میں نوکری چھن جانے کے خوف سے خاموش رہی، سابق برطانوی خاتون پولیس افسر کا ایسا شرمناک انکشاف کہ دنیا دنگ رہ گئی

میں نوکری چھن جانے کے خوف سے خاموش رہی، سابق برطانوی خاتون پولیس افسر کا ایسا ...
میں نوکری چھن جانے کے خوف سے خاموش رہی، سابق برطانوی خاتون پولیس افسر کا ایسا شرمناک انکشاف کہ دنیا دنگ رہ گئی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین کے ساتھ جنسی ہراسگی کے واقعات کوئی تیسری دنیا میں پیش آنے والے واقعات نہیں ہیں بلکہ ترقی یافتہ مغربی ممالک سے بھی اس حوالے سے گاہے ایسی خبریں آتی ہیں کہ سن کر انسان ہکا بکا رہ جائے۔ اب برطانوی پولیس میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہنے والی اس خاتون ہی کو دیکھ لیں جسے کیریئر کے دوران دو بار جنسی ہراسگی کا سامنا پڑا۔ میل آن لائن کے مطابق اس خاتون کا نام سو فش (Sue Fish)ہے جو نوٹنگھم شر پولیس کی سربراہ رہ چکی ہے۔ اس نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ محکمہ پولیس میں کیریئر کے دوران اسے دو بار جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا گیا اور یہ مکروہ حرکت کرنے والے اس کے سینئر مرد تھے۔

آئی ٹی وی ٹونائٹ میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے سوفش نے بتایا کہ ایک سینئر آفیسر کی طرف سے میرے جسم کو نازیبا انداز میں چھوا گیا جس پر میں نوکری چھن جانے کے خوف سے خاموش رہی تاہم دوسرے آفیسر نے جب ایسی ہی حرکت کی تو میں نے اس کے خلاف ڈیپارٹمنٹ کو شکایت کی لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور وہ بدستور نوکری کرتا رہا۔ سوفش کا کہنا تھا کہ ”میرے ساتھ جنسی ہراسگی کے یہ واقعات کیرئیر کے ابتدائی سالوں میں پیش آئے۔ میں آج بھی یہ سوچ کر حیران ہوتی ہوں کہ پولیس میں ہوتے ہوئے میں جنسی ہراسگی کے ملزمان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تو عام خواتین ایسی صورتحال میں خود کو کس قدر بے بس محسوس کرتی ہوں گی۔“

مزید :

برطانیہ -