جے یو آئی کی جانب سے ٹائیگر فورس میں پی ٹی آئی کے ورکروں کی شمولیت کی مذمت

جے یو آئی کی جانب سے ٹائیگر فورس میں پی ٹی آئی کے ورکروں کی شمولیت کی مذمت

  

صوابی(بیورو رپورٹ)جمعیت علماء اسلام صوبہ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل مولانا عطاء الحق درویش نے ملک میں ٹائیگر فورس کے قیام اور احساس کفالت ایمر جنسی پروگرام میں یونین کونسل کی سطح پر تشکیل دی جانے والی کمیٹیوں میں پی ٹی آئی کے ورکروں کو شامل کرانے کی مذمت کر تے ہوئے ان کمیٹیوں کو یکسر مسترد کیا۔ اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کی سطح پر ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس کمیٹی کی نگرانی میں سارے ملک میں صوبوں، اضلاع، تحصیل اور ویلج کونسلوں کی سطح پر غیر جانبدارانہ کمیٹیاں تشکیل دی جائے۔ تاکہ یہ کمیٹیا ں کورونہ وائرس سے متاثرین کو اپنا حق انصاف کی بنیادوں پر فراہم کر سکے۔ موجودہ کمیٹیوں میں ایک استاد، ایک سیکرٹری یو سی، ایک پٹواری اور جو عام دو افراد شامل کئے گئے ہیں عام افراد کا تعلق حکمران جماعت پی ٹی آئی سے ہے جس پر عوام کے تحفظات ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے ملک پاکستان میں سب سے زیادہ نقصان کورونہ وائرس سے نہیں بلکہ بد ترین اور طویل لاک ڈاؤن سے ہو رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف دیہاڑی دار مزدور، عام طبقے کے لوگ بلکہ تاجر برادری بھی بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں یہ طبقہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھر بیٹھ چکا ہے دُنیا میں لاک ڈاؤن وہ حکمران کر رہے ہیں جو لاک ڈاؤن کے دوران اپنے عوام کو گھروں کے اندر ریلیف اور خوراک فراہم کر سکے۔ لیکن بد قسمتی سے پی ٹی آئی کی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان پاکستان کے عوام میں اطمینان اور حوصلے کی بجائے خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران کے ساتھی زلفی بخاری نے ایک سازش کے تحت 23ہزار زائرین ایران سے پاکستان داخل کر کے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ان زائرین کے لئے ٹیسٹ کا بندوبست کیا گیا نہ ہی انہیں قرنطینہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام اور سیاسی قوتوں کو حکومت کی جانب سے ٹائیگر فورسز کا قیام کسی صورت منظور نہیں حکومت ٹائیگر فورس کی آڑ میں اپنی یوتھیوں کو ریلیف اور تعاون دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کورونہ وائرس کے علاوہ تمام بنیادی مسائل کے حل میں بُری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -