ضلع باجوڑ اور ضلع مہمند کے درمیان انتظامی حدوپرد جاری تنازعہ شدت اختیار کرگیا

ضلع باجوڑ اور ضلع مہمند کے درمیان انتظامی حدوپرد جاری تنازعہ شدت اختیار ...

  

باجوڑ(نمائندہ خصوصی) ضلع باجوڑ اورضلع مہمند کے درمیان انتظامی حدود پر جاری تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔ دفعہ 144 کے باوجودبھی دونوں اطراف لوگوں کی کثیر تعداد میں جمع رہے، سیاسی و علاقائی مشران کا ضلعی انتظامیہ باجوڑ اور مہمند سے بروقت حل نکالنے کی اپیل۔ شرکاء سے خطاب کے موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما شیخ جہانزادہ، قومی مشر مولانا گل داد خان، نجیب اللہ خان، ملک گلندر، مولانا خان زیب اور دیگر نے کہا کہ چند شر پسند عناصر نے منصوبے کے تحت حالات خراب کرنے کی کوشش کی ہیں، انہوں نے کہا کہ پختون روایات، شریعت اور عدالت میں سے جو صافی قوم کو پسند ہیں وہ ہمیں منظور ہیں،.دونوں اطراف حدود معلوم ہیں، موجودہ وقت ان باتوں کو چھیڑنے کا نہیں تھا۔یاد رہے کہ اس حوالے سے گذشتہ روز انتظامی حدود میں مومند انتظامیہ کی مداخلت کیخلاف ناواگئی دربنو کے مقام پر ایک قومی جرگہ بھی منعقد ہواتھا۔جس میں جرگے نے باجوڑ کی سول انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھاکہ نواگئی کی حدود میں ضلع مومند کی انتظامیہ کی مداخلت کو فی الفور ختم کیاجائے موجودہ وقت میں باجوڑ اور مومند کی انتظامی حدود مامد گریڈ اسٹیشن کے ساتھ متصل لیوی چوکی پر تقسیم ہے مومند انتظامیہ کی اس سے تجاوز علاقے میں شرفساد کو دعوت دینا ہے جرگے نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مامد گٹ کے مقام پر بنائے گئے کیڈٹ کالج کی زمین کا معاوضہ اور اسکے مراعات ناواگئی کے مالکان زمین کو ادا کئے جائے کیونکہ یہ کالج باجوڑ کے حدود میں بنایا گیا ہے۔لیکن تاحال مسئلہ حل نہیں ہوا اور دوسرے روز بھی احتجاجی جرگوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جس میں خون خرابے کا قومی خدشہ موجود ہے۔علاقائی مشران نے اعلیٰ حکام سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -