9 کورونا کے کو ملیر آئسولیشن سینٹر منتقل کردیا گیا ہے۔ غلام مرتضی بلوچ

9 کورونا کے کو ملیر آئسولیشن سینٹر منتقل کردیا گیا ہے۔ غلام مرتضی بلوچ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی وزیر برائے انسانی بستیوں و خصوصی ترقی غلام مرتضی بلوچ نے کہا ہے کہ قائد آباد گلستان سوسائٹی کے نو کورونا پوزیٹو مریضوں کو ملیر آئسولیشن سینٹر میں منتقل کردیا گیا ہے اور ان کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ یہ بات انہوں نے وزیر اعلسندھ سید مراد علی شاۃ کی ہدایت پر کورونا وائرس سے متعلق ڈپٹی کمشنر ملیر کے دفتر میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر ملیر شھزاد فضل عباسی, ڈی ایچ او ملیر ڈاکٹر احمد علی میمن سمیت متعلقہ محکموں کے افسران، قومی اسمبلی کے اراکین سردار جام عبدالکریم جوکھیو اور سید آغا رفیع اللہ، رکن سندھ اسمبلی محمود عالم جاموٹ اور چیئرمین ضلع کونسل سلمان عبداللہ مراد بھی موجود تھے۔ اجلاس میں ڈی ایچ او ملیر ڈاکٹر احمد علی میمن نے ڈسٹرکٹ ملیر قائد آباد اور گلستان سوسائٹی میں 9 کورونا پوزیٹو کیسز آنے کے متعلق آگاہی دی اور بتایا کہ قائد آباد گلستان سوسائٹی کے کورونا پوزیٹو 9 افراد کو ملیر آئسولیشن سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر غلام مرتضی بلوچ نے قائد آباد اور گلستان سوسائٹی میں 9 افراد میں کورونا پوزیٹو ہونے پر قائد آباد سمیت ملحقہ علاقے میں سرکاری و نجی ہسپتالوں میں او پی ڈیز کو فوری طور بند کرنے کی ہدایت کی۔ صوبائی وزیر کی ہدایت پر ڈی ایچ او ملیر نے 6 اپریل سے قائد آباد کے علاقوں میں او پی ڈیز بند کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔ جس کے مطابق اب ہسپتالوں میں صرف ایمرجنسی کو دیکھا جائے گا۔ صوبائی وزیر برائے انسانی بستیوں غلام مرتضی بلوچ اور منتخب اراکین اسمبلی نے ضلع ملیر کی عوام سے درخواست کی کہ کراچی میں لوکل ٹراسمیشن سے کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد عوام سماجی روابط کو انتہائی کم کرتے ہوئے حکومت سندھ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھروں میں رہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر غلام مرتضی بلوچ نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ کورونا وائرس کا کوئی اور علاج نہیں سواء سماجی فاصلوں کے اور میری پورے سندھ کے عوام سے درخواست ہے کہ وہ سندھ حکومت کے لاک ڈاو ن پر مکمل عمل کریں اور اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیوں کو محفوظ رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کا عزم ہے کہ شہریوں کو کورونا وائرس سے بچانے کے لئے تمام وسائل بروکار لائے جائیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -