بالوں کیساتھ یہ پانچ ظلم کرنا بند کر دیجئیے ۔۔۔

بالوں کیساتھ یہ پانچ ظلم کرنا بند کر دیجئیے ۔۔۔
بالوں کیساتھ یہ پانچ ظلم کرنا بند کر دیجئیے ۔۔۔

  

 ہم اکثر بہت سی چیزوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور قابل افسوس یہ بھی ہے کہ ہمیں اس بات کاچنداں احساس نہیں ہوتا کہ اس چیزیا نعمت کی ہماری زندگی میں کیا وقعت ہے ۔۔اور پھر جب وہ نعمت چھننے لگتی ہے تو ہماری امید بھی دم توڑنے لگتی ہے ۔

اب خواہ وہ  نعمتیں والدین کی شکل میں ہوں یا بہن بھائیوں کے روپ میں ، پیسوں کی صورت میں یا صحت  کی شکل میں ہوں  احساس انسان کو اس نعمت کے جانے کے بعد ہوتا ہے ۔۔

انہی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہمارے بال  بھی ہیں جو خوبصورت اور صحت مند ہوں تو سب کی توجہ ہماری جانب مبذول ہو جاتی ہے ورنہ  لوگ  گنجا کہنے میں بالکل دیر نہیں لگاتے ۔ اگرچہ کہ اب مصنوعی لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے بال اگانے کا طریقہ ایجاد ہو گیا ہے  لیکن جو بات اصل بالوں کی ہوتی ہے  وہ نقلی وگوں یا بالوں کی نہیں ۔۔

لہذا بالوں کو خوبصورت ، پرکشش اور صحت مند بنانے کے لئے ہمیں صرف یہ پانچ غلطیاں نہیں دوہرانی تو کیا کرنی ہی نہیں چاہیں ۔۔

۱۔ ہمارا پہلا مسئلہ تو یہ ہے  کہ ہم بالوں کو  نعمت خداوندی سمجھ کر روزانہ کی بنیاد پر سنوارنا  نظر انداز کر دیتے ہیں ، بچے ہیں تو ان کی پونی ٹیل  دس دن سے بنی ہوئی ہے ،خواتین ہیں  تو گھر کے کاموں میں بال بنانے کا ہوش ہی نہیں  اور تو اور مردحضرات بھی صرف دفتر جاتے ہوئے ہی بنائو سنگھار کرتے ہیں ۔ سب سے پہلے اس تاثر کو ختم کریں کہ چلو خیر ہے کون دیکھتا ہے ۔لہذا روزانہ اپنے بالوں میں کنگھی کریں ، روز بال سکھانے کے لئے ڈائر کا استعمال مت کریں کیونکہ ہائی ٹمپریچر پر بال کریک ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں اور کمزور ہو جاتے ہیں ، اس سے نہ صرف بالوں میں سے قدرتی نمی ختم ہو جاتی ہے  بلکہ خشکی بھی ہونے لگتی ہے ۔

۲ ۔ ہم میں سے اکثر لوگ ایک ہی شیمپو  استعمال کر کے یعنی جب وہ ہمیں سوٹ کر جاتا ہے  تو اسی کو بدستور استعمال کرنے لگتے ہیں ، یہ عادت مستقلا  درست نہیں ہوتی  ۔۔ بالوں کی ضرورت اور ساخت کے مطابق  ہیر پروڈکٹس تبدیل کرتے رہنا چاہیے ۔ کیوں کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ایک جیسی پروڈکٹس اپنی انفرادیت کھو دیتی ہیں اور پھر اس میں کوئی نیا پن نہیں رہتا ۔۔

۳۔ بہت سی ہیر پروڈکٹس کا ایک ہی وقت میں  استعمال کرنا بھی سچ پوچھیں تو نری حماقت ہے  جیسے خواتین  شیمپو ، کنڈیشنر، سیرم  سب بیک وقت استعمال کرنے لگتی ہیں ، ان سب چیزوں میں بہت سے کیمیکل ہوتے ہیں  جو بالوں کی ساخت کو سخت نقصان پہنچاتے ہیں ۔ کئی لوگوں کو تو میں نے نوٹس کیا کہ وہ شیمپو  کسی ایک کمپنی کا لیں گے اور کنڈیشنز کسی دوسری کمپنی کا اور سیرم  کچھ اور ، یہ بات اور بھی غلط ہوتی ہے  اگر آپ نے سب کچھ استعمال کرنا ہی ہے تو معیاری کمپنی اور ایک ہی کمپنی کا استعمال کریں ۔۔

۴۔ بچے ہوں یا خواتین ، سب کو کام کے دوران پونی ٹیل بنانے کی عادت ہوتی ہے ، سکول یا کالج جاتے ہوئے بھی بچیاں زیادہ تردد سے بچنے کے لئے  ہیر بینڈ لگاتی اور چلی جاتی ہیں ۔ پونی ٹیل  بنانے سے وقتی طور پر سکون تو آجاتا ہے  لیکن بالوں کا جو حشر ہوتا ہے وہ صرف بال ہی جانتے ہیں ، پونی عموما  لوگ بہت سخت بنا لیتے ہیں  اور چونکہ بالوں کو اٹھا کر اکٹھا کر کے باندھا جاتا ہے تو بالوں کی جڑیں تک کمزور ہو جاتی ہیں ۔سو اس سے گریز بہتر ہوتا ہے یا اگر بہت ہی ناگزیر ہو اور آپ کا ہیر سٹائل ہی ایسا ہو  تو کچھ دیر کے لئے پونی ٹیلز کو اتاریں بھی ۔۔

۵ ۔۔ سب سے آخری اور اہم بات ، ہم میں سے بہت سے لوگ عمر رسیدگی اور پھر آج کل فیشن کی وجہ سے بالوں کی رنگت تبدیل کرتے رہتے ہیں ، اس سے آپ کے بال تو رنگے جاتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ آپ کے سر کی جلد کو بھی نقصان پہنچتا ہے ، بار بار بال رنگنے سے بال روکھے اور بے جان ہونے لگتے ہیں ۔ کئی ایسے کلر بھی ہوتے ہیں جن کے استعمال سے بہت سے لوگوں کو  کئی مسائل ہو سکتے ہیں  جیسے کہ الرجی ، سر میں  خارش ، جلد پر دھبے اور دانے وغیرہ بھی بن سکتے ہیں  لہذا ایسے کلر نہ ہی لگائیں تو بہتر ہے ۔اول تو بالوں کو تب رنگیں جب اسکی ضرورت ہو  اور جب یہ بہت تھوڑی دیر کے لئے ہو اس سے بال ہمیشہ بہت صحت مند رہیں گے ۔ آخر میں سب سے اہم بات ، تیل سے بالوں کے مساج  ، قدرتی جڑی بوٹیوں کا استعمال   ،متوازن غذا اور گھریلو ٹوٹکوں کا استعمال کبھی ترک نہ کریں ۔  

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -