یوکرین کامسافر طیارہ مار گرائے جانے کا واقعہ، ایران نے اہم قدم اٹھا لیا

یوکرین کامسافر طیارہ مار گرائے جانے کا واقعہ، ایران نے اہم قدم اٹھا لیا
یوکرین کامسافر طیارہ مار گرائے جانے کا واقعہ، ایران نے اہم قدم اٹھا لیا

  

تہران (ویب ڈیسک) ایران نے کہا ہے کہ گزشتہ برس یوکرائن کے مسافر طیارے کو مار گرانے کے الزام میں 10 عہدیداروں پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔

غیر ملکی رپورٹ کے مطابق ایران کے ایک فوجی پراسیکیوٹر نے مذکورہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ایک تقریب کے دوران غلام عباس طورکی نے بتایا کہ ʼوہ بہت جلد عدالت میں حاضر کیے جائیں گےʼ، تاہم فوجی پراسیکیوٹر نے ملزمان کے نام بتانے سے گریز کیا،  10 افراد کو انضباطی کارروائی کا سامنا ہوگا جن میں انہیں ملازمت سے رخصت یا مدت ملازمت میں تخفیف بھی ہوسکتی ہے، جلد ہی ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ رو ز ایرانی مسلح افواج کی عدالتی تنظیم کے سربراہ شکر اللہ بہرامی نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ فوجی عدالت میں کیس نمٹا دیا گیا اور فرد جرم عائد کردی گئی۔

یادرہے کہ   3 جنوری 2020 کو امریکا کے ڈرون حملے میں ایران کی القدس فورس کے سربراہ اور انتہائی اہم کمانڈر قاسم سلیمانی مارے گئے تھے ان کے ساتھ عراقی ملیشیا کمانڈر ابو مہدی المہندس بھی حملے میں ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغے تھے اور 80 امریکی ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا جس کے کچھ گھنٹے بعد اسی روز تہران کے امام خمینی ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والا یوکرین کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یوکرینی وزیراعظم نے طیارے میں 176 افراد سوار ہونے کی تصدیق کی تھی جس میں 167 مسافر اور عملے کے 9 اراکین شامل تھے۔بعد ازاں 21 جنوری 2020 کو ایران نے یوکرین کا طیارہ مار گرانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ غیر ارادی طور پر ’انسانی غلطی‘ کی وجہ سے طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید :

بین الاقوامی -