے بھی خصوصی اقدامات لئے جا رہے ہیں۔وزیراعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے فنڈز کا استعمال ان منصوبوں پر کیا جائے جن سے چھوٹے درجے اور درمیانے درجے کی صنعتیں وابستہ ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا وائرس کی صورتحال کے تناظر میں ملک میں معاشی سرگرمیوں کو رواں رکھنے اور خصوصاً غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں اور تعمیراتی شعبے کی بحالی کے ثمرات نچلے طبقے خصوصا مزدوروں تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ترقیاتی منصوبوں اور معاشی سرگرمیوں کی روانی کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی۔

اسلام آباد/کینبرا/بیجنگ/ووہان /نئی دہلی /واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک،شہنوا) ملک بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 397 نئے مریضوں کے بعد وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 ہزار 424ہوگئی۔پنجاب میں 1627، سندھ میں 881، خیبر پختونخوا میں 405، گلگت بلتستان میں 211، بلوچستان میں 202،اسلام آباد میں 82جبکہ آزاد کشمیر میں 16 کرونا وائرس کے مریض سامنے آ چکے ہیں۔ اب تک کرونا وائرس میں مبتلا 50 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، 17 کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 259 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب دنیا بھر میں کرونا وائرس کے باعث متاثر ہ افراد کی تعداد 13لاکھ کے قریب اور ہلاکتیں 70ہزار سے زائد ہوگئیں،سپین میں متاثرہ افراداورہلاکتوں میں کمی آنا شروع ہوگئی جبکہ جرمنی میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی،آسڑیلیا میں بھی کرونا مریضوں کی تعداد میں کمی آگئی، آسٹریلوی محققین نے سارس-سی اووی- 2 وائرس کی ممکنہ ویکسین کی آزمائش شروع کردی، بھارت میں کرونا وائرس سے ہلاکتیں 109اور تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد 4 ہزار67ہوگئی،ویتنام میں کروناوائرس کی روک تھام اور احتیاط کے ضوابط کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور مقدمات ہونگے،جاپانی وزیر اعظم نے ٹوکیو اور دیگر بڑے شہروں میں ہنگامی صورتحال نافذ کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی،چین کے صوبہ ہوبے میں مدد دینے والے طبی کارکن قرنطینہ اور آرام کے بعد کام پر واپس پہنچ گئے۔جان ہاپکنز یونیورسٹی کے تخمینہ کے مطابق دنیا بھر میں نوول کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 70ہزار سے تجاوز کرگئی۔ یونیورسٹی کے سینٹر برائے سسٹمز سائنس اینڈ انجینئرنگ کے انٹرایکٹو نقشہ کے مطابق نوول کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تازہ ترین تعداد70ہزار356تک پہنچ گئی ہے جبکہ تصدیق شدہ کیسز 12 لاکھ 86 ہزار409 تک پہنچ گئے ہیں۔ اٹلی میں سب سے زیادہ 15 ہزار887 اموات دیکھنے میں آئیں جہاں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 1 لاکھ 28 ہزار948 ہے، اس کے بعد سپین میں اموات کی تعداد13ہزار55 اور کیسز کی تعداد1 لاکھ 35 ہزار32 ہے۔امریکہ میں نوول کرونا وائرس کے 3 لاکھ 37 ہزار933 تصدیق شدہ کیس رپورٹ ہوئے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہیں امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد 9 ہزار653 ہے۔آسٹریلیا میں نوول کروناوائرس کیسز میں اضافے کی شرح 2 فیصد سے نیچے آگئی ہے۔ افغانستان کی وزارت صحت عامہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ مزید30کیسزسامنے آئے ہیں، جس سے ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 367ہوگئی ہے۔ادھر چین کے محکمہ صحت نے کہاہے کہ چینی مین لینڈ پر نوول کروناوائرس کے39مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 38درآمدی ہیں۔کرونا وائرس کی وجہ سے امریکا میں مسلسل پانچویں روز ایک ہزار سے زائد اموات ہونے کے بعد مجموعی تعداد ساڑھے 9 ہزار تک پہنچ گئی اور بیماروں کی تعداد 3 لاکھ 32 ہزار ہو چکی ہیں جبکہ آئرش وزیراعظم نے کورونا سے لڑنے کے لیے خود کو پھر سے ڈاکٹر کی حیثیت سے رجسٹرڈ کرالیا۔جبکہ نیویارک کے چڑیا گھر میں چار سال کی ملائشین ٹائیگر کو خشک کھانسی پر کرونا ٹیسٹ کرایا گیا جو مثبت آیا۔میڈیارپورٹس میں بتایاگیاکہ چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق 6 مزید شیروں میں بھی سانس میں دشواری کی علامات سامنے آئی ہیں تاہم تاحال ان کے ٹیسٹ نہیں کیے گئے۔ انتظامیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چڑیا گھر کے ملازم سے کرونا وائرس ٹائیگر میں منتقل ہوا۔اس سے قبل پالتو بلیوں اور کتوں میں بھی کورونا وائرس پایا جاچکا ہے تاہم جنگلی جانور میں کورونا کا یہ پہلا کیس ہے۔

کرونا وائرس

مزید :

صفحہ اول -