کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے سانس لینے کا طریقہ معروف ڈاکٹر نے بتادیا

کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے سانس لینے کا طریقہ معروف ڈاکٹر نے بتادیا
کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے سانس لینے کا طریقہ معروف ڈاکٹر نے بتادیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس جب پھیپھڑوں پر حملہ آور ہوتا ہے تو پھیپھڑوں میں آکسیجن کی مناسب مقدار نہیں پہنچ پاتی، نتیجتاً جسم کو ضرورت کے مطابق آکسیجن نہیں ملتی جس سے جسم میں توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہو جاتا ہے اور مریض کی حالت خراب تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ اب ایک معروف برطانوی ڈاکٹر نے سانس لینے کا ایک ایسا طریقہ بتایا ہے جس کے ذریعے اس موذی وباءکے مریض اپنے پھیپھڑوں میں پوری طرح آکسیجن بھیج سکتے ہیں اور وائرس کی تباہ کاریوں کو روک سکتے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق یہ ڈاکٹر سرفراز منشی ہیں جو روم فورڈ کے کوئنز ہسپتال میں فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہے جس میں وہ یہ طریقہ لوگوں کو بتا رہے ہیں۔

ڈاکٹر سرفراز بتاتے ہیں کہ ”کورونا کے مریضوں میں جس دن سے علامات شروع ہوں، اسی دن سے اس طریقے پر عمل کردیں تو اس کے بہت بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ طریقہ یہ ہے کہ پانچ بار گہرا سانس پھیپھڑوں میں لیجائیں اور ہر بار 5سیکنڈ کے لیے اسے روکے رکھے۔ چھٹی بار پھر گہرا سانس لیں، 5سیکنڈز تک روکے رکھیں اور جب سانس چھوڑنے لگیں تو منہ کو ہاتھ یا کپڑے وغیرہ سے ڈھانپ کر ساتھ ہی زور سے کھانس دیں۔ دو بار یہ عمل دہرائیں اور پھر سینے کے بل لیٹ جائیں اور اگلے دس منٹ تک گہرے سانس لیتے رہیں۔سینے کے بل لیٹنے کے لیے آپ تکیے کا سہارا لے سکتے ہیں۔“

ڈاکٹر سرفراز کا کہنا تھا کہ ”پیٹھ کے بل لیٹنا کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے کیونکہ پیٹھ کے بل لیٹنے سے پھیپھڑوں تک آکسیجن کی رسائی کم ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پھیپھڑے ہماری پشت پر ہوتے ہیں، چنانچہ جب ہم پشت کے بل لیٹتے ہیں تو پھیپھڑوں میں ہوا داخل ہونے کے کئی چھوٹے راستے بند ہو جاتے ہیں جو کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔“ ڈاکٹر سرفراز نے یہ طریقہ معروف برطانوی مصنف جے کے رولنگ کو بھی بتایا تھا، جو اب صحت مند ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طریقے کے بہت بہترین نتائج سامنے آئے اور انہیں صحت مند ہونے میں اس سے بہت مدد ملی۔

مزید :

برطانیہ -کورونا وائرس -