پروفیسر زبیر کا طمانچہ اور ججوں کے الزامات (آخری قسط)

پروفیسر زبیر کا طمانچہ اور ججوں کے الزامات (آخری قسط)
 پروفیسر زبیر کا طمانچہ اور ججوں کے الزامات (آخری قسط)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 امر بیل وہ دھاگہ نما باریک بیل ہوتی ہے جو پھیل کر گچھوں کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس کی اپنی کوئی جڑ یا تنا پتے نہیں ہوتے۔ اس کا دو تین انچ کا ٹکڑا کسی پودے جھاڑی یا پیڑ پر پھینک دیا جائے تو تھوڑے عرصے میں پھیلتی بیل پودے کی شاخیں پتے چوس کر اسے مردہ کر دیتی ہے۔ جب تک پیڑ یا جھاڑی کی رگوں میں خون موجود ہو بیل زندہ رہتی ہے۔ اس کے مرجھانے پر یا خشک ہوتے ہی امربیل بھی مر جاتی ہے۔ ملک بھر کو ایسی ہی کسی امر بیل نے 77 سال سے جکڑ رکھا ہے۔ یہ بیل خود تو دن بدن پھیل رہی ہے لیکن ملک لاغر سے لاغر تر ہوچکا ہے۔ قبل اس کے کہ صرف یہ بیل ہی رہ جائے اور درخت نعوذ باللہ۔۔۔۔۔۔ خاکم بدہن۔ 6 ججوں کا خط سپریم جوڈیشل کونسل اور لارجر بینچ کے سامنے ہے۔ اس خط میں متعدد اعترافات ہیں لہذا لازم ہے کہ کونسل اور بینچ ان پر خوب غور کر کے اس امر بیل کا مکمل خاتمہ کر دیں۔ بیل جس نے بقول مختلف متاثرین کے ہر ریاستی ادارے کو جکڑ کر لاغر کر دیا ہے۔

امر بیل نے گورنر ہاؤس سندھ کو جکڑا تو 2021 میں تحریک انصاف کے مخالف سابق گورنر سندھ کی مبینہ غیر اخلاقی ویڈیو سامنے آئی۔ بندر کو استرا کیا ملا کہ کئی انصافی دوستوں نے یہ ویڈیو مجھے بھی بھیجی تھی۔ تب وہ اگر اپنے دیوتا سے اس قبیح حرکت کی تفتیش کا کہتے تو آج اپنے پیاروں کے مقدس خط پر انہیں واویلا نہ کرنا پڑتا۔ پھر اس امر بیل نے کمرہ ہوٹل کا دروازہ آدھی رات کو توڑا، موجودہ وزیراعلی پنجاب اور سوئے ہوئے میاں بیوی پر چھاپہ مارا اور آئی جی سندھ کو اغوا کیا کہ مقدمہ درج کرو (ڈان 19 اکتوبر 2020). ادھر طارق جمیل نامی ملا، جنرل باجوہ کی حفاظت کے لیے رو رو کر اللہ کے آگے ٹسوے بہایا کرتا تھا۔ رام ملائی جوڑی، ایک اندھا ایک کوڑھی۔ اندھے کے کوڑھی ساتھی کا نام لے کر جسٹس شوکت صدیقی نے امر بیل کی خوب نشاندہی کر دی تھی۔ تب پجاری اور ان کا دیوتا اگر حال کی بجائے مآل (مستقبل) پر نظر رکھتے تو آج اظہار یکجہتی مصنفین خط کے لیے انہیں پر مشقت ریلیوں کے اعلانات نہ کرنا پڑتے۔

اندھے اور کوڑھی کی لگائی یہ امر بیل پھر چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کی تانکا جھانکی کی خاطر پولنگ بوتھ کے اندر جاگھسی۔ دو سینٹروں نے بوتھ میں وہی کیمرا پایا جو آج خط والے ایک جج کو اپنی خوابگاہ میں ملا (ڈان 12 مارچ 2021). امریکی صدر نکسن کی مخالف سیاسی جماعت کے دفتر سے خفیہ جاسوسی آلات نکلے تو امریکہ لڑکھڑا کر رہ گیا۔ صدر کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اپنے ہاں کیمرے کی خبریں دیوتا اور پجاریوں نے سنیں پڑھیں تو کان جھاڑ کر یوں بیٹھ گئے کہ گویا مچھر اڑایا ہو۔ تب دیوتا نے اندھے اور نہ کوڑھی سے جواب طلبی کی۔ کیا کوئی باخبر شخص بتا سکتا ہے کہ خفیہ کیمرا ملنے پر کیا تفتیش ہوئی بھی تھی یا نہیں؟ تو کیا لوگ ان 6 ججوں کے ساتھ انصافی اظہار یکجہتی کا مفہوم نہیں سمجھتے؟ اس تحریکی واویلے سے ہم سب نے معزز ججوں کا پورا تعارف حاصل کر لیا ہے۔

اپنے خط میں ججوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ایک جج کی خوابگاہ سے خفیہ کیمرہ برآمد ہوا۔ اس قبیح حرکت کے لیے لفظ مذمت بھی ناکافی ہے۔ چیف اور سپریم جوڈیشل کونسل سے گزارش ہے کہ اب 76 سال بعد ہی سہی، ملک بھر کے گرد لپٹی اس امر بیل کے ہر شوشے، ہر ریشے اور ہر گچھے کا سراغ لگا کر کیمرا کلچر ختم کر دیا جائے۔ اس ابلیسی حرکت کے مرتکبین کو سیٹھ وقار مرحوم جیسے کسی جج کے حوالے کیا جائے جو ان خبیثوں کے لیے ویسی ہی کوئی سزا ایجاد کرے جیسی پرویز مشرف کو سنائی گئی تھی۔ کونسل کے حیطہ عمل میں یہ جائزہ لینا شامل ہے کہ کیا جج ذہنی یا جسمانی لحاظ سے نااہل تو نہیں۔ اس خط میں لکھا ہے کہ عمران خان کی مبینہ ناجائز بیٹی والے مقدمے میں دو ججوں پر دباؤ ڈالا گیا تو ایک جج مارے ذہنی اذیت کے اسپتال داخل ہو گئے۔ کونسل دیکھے کہ یہ جج صاحب کیا مزید ذمہ داری ادا کرنے کے اہل ہیں بھی یا نہیں۔ موجودہ چیف جسٹس کی زوجہ ابھی کل تک اسی امر بیل میں جکڑی ٹیکس دفاتر میں ماری ماری پھرتی تھیں۔ سپریم کورٹ کے ان سینیئر ترین جج کے گھر باہر اندھے اور کوڑھی کے نوٹس یوں لگائے جاتے تھے جیسے کسی اشتہاری کا دروازہ ہو۔ سچ یہ ہے: "الہ العالمین، دشمن بھلے ہو، پر کم ظرف نہ ہو'۔ فائز عیسیٰ کو کم ظرف نہیں بے ظرف دشمن ملا لیکن وہ تو اسپتال نہیں گئے۔

جسٹس شوکت صدیقی سے قریبی تعلق کے باوجود حالیہ خط سامنے آنے پر مجھے پہلی دفعہ پتا چلا کہ اندھے اور کوڑھی کی امر بیل نے ان کے دو بیٹوں پر قاتلانہ حملہ کیا، بیٹی اغوا کرنے کی کوشش کی، رزق حلال کے دروازے بند کر دیے، پر وہ مرد مجاہد مانند چٹان صبر ایوب کی مثال بنا رہا وہ تو ہسپتال نہیں گیا۔ میں جب کبھی اس آشفتہ سر سے ملا تو اس مجنون سودائی کے بشاش چہرے پر وہ مسکراہٹ پائی جسے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کہا تھا۔ ایک طرف انتہائی بحرانی کیفیت میں صدقہ بکھیرنے والا جج تو دوسری طرف وہ جج جنہیں ایک کم ترین عہدے دار نے ذرا آنکھیں کیا دکھائیں کہ موصوف اختلاج قلب کا شکار ہو گئے۔ اعلیٰ عدلیہ کے یہ کیسے تھڑدلے جج ہیں جو سیکٹر کمانڈر نامی معمولی تھانیدار کا سامنا نہ کر سکے۔ جناب چیف، اپنی تمام عدلیہ کا بھرپور جائزہ لیں۔ اے خبردار! ہمیں اس خدائی منصب پر چٹان نظر آنا چاہیے۔ جج اور ڈر؟ جی ہاں آگ اور پانی۔ امید ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل لارجر بنچ ان ججوں کی ذہنی کیفیت کا بھرپور معائنہ کرا کر فیصلہ کرے گی۔ تب تک ان 6 ججوں کو کسی سیاسی جماعت کا کوئی سیاسی مقدمہ ہرگز نہ دیا جائے۔

یہ خط ابھی کونسل کو ملا نہیں تھا کہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ میں اس کے مندرجات پر سوال آنا شروع ہو گئے۔ خفیہ ادارے سراغ لگائیں کہ یہ خط ماورائے بحر اوقیانوس کس نے پہنچایا۔ اس قضیے میں یہ سوال اہم ترین ہے۔ کیونکہ ہمارا واسطہ ایک خاص مخلوق سے ہے۔ آپ نے اس مخلوق کی نمائندہ روتی عورت کی تقریر سنی ہوگی: "ربا مجھے حج نہیں کرنا, مجھے عمرہ بھی نہیں کرنا, مجھے "دیوتا" کا دیدار کرا دے، بس"۔ ملک و ملت اور مذہب و عقیدہ اس مخلوق کی زندگی سے نکل چکے ہیں۔ بینچ اور خفیہ ادارے اس پہلو پر بھی غور کریں کہ کسی خواب گاہ سے کوئی کیمرا نکلا بھی تھا یا نہیں۔ یاد ہے ماہ رنگ نامی بلوچ عورت جس نے گم شدہ افراد کے لیے دھرنا دے رکھا تھا۔ اللہ کی شان کہ دوران دھرنا ہی ان گم شدہ افراد میں سے چند لوگ بحیثیت دہشت گرد ایران میں تب ہلاک ہو گئے جب پاکستان نے ایران کے اندر فضائی حملہ کیا تھا۔ امید ہے کہ خفیہ ادارے ان دونوں چیزوں کا سراغ لگا کر سپریم کورٹ کو آگاہ کریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -