عمدہ اور صحت مند دنیا کی تعمیر

عمدہ اور صحت مند دنیا کی تعمیر
عمدہ اور صحت مند دنیا کی تعمیر

  

کورونا وباء کے پیش نظراس سال صحت کے عالمی دن کا موضوع ہے”ایک عمدہ اور صحت مند دنیا کی تعمیر“ ہے۔یہ موضوع اس لئے رکھا گیا ہے کہ جس طرح دنیا میں کورونا باء کے باعث لاکھوں انسان موت کے منہ چلے گئے اور ابھی بھی ہلاک ہورہے ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کئے جائیں کہ دوبارہ کبھی ایسی قاتل وبائیں نہ پھیل سکیں جس کے لئے اانسانی صحت کے ساتھ ساتھ صحت مند معاشرے کی تشکیل بھی ضروری ہے۔ جدید ریسرچ میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ انہی افراد کو کورونا ہونے کے امکانات زیادہ ہیں جن میں قوت مدافعت کم ہوتی ہے،ایسے افراد جو ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند ہیں ان میں کورونا ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

صحت جسے دوسرے لفظوں میں تندرستی بھی کہا جاتا ہے، سے مراد انسانی جسم کی وہ کیفیات ہیں جو معمول کے مطابق ہوں یعنی ذہنی اور جسمانی تندرستی۔ جسمانی تندرستی سے مراد ظاہری اور پوشیدہ تندرستی ہے،بہت سے ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو ظاہری طور پر صحت مند نظر آتے ہیں لیکن اندرونی طور پر وہ بہت بیمار اور لاغرہوتے ہیں،انھیں طرح طرح کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں جو دوسروں کونظر نہیں آتیں۔اگر جائزہ لیا جائے توپاکستان سمیت دیگر ترقی پذیرممالک میں صحت مندزندگی گذارنے والے افراد کی شرح بہت کم ہے۔ آپ اپنے اردگرد کسی سے بھی پوچھ لیں ہر کوئی کسی نہ کسی ظاہری یا اندرونی بیماری کا شکار ہے۔زیادہ تر افراد ذیابیطس،گھٹنوں اورجسمانی دردوں، کولیسٹرول، بلڈ پریشر، موٹاپا وغیرہ کا شکار ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ کھانے پینے میں بے احتیاطی اور بے ہنگم طرز زندگی ہے۔اسی لئے کہتے ہیں کہ صرف اچھا کھانا پینا  یا اچھا پہننا ہی صحت مند زندگی کا نام نہیں بلکہ اچھی صحت کا دارومدارمثبت ذہن، مثبت شخصیت اور صحت مند طرز زندگی پر ہے۔

اگر ہمارا ذہن، ہماری شخصیت اور طرز زندگی مثبت نہیں ہوگا تو اچھی صحت کا حصول ناممکن ہے۔ جدید تحقیق میں اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ انسانی صحت کا تعلق صرف جسم اور دماغ سے ہی نہیں بلکہ ہمارے لائف سٹائل سے بھی ہے۔ مشی گن یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق جسمانی صحت اور تندرستی کا تعلق ہمارے روزمرہ کے طرز زندگی سے ہوتا ہے جسے ہم بہتر بنا کر جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ دل اور دماغ کو بھی مختلف بیماریوں سے بچا سکتے ہیں۔اسی طرح برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق صحت مند زندگی گزارنے والے افراد میں تشدد پسندی کا رجحان کم ہوجاتا ہے۔ صحت مند طرز زندگی دماغی کار کردگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختص کئے ہوئے مقاصد کو بھی حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

صحت مند زندگی کے فروغ کے لئے صحت کی سہولتوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔صحت کی مناسب سہولتیں نہ ملنے کی وجہ سے نہ صرف بیمار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں  بلکہ وہ دیگر صحت مند افراد کو بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا کردیتے ہیں۔صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلے میں موجودہ حکومت نے بہت سے اقدامات کئے ہیں جن میں یونیورسل ہیلتھ کیئر پروگرام کا آغازسرفہرست ہے،پاکستان پہلا ملک ہے جہاں ٹائیفائیڈ کانجوگیٹ ویکسین کو حفاظتی ٹیکوں میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب میں یونیسف،عالمی ادارہ صحت،بل اینڈ ملنڈا گیٹ فاؤنڈیشن اورمحکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کے اشتراک سے ٹائیفائیڈ کانجو گیٹ ویکسینیشن مہم کے تحت ایک کروڑ 93لاکھ بچوں کی ویکسینیشن کی جائے گی۔

وبائی بیماریوں ہیباٹائٹس، ٹی بی اور ایڈز جیسی مہلک بیماری میں مبتلا مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جار ہی ہیں۔ کورونا وائرس کی وباء میں 9ماہ کے عرصہ میں 20 نئی بائیو سیفٹی لیول تھری لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں اورروزانہ ٹیسٹنگ کیپسیسٹی کو4سو سے بڑھا کر25ہزار تک کیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ صحت مند معاشرے کے فروغ کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں،نیند پوری کریں،بسیار خوری سے بچیں، صاف ستھرے رہیں،ایکسر سائز،جاگنگ کریں اور ہیلتھی فوڈز استعمال کریں اگر غور کریں توہمارا دین اسلام بھی ہمیں یہی کچھ سکھاتا ہے،اچھی صحت پانا چاہتے ہیں تو دین اسلام کی بتائی ہوئی باتوں پر ہی عمل کرلیں۔

مزید :

رائے -کالم -