لاک ڈاﺅن کے دوران والدین نے اپنی 14 سالہ بیٹی 6ہزار روپے میں فروخت کردی  لیکن پتہ کیسے چلا انتہائی دردناک خبر آگئی

لاک ڈاﺅن کے دوران والدین نے اپنی 14 سالہ بیٹی 6ہزار روپے میں فروخت کردی  لیکن ...
لاک ڈاﺅن کے دوران والدین نے اپنی 14 سالہ بیٹی 6ہزار روپے میں فروخت کردی  لیکن پتہ کیسے چلا انتہائی دردناک خبر آگئی

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ماں باپ نے اپنی 14سالہ بیٹی 6ہزار بھارتی روپے (تقریباً 12ہزار پاکستانی روپے)کے عوض فروخت کر ڈالی۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ریاست اترکھنڈ کے ضلع کیمولی میں واقع ایک گاﺅں میں پیش آیا ہے جہاں لاک ڈاﺅن کے بعد سکول کھلنے پر گاﺅں کے سکول کے ٹیچر نے طالب علموں کو واپس سکول آنے کو کہا۔ جو طالب علم واپس نہ آئے، ٹیچر خود ان کے گھر گیا اور انہیں سکول لے کر آیاتاہم مذکورہ لڑکی ٹیچر کو کہیں نہ ملی۔

رپورٹ کے مطابق لڑکی کے ماں باپ نے کئی بار ٹیچر کو کسی نہ کسی بہانے لوٹا دیا۔ تاہم شک گزرنے پر ٹیچر نے کچھ سخت سوالات کیے تو لڑکی کے باپ نے اعتراف کر لیا کہ انہوں نے لاک ڈاﺅن کے دوران 6ہزار روپے لے کر اپنی بیٹی کی شادی ایک 32سالہ آدمی کے ساتھ کر دی تھی۔ ٹیچر کے آمادہ کرنے پر باپ اپنی بیٹی کو دھیرادون سے واپس لے آیا، جس نے بتایا کہ اس کا شوہر اسے بدترین جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بناتا تھا اور اسے قتل کی دھمکیاں دیتا تھا۔ منظرعام پر آنے والی ایک ویڈیو میں لڑکی روتے ہوئے بتاتی ہے کہ ”میرا شوہر مجھے ڈنڈے سے مارتا تھا اور میرے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتا تھا۔“واضح رہے کہ اترکھنڈ اور دیگر ریاستوں میں اس نوع کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں جہاں غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ماں باپ اپنی بچیوں کو فروخت کر ڈالتے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -