کہتےہیں خان کو سیاست نہیں آتی

کہتےہیں خان کو سیاست نہیں آتی
کہتےہیں خان کو سیاست نہیں آتی

  

وہ پارٹی ممبرز اور اتحادی جو خان کا بازو مروڑنے کے چکر میں تھے اب اپنی خیر منائیں کیونکہ یہ رپورٹ جہاں ان کے کالے کرتوتوں کے بارے میں چیخ چیخ کر ان کی کرپشن کی کہانی سنا رہی ہے وہیں اسے بنیاد بناکر اب انہیں خوار کیا جائے گا۔

ریکوری تو ہونی نہیں، ہاں یہ ضرور ہوگا کہ اس رپورٹ کو بنیاد بناکر خان صاحب انہیں دیوار سے لگادیں گے۔ چوہدریوں کے دل میں وزارت اعلی کی خواہش بھی اپنی موت آپ مرے گی اور ساتھ ہی وہ گروپس جو دوسری پارٹیوں کے ساتھ رابطے میں تھے یا پارٹی کے اندر توڑ پھوڑ چاہ رہے تھے وہ سب ٹھنڈے ہونے کے ساتھ اچھے بچوں کی طرح پرانی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے۔

کاروائی اس لئے بھی نہیں ہونی کہ یہ رپورٹ کاروائی کے لئے نہیں بلکہ ان پرانے کھلاڑیوں کو “کانا” کرکے ان سے اپنی مرضی کے کام کے لئے بنوائی گئی ہے جو اپنے آپ کو ناگزیر سمجھنے لگے تھے۔

چوہدری جنہیں گھاک کے سیاستدان سمجھا جاتا ہے اود جو دوبارہ پنجاب میں سر اٹھا کر وزارت اعلی کے خواب دیکھنے لگے تھے، کے لئے یہ رپورٹ زہر قاتل چاہے ثابت نہ ہو لیکن ایک ڈراؤنا خواب ضرور ہوگی۔ جہانگیر ترین جو کچھ عرصے سے گجرات کے چوہدریوں کے قریب ہورہے تھے بھی واپسی کے لئے خان کی طرف دیکھیں گے۔اگر چوہدریوں اور ترین نے ہاتھ ملانے کی کوشش کی تو عوام اس اقدام کو انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور خان جس کی پاپولیرٹی تیزی سی نیچے آئی ہے ایک بار پھر عوام کی نظروں میں سرخرو ٹھہرے گا۔

اسی رپورٹ کو بنیاد بناکر نواز لیگ کو بھی گندا کیا جائے گا کیونکہ یہ سبسڈی ان کے دور میں دی گئی یعنی 2014سے2019کے عرصے میں۔

یہ وہ عرصہ تھا جب خان صاحب نے دھرنا دیا تھا اور اس دھرنے کے مالی اخراجات کا سب سے بڑا حصہ اسی جہانگیر ترین نے دیا تھا جس نے سب سے زیادہ سبسڈی سے فائدہ اٹھا کر مال بنایا۔

دوسری جانب جو تحریک انصاف کے وہ گروپس جن کے دوسری پارٹیوں سے رابطے ہیں وہ بھی سکون میں آئیں گے اور یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ اگر خان اپنے دیرینہ ساتھی کو نہیں بخشے گا تو وہ کس کھیت کی مولی ہیں۔ اسی طرح تحریک انصاف کےنوجوانوں کو یہ بات بھی مل جائے گی کہ خان اتنا ایماندار ہے کہ وہ تو اپنی پارٹی کے لوگوں کو بھی نہیں بخشتااور آنے والے کئی ہفتوں وہ خان کے اس اقدام کی تعریف کرتے نہیںتھکیں گے اور اسے قوم کا آخری نجات دہندہ ثابت کرنے میں زمین آسمان ایک کردیں گے۔

سادہ الفاظ میں خان نے اس رپورٹ سے ایک نہیں بلکہ کئی شکار کئے ہیں اور یہ بات ماننی پڑے گی کہ “جس” نے بھی خان کو یہ رپورٹ بنوانے اور پبلک کرنے کا کہا ہے اس نے چال اچھی چلی ہے

مزید :

بلاگ -