سفر سہل تو نہ تھا... قسط 4

سفر سہل تو نہ تھا... قسط 4
سفر سہل تو نہ تھا... قسط 4

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اکثر لڑکیاں جمشید صاحب کی حرکتوں سے خائف تھیں لیکن کئی ایک حالات سے سمجھوتہ کرنے کے حق میں بھی تھیں ۔۔۔لیکن لاریب ایسی لڑکی تھی جس نے کبھی غلط کا ساتھ نہیں دیا تھا وہ جانتی تھی کہ دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر نہیں پالا جا سکتا لیکن وہ جمشید صاحب کو کسی بھی طرح خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہتی تھی ۔۔۔اس لئے اس نے آج ان کا فون اٹھا کر بے نقط سنا دیں ۔" جمشید صاحب مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ آپ ہر لڑکی کو ایک جیسا ہی کیوں سمجھتے ہیں ؟ آپ یہ کیوں سوچتے ہیں کہ ہر لڑکی آپ کے ایک اشارے کی منتظر ہے اور آپ جیسے لوگ جو چاہیں گے جیسا چاہیں گے ان کے ساتھ سلوک روا رکھیں گے ۔میرا فیصلہ پہلے بھی یہی تھا اور اب بھی کہ آپ اپنی عمر اور رتبے کا لحاظ رکھیں اور ان اوچھی حرکات سے باز آ جائیں ورنہ آپ کے خلاف رپورٹ بھی کی جا سکتی ہے " 
" اچھا تو چیونٹی کے بھی پر نکل آئے ہیں جو تم مجھے دفتری انکوائری کی دھمکی دے رہی ہو ، میں بھی دیکھتا ہوں کہ اس کھیل میں جیت تمھاری ہوتی ہے یا میری ؟ ایسی جگہ ٹرانسفر کروا دوں گا ناں کہ ساری زندگی پچھتاتی رہو گی ہونہہ آ جاتی ہیں کہیں سے ، اتنی ستی ساوتری ہو تو گھر بیٹھو ، ریڈیو میں کام کرنے کے سپنے چھوڑ کر گھر کے کام سنبھالو "
جمشید صاحب نے اپنا کہا پورا کر دیا تھا اس کے کام میں تو وہ کوئی کوتاہی نہیں نکال سکتے تھے لیکن یہ کہہ کر کہ مری کے پاس ایک مضافاتی علاقہ میں ریڈیو اینکر کی ضرورت ہے اس کا ٹرانسفر وہاں کر دیا گیا ۔۔
یہ کیا ہو گیا تھا اس نے تو ایسا بالکل نہیں سوچا تھا ، مگر جمشید صاحب جیسے مفاد پرست مردوں سے اسے یہی توقع تھی کہ وہ اپنی جھوٹی انا کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔
سب کولیگز اس کے جانے کا سن کر بہت افسردہ ہو رہے تھے خاص طور پر نورین اور شازیہ۔لیکن وہ بالکل اداس نہیں تھی اپنی عزت بچانے کے لئے اگر اس اسٹیشن سے جانے کی قربانی دینا پڑ رہی تھی تو یہ کوئی گھاٹے کا سودا تو نہ تھا ۔۔۔
گھر پرجب اماں اور بہن بھائیوں نے یہ خبر سنی تو وہ سب تو پریشان ہی ہو گئے تھے اماں نے پریشانی سے اس کی پیشانی چوم لی " بیٹا تم اکیلی اس گائوں میں کیسے رہو گی ؟ پھر آنے جانے کے اخراجات   ریڈیو کی نوکری مان لیا کہ سرکاری ہے مگر اس میں اتنی خواری ہو گی یہ تو کبھی سوچا بھی نہیں میری بچی "
" میری پیاری امی آپ کیوں اداس ہو رہی ہیں ، سرکاری نوکری میں ٹرانسفر وغیرہ چلتے رہتے ہیں اور میرا ایمان ہے کہ اللہ تعالی جو کرتا ہے اس میں بہت بہتری ہوتی ہے تو یقینا ہم ہی اس کی مصلحتوں کو نہیں سمجھ سکتے ، بس آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں ، مجھے جانے کی اجازت دیں سرکاری نوکری میں ترقی کے چانس بھی ہوتے ہیں آپ صرف یہ دعا کریں کہ جو بھی ہو وہ سب میرے اور ہم سب کے حق میں بہتر ہو اب آپ رونا نہیں ورنہ میرا حوصلہ بھی ٹوٹ جائے گا ۔۔۔"
خرم نے کالج سے واپسی پر کچھ ٹیوشن شروع کر لی تھیں وہ بہت حساس اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنے والا نوجوان تھا ، گھر کے حالات اب بہتر ہونے لگے تھے ۔لاریب کے ریڈیو سے آنے والی آمدنی ، خرم کے ٹیوشن کے پیسوں اور اماں کی سلائی کی رقم سے مہینے بھر کا کھلا راشن بھی آ جاتا بلکہ اماں نے کچھ کمیٹیاں بھی ڈال لی تھی ۔ہر وقت انھیں لاریب کی فکر کھائے رہتی
ادھر لاریب نے پرائیویٹ ایم اے اردو کی تیاری شروع کر دی تھی وہ جانتی تھی کہ انسان کتنا ہی جہاں دیدہ کیوں نہ ہو جائے ڈگریوں کی اہمیت اپنی جگہ رہتی ہے سو زندگی اور بھی مصروف ہو گئی تھی۔۔۔
چھوٹے سے قصبے میں ریڈیو اسٹیشن جہاں اس کے علاوہ تین مرد اینکر بھی تھے اس کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے پیش آتے ، دن کو پروگرام کرتی اور شام کو کتابیں کھول لیتی اس کے سامنے گویا خواہشوں کا ایک سمندر تھا جس کی تکمیل کے لئے ضروری تھا کہ وہ تعلیم مکمل کرتی ۔۔
کئی دفعہ وہ اپنا پروگرام ریکارڈ کروا لیتی ایسا اس صورت میں ہوتا جب وہ اپنے گھر راولپنڈی جانا چاہتی اور ویک اینڈ پر ہی دو پروگرام مکمل ریکارڈ کروا لیتی ۔۔جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں   ۔۔ گزشتہ حصہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔ 

۔

نوٹ: یہ مصنفہ کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں او ر اس میں پیش کیے گئے تمام نام فرضی ہیں، کسی سے مماثلت محض اتفاق ہوگا۔ 

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -