قبضہ مافیا کی گٹھ جوڑ سرکاری اراضی پر دکانات کی تعمیر شروع

قبضہ مافیا کی گٹھ جوڑ سرکاری اراضی پر دکانات کی تعمیر شروع

  

ٹانک (نمائندہ خصوصی)عرفان شہید پارک پارک پر قبضہ مافیا اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی گھٹ جوڑ سے اربوں روپے کی سرکاری زمین پر دکانوں کی تعمیر شروع، صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ نوٹس لیں، تفصیلات کے مطابق جنوبی اضلاع کا پسماندہ ترین ضلع ٹانک جس کی کل آبادی 8 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے لیکن یہاں پر عوامی تفریح کیلئے پبلک مقامات نہ ہونے کے برابر ہیں 1990 کی دہائی میں کرسچیئن ہسپتال کے اس وقت کے ایک ڈاکٹر ظہور الدین ریجنلڈ نے ٹانک کے عوام کی سیر و تفریح کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت ٹانک ٹریفک چوک کے قریب واقع تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی سرکاری زمین پر تمام سہولیات سے آراستہ پارک تعمیر کرکے ٹانک کے عوام کو ایک تحفہ دیا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن اور ضلعی حکومتوں کی بے حسی کی وجہ سے پارک کی خستہ حالی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، موجودہ حالت میں عرفان شہید پارک پر قبضہ مافیا اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی ملی بھگت سے سرکاری پارک اراضی پر دکانات بنا دیئے گئے ہیں،سول سوسائٹی ٹانک کے رہنما محمد اسلم، احمد شوری نے وزیر بلدیات اور ڈپٹی کمشنر ٹانک سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹانک کے واحد عوامی تفریح پارک کو قبضہ مافیا سے واگزار کرکے صوبائی حکومت کی جانب سے بیوٹیفیکیشن پروگرام کے تحت پارک کیلئے مختص شدہ 68 لاکھ روپے فنڈ عرفان شہید پارک کے تنزین و آرائش پر خرچ کرکے تمام سہولیات فراہم کی جائے تاکہ ٹانک کے لاکھوں نفوس پر مشتمل آبادی کو ملک کے دوسرے حصوں کی طرح سیر و تفریح کے مواقعے میسر ہوسکیں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -