آٹا چینی بحران پر وزیراعظم نہیں نیب نے کارروائی کرنی ہے، جسٹس وجیہ

آٹا چینی بحران پر وزیراعظم نہیں نیب نے کارروائی کرنی ہے، جسٹس وجیہ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) عام لوگ اتحاد کے چیئرمین جسٹس (ر) وجیہ الدین نے کہا ہے کہ چینی اور گندم کا پی ٹی آئی سے متعلق مسئلہ دوبارہ وہیں پہنچ گیا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔ پچھلے وفاقی بجٹ کے بعد 29 جون 2019ء کو عام لوگ اتحاد نے ایک پریس کانفرنس میں عوام کے سامنے یہ بات رکھی تھی کہ پی ٹی آئی کے اپنے جہانگیر ترین کے مطابق 22 لاکھ من چینی ان کے پاس اسٹوریج میں موجود تھی۔ اس ذخیرے کی موجودگی میں پی ٹی آئی حکومت نے چینی پر فی کلو تین روپے 65 پیسے ٹیکس لگایا۔ آپ کو پتا ہے کہ یہ ٹیکس تو کارخانے دار کا منافع ہوتا ہے۔ فوراً سے چینی کی قیمتوں کو پر لگ گئے اور جہانگیر ترین کو گھر بیٹھے بطور windfall مزید منافع مل گیا۔ اس کے بعد جب حالیہ چینی اور آٹا بحران نے جنم لیا اور بیک ٹو بیک یہ بحران آئے تو ایف آئی اے کی ایک کمیٹی تفتیش کیلئے مقرر کی گئی۔ واجد ضیا کی سربراہی میں کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ واجد ضیا اس سے پہلے نواز شریف کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی مینڈیٹڈ کمیٹی کی سربراہی بھی کرچکے تھے۔ وہ اچھا ٹریک ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ان کی یہ رپورٹ ایک ڈیڑھ ماہ قبل جب وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی گئی تو رپورٹ یہ کہہ کر واپس کردی گئی کہ اس میں بہت ساری چیزیں وضاحت طلب ہیں۔ ان کی وضاحتیں کی جائیں۔ اب یہ جو جز وقتی رپورٹیں ہفتے کو نکلی ہیں انہیں حکومت کے بموجب وزیر اعظم کے حکم کے تحت شائع کیا گیا ہے۔ جبکہ ایک اور موقف ہے کہ چینی و آٹا بحران کی رپورٹس لیک ہوئی ہیں۔ بہرحال امر واقعہ یہ ہے کہ ان رپورٹس خصوصاً چینی کے حوالے سے کامپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی ذمہ داری کے مطابق اب تک ایس او پیز لاگو ہی نہیں کئے ہیں۔ چینی بحران کے بارے میں مل مالکان نے حکومتوں کو وقتاً فوقتاً یہ تاثر دیا کہ وافر مقدار میں چینی موجود ہے۔ اور چونکہ پاکستان کے باہر چینی کی قیمتیں کم ہیں تو اگر چینی برآمد کرنی ہے تب سبسڈی دینا ہوگی۔ سرکار میں انہی کے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں اور سبسڈی کی اجازت مختلف حکومتیں دیتی آئی ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے ماتحت بھی ایسا ہی ہوا۔ اب اس دوران مافیا نے یہ کیا کہ ایک طرف چینی برآمد کرنا شروع کی اور دوسری طرف جب مارکیٹ سے چینی غائب ہوگئی تو 55 روپے فی کلو چینی 85 روپے تک پہنچا دی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -