کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو کونسے نقصانات اور بیماریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے؟ نئی تحقیق کے بعد سائنسدانوں کا تہلکہ خیز انکشاف

کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو کونسے نقصانات اور بیماریوں کا ...
کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو کونسے نقصانات اور بیماریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے؟ نئی تحقیق کے بعد سائنسدانوں کا تہلکہ خیز انکشاف

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو اس موذی وائرس کے کئی طویل مدتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مریضوں کے پھیپھڑے، گردے یا دیگر اعضاءطویل عرصے تک متاثر رہتے ہیں حتیٰ کہ بعض مردوں میں جنسی کمزوری اور دل کے عارضے بھی اس وباءکے نتیجے کے طور پر پائے گئے ہیں۔ اب نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے اس کے کچھ نئے طویل مدتی نقصانات بتا دیئے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ذہنی پریشانی، ڈپریشن اور ذہنی صحت کے دیگر کئی مسائل بھی کورونا وائرس کے طویل مدتی نقصانات کی فہرست میں شامل ہیں۔

سائنسدانوں نے اپنی اس تحقیق میں کورونا وائرس کے صحت مند ہونے والے 2لاکھ مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جس میں معلوم ہوا کہ ان مریضوں میں 33فیصد کو صحت مند ہونے کے 6ماہ بعد بھی ذہنی تناﺅ، ڈپریشن اور دیگر ذہنی مسائل کا سامنا تھا۔ جن مریضوں میں علامات زیادہ سنگین ہوئی اور وہ انتہائی نگہداشت وارڈ تک پہنچے، ان میں یہ شرح 46فیصد پائی گئی۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر پاﺅل ہیریسن کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے 34فیصد مریض کسی نہ کسی ذہنی و نفسیاتی عارضے کا شکار ہوتے ہیں۔ہماری تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ان مریضوں کو ڈیمنشا لاحق ہونے اور سٹروک آنے کا خطرہ بھی دوسروں کی نسبت 50فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

مزید :

تعلیم و صحت -کورونا وائرس -