مفت آٹا،سستا پٹرول، نیک نامی یا …………

مفت آٹا،سستا پٹرول، نیک نامی یا …………
مفت آٹا،سستا پٹرول، نیک نامی یا …………

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


مفت آٹا اور سستا پٹرول تو اہل پاکستان کی دِلی مراد ہے اگر واقعی مفت آٹے اور سستے پٹرول کی فراہمی عوام کو ریلیف دینے کے لئے ہو، پی ڈی ایم کی حکومت کا سستا پٹرول اور مفت آٹا دینے کا اقدام بظاہر تو مہنگائی سے تنگ عوام کو ریلیف دینے کے لئے ہے، عملاً ایسا نظر نہیں آ رہا، عمران خان کی تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے آگے پل باندھنے اور مسلم لیگ(ن) اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کی آنے والے انتخابات میں جگہ بنانے کی کوشش ہے، جلد بازی اور بغیر منصوبہ بندی کے شروع کی گئی مہم خبروں تک تو درست قرار دی جا سکتی ہے،اشتہاری مہم کو بھی قابل ستائش کہا جا سکتا ہے مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں مفت آٹا اور سستا پٹرول معاشرے کی تقسیم اور افراتفری کا باعث بن رہا ہے۔ غریب عوام کی تذلیل کے ساتھ ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ جاری ہے۔
زیادہ دور کی بات نہیں ہے عمران خان نے اپنے اقتدار کے آخری مہینوں میں ایسے ہی دانشوروں کی ہدایت پر پٹرول پر سبسڈی دے کر عوام کو رام کرنے کی کوشش کی تھی جس کا خمیازہ اب پاکستانی عوام ڈیڑھ سو روپے مزید مہنگا پٹرول خرید کر رہی ہے اور آئی ایم ایف علیحدہ ناراض ہے، پی ڈی ایم کے مصدق ملک سے لے کر وزیراعظم تک اور وزراء سے لے کر سینیٹرز تک نے واویلہ مچا رکھا ہے، موجودہ معیشت کے بحران کا آغاز اس سبسڈی سے ہوا ہے عمران خان نے سستی شہرت کے لئے ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ہر ٹی وی ٹاک شو میں گزشتہ گیارہ ماہ سے یہی رونا رویا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے اپنی ناکامیوں کا ملبہ گزشتہ  حکومت پر ڈال دیا جائے۔


عوام کو دیا گیا ریلیف ہی فساد کی جڑ اور آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر کی اصل وجہ ہے اِس حوالے سے باقاعدہ کالم اور وی لاگ آ رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اور نگران حکومت پنجاب نے10کلو آٹے پر گزشتہ ایک سال سے جاری سبسڈی اچانک ختم کر کے 650روپے والا آٹا1158 روپے کا کر دیا  اور 20 کلو آٹے کا تھیلہ1025 روپے سے بڑھا کر 2315 روپے کا کر دیا ہے۔ یوٹیلٹی سٹور پر آٹا دستیاب ہی نہیں ہے، الزامات  نہیں حقائق بتا رہے ہیں کئی ارب کی گندم روس اور دیگر ممالک سے منگوائی جا رہی ہے اور یہ اُس وقت ہو رہا ہے جب خزانہ خالی ہے اور ڈالر عدم دستیاب،ملکی معیشت سنبھل نہیں رہی آئی ایم ایف معاہدے میں تاخیر پے تاخیر کر رہا ہے، غریب اور سفید پوش طبقہ 10کلو کا آٹا مختلف چوکوں میں موجود ٹرکوں سے آسانی سے حاصل کر رہا تھا کہاں کا انصاف ہے پہلے مہنگی گندم باہر سے منگوائی جائے، فلور ملز کے ساتھ کوآرڈینیشن کے ساتھ عرصہ سے عوام کو سستے آٹے کی فراہمی کو بلاوجہ روک کر 650 والا آٹے کا تھیلا 1158 روپے کا کر دیا جائے اور20 کلو والا تھیلا 1025 سے بڑھا کر2315 کا کر دیا جائے اور عوام کو مفت آٹے کی فراہمی شروع کر دی جائے،ثمود نظام اور سسٹم کو ختم کرکے افراتفری کی طرف خود چھلانگ لگائی۔ مفت آٹے کے لئے پانچ پانچ سو بندے اور عورتوں کی لائن میں کون سا سفید پوش لائن میں لگے گا سوائے اس کے مفت آٹے کے حصول کے لئے ایک دوسرے کا گلا کاٹا جائے۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کو پھلانگ کر مفت آٹا حاصل کیا جائے۔ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے دیہاڑی کرنے والا دیہاڑی پر جانے کی بجائے آٹے کے ٹرکوں کی آمد سے پہلے ہی لائنوں میں لگ جاتے ہیں،اپنی خواتین اور بچوں کو بھی لائنوں میں لگوا رہے ہیں اور مفت آٹا جو طویل جنگ و جدل اور مار کٹائی کے بعد مل رہا ہے اس کو موقع پر یا اپنے محلے میں دکانداروں کے پاس فروخت کر رہے ہیں۔ جنگل کے قانون میں مفت پر اپنا حق سمجھنے والی قوم اور نوجوان آٹے کے ٹرک لوٹ رہے ہیں، کئی شہروں میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے اور  درجن سے زائد افراد کے لقمہ اجل بننے کی تصدیق ہوئی ہے۔ المیہ یہ ہے کوئی دانشور کالم نویس غلط کو غلط کہنے کے لئے تیار نہیں ہے، مفت آٹے کے نام پر لوٹ مار اور جنگ و جدل سب کے سامنے جاری ہے۔

رمضان میں غریب اور بھکاری گروہ گھروں میں آٹے کا ڈھیر لگا لیں گے یا دام کھرے کر لیں گے، کون سا سفید پوش لائنوں میں خوار ہو گا۔ سچے دل سے درخواست گزار ہوں، مہنگی گندم منگوا کر پہلے سے جاری سبسڈی کے ذریعے سستے آٹے کی فراہمی کے نظام کو ختم کر کے مفت آٹے کی فراہمی عوام کی خدمت نہیں ہے، عوام میں اضطراب اور بے چینی کے ساتھ سفید پوش طبقے سے زیادتی ہے۔ مفت آٹے کے نام پر مافیا کی سرکاری آٹا چوری کرنے اور مفت آنے والے تھیلے بدل کر مارکیٹ میں فروخت کرنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ چیف سیکرٹری، کمشنر، نگران وزیراعلیٰ پولیس فورس وقتی طور پر واہ واہ  تو کروا سکتی ہے، عملاً بدنظمی اور معاشرے کے لئے بدشگونی کا باعث بنے گی۔ یہی حال پٹرول سستا کرنے کا پروگرام ثابت ہو گا۔ 19مارچ کو 50روپے کا ریلیف20مارچ کو100روپے کا ریلیف،19مارچ کو موٹر سائیکل اور800سی سی گاڑیوں تک ریلیف محدود۔20مارچ کو پٹرول میں سبسڈی نہ دینے اور امیروں سے لے کر غریبوں کو دینے کا فلسفہ پیش کیا گیا، سارا عمل چھ ہفتے میں مکمل ہونے کا کہا گیا۔ کیا ایک پٹرول پمپ پر دو قیمتیں ہوں گی، میکنزم کیا ہو گا، کیا پٹرول پمپ مالکان میکنزم بنائیں گے، بار بار ایک موٹر سائیکل یا کار کو کون روکے گا،ہماری قوم مفت خوری کے لئے بندہ مار دیتی ہے، دو دو لیٹر بھی موٹر سائیکل کو دیا گیا تو ایک کلو میٹر میں پانچ پٹرول پمپ بن چکے ہیں ایک گھنٹے میں 10لیٹر لے لے گا۔ یہی حال کاروں کے مالکان کا ہو گا، 30لیٹر ایک پمپ سے اور30لیٹر دوسرے پٹرول پمپ سے، اگر پٹرول پمپ مالکان یا ملازمین سے تعلق ہے تو آپ کے وارے نیارے، پوری قوم مفت آٹے کے بعد مفت پٹرول کے حصول میں لگ جائے گی۔ ذمہ داری سے کہہ دو ہمہ وقتی طور پر تو آپ واہ واہ کروا سکتے ہیں عملاً معاشرے میں افرادی قوت اور تقسیم کا باعث ہو گی تو حکومت وفاق کی ہویا پنجاب کی نیک نامی کی جگہ بدنامی آپ کے حصے میں آئے گی اس لئے واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں تو ملک بھر میں پٹرول سستا کریں ایک جیسا سلوک کریں، آٹے کے لئے بھی مربوط نظام بنائیں، عوام کو خواری اور ایک دوسرے کو گرا کر آٹا اور پٹرول حاصل کرنے کی مہم جوئی سے بچائیں، میری باتیں تلخ مگر ہیں حقیقت پر مبنی۔
٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -