غیر ادبی موقف

غیر ادبی موقف

زندگی کے تمام خساروں کو جمع کیا جائے تو حاصل یہ ہوتا ہے کہ دل نادان کی بات نہیں ماننی چاہئے۔ یہ موبائیل فون پر آنے والا ایک مسیج ہے، جو پی سی بی میں منیجر پبلک ریلیشنز اور کمیونیکیشن صبوحی جمشید نے اپنے استاد محترم کو بھیجا ہے۔ استاد محترم نے یہ پیغام پڑھا اور سوچ میں پڑ گئے کہ دل نادان ہوتا کیا ہے؟ سوچا یہ پیغام پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے تمام ڈاکٹروں کو بھیج دوں۔ پھر خیال آیا کہ بڑی مشکل سے ڈاکٹر ہڑتال سے واپس آئے ہیں ، کہیں دوبارہ ہڑتال پر نہ چلے جائیں۔ ویسے بھی میری ایک جاننے والی نرس بتاتی ہے کہ ڈاکٹروں کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ وہ دل کی ساخت، ورکنگ اور اس کے علاج کے حوالے سے سائنسی معلومات تو رکھتے ہیں۔ لیکن اس کی اندرونی کیفیت کے احساسات سے واقف نہیں ہوتے۔ انہیں کیا پتہ کہ جب ہونٹوں پر مچلتی ہوئی مسکراہٹ رک جاتی ہے تو دل پر کیا گزرتی ہے؟ جب کوئی آنچل کندھے سے ذرا سا سرکتا ہے، تو دل کی رفتار کتنی تیز ہو جاتی ہے؟ جب کوئی خوابوں کی رانی .... کسی غیر کی پاولی میں بیٹھ جاتی ہے، تو دل کہاں کہاں بھٹک جاتا ہے اور جب دل کی ملکہ ، بیوی کی شکل میں گھر کی ملکہ بن جاتی ہے تو چند سالوں میں دل سارے وجود کے ہمراہ کسی کارڈیالوجی سنٹر میں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں پہنچ جاتا ہے۔ بقول شاعر

اک شخص کے کھو جانے کا ڈر کیوں نہیں جاتا

یہ بوجھ میرے دل سے اتر کیوں نہیں جاتا

دل نادان نہ ہوتا تو شاید دنیا میں اتنا بڑا ادب تخلیق نہ ہو سکتا .... کوئی غالب نہ ہوتا .... کوئی فیض نہ ہوتا .... کوئی ساغر نہ ہوتا .... مینا نہ ہوتی .... پروین شاکر کو کون پڑھتا .... لتا کو کون سنتا .... ذہنوں کو خیال نہ ملتے .... کتابوں کو لفظ نہ ملتے .... کلام کو بلھے شاہ نہ ملتا .... ہیر کو وارث شاہ نہ ملتا .... زندگی میں زندگی نہ ہوتی۔ موت اپنی نہ ہوتی .... نہ کوئی یاد کرتا .... نہ آنسو بہتے .... بنیادی طور پر دل کے ہاتھوں وقوع پذیر ہونے والی نادانی کے پیچھے عورت ہے.... شاید اسی لئے دنیا کی قدیم دانش نے عورت کو مجسم نادانی قرار دیا ہے کسی دور میں دل نادان کتابوں میں پھول رکھتے تھے .... پھولوں کی ٹہنیوں سے کھیلتے تھے .... جذبات کے اظہار کے لئے شعروں کا سہارا لیا جاتا اور محبت کے اظہار کے لئے ساری زندگی بھی کم نظر آتی۔ وزیر آباد میں ہمارے جاننے والے ایک پروفیسر صاحب تقریباً دس سال تک اپنی کزن سے خاموش محبت کرتے رہے ، اس کے خیال میں اشعار کی کئی کتابیں لکھ دیں، تصورات کی کئی دنیائیں آباد کیں، کئی سال راتوں کی نیند کا احسان بھی نہ لیا، وقت سے پہلے عینک لگ گئی اور جوانی میں ہی بالوں میں چاندی اتر آئی ، لیکن دل نادان کا مدعا بیان نہ کر سکا۔

انہی دنوں اس کا چھوٹا بھائی جو سپین میں مزدوری کرتا تھا، چھٹی پر آیا اور اسی خاتون کو ایک نظر دیکھا اور گھر والوں کے سامنے اسے پرپوز کر دیا۔ ایک ہفتے کے اندر میری کزن میری بھابی بن کر ہمارے گھر آ گئی۔میں نے اپنا سامان باندھا اور دل ناداں کے ساتھ بذریعہ ٹرین لاہور آ گیا اور پھر زندگی بھر وزیر آباد نہیں گیا۔ آج کے دور میں دل ناداں تھوڑا سا سمجھدار ہو گیا ہے۔کیونکہ اب عاشق اور محبوب کے درمیان موبائل فون پل بن گیا۔ اس موبائل فون کی وجہ سے سالوں کا فاصلہ لمحوں میں تبدیل ہو گیا ہے۔ ادھر دیکھا اور ادھرI Love Youکہہ دیا۔ ہمارے دوست علی نواز شاہ کہتے ہیں کہ انگریزی زبان بھی کتنی دلیر ہے، محبت کا اظہار کرنا ہو یا گالی دینا ہو، انگریزی میں بولو تو دوسرا برا ہی نہیں مناتا۔ اب دل کی ہر بات موبائل فون پر انگلیوں سے کہی جاتی ہے اور کئی لڑکیاں اور لڑکے تو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے میسج کرتے ہیں، جیسے کوئی ملک فتح کر رہے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ آج مشینی محبت رہ گئی ہے اور دل ناداں کہیں گم سا ہو گیا ہے۔

جیسے ہمارے دوست خواجہ شاہد کا دل اکثر گم رہتا ہے اور کم بخت گم بھی کہاں ہوتا ہے؟ کہیں نہ کہیں کسی دوشیزہ کے اردگرد مچل رہا ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں خواجہ صاحب کو تھوڑا سا دل کا مسئلہ ہو گیا۔ کارڈیالوجی سینٹر میں ایک سینئر ڈاکٹر نے از راہ مذاق خواجہ صاحب سے کہا کہ جناب اپنے دل کا خیال رکھا کریں۔ خواجہ صاحب کی معصومیت دیکھیں ، کہنے لگے ڈاکٹر صاحب یہ بے وفا ہمارے پاس رہتا ہی کب ہے۔ جہاں کوئی تتلی اڑتی نظر آئی، بھنورے کا روپ دھار لیتا ہے۔ اب تتلیاں اس کا خیال نہ رکھیں تو پھر اس نے کارڈیالوجی میں ہی آنا ہے۔ ویسے ہمارے معاشرے میں زیادہ تر مردوں کے دل خواجہ صاحب کی طرح ان کے کنٹرول میں نہیں رہتے اور شادی شدہ لوگ تو دل ہتھیلی پر لئے پھر رہے ہیں۔ یہ تو بھلا ہو ان بیویوں کا جو اپنے دل پھینک شوہروں کے دلوں کی وقتاً فوقتاً سرجری کرتی رہتی ہے۔ دل ناداں کا یہی تصور کئی دنوں سے میرے دل و دماغ میں بسا ہوا تھا کہ پچھلے دنوں قذافی سٹیڈیم کی سیڑھیاں اترتے ہوئے صبوحی جمشید سے میری ملاقات ہو گئی۔ بعد میں کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے میں نے پوچھا کہ دل ناداں کے حوالے سے تمہاری بات میرے ذہن میں اٹکی ہوئی ہے۔

میز سے فائلوں کو ایک طرف ہٹاتے ہوئے صبوحی نے میری طرف دیکھا اور ہلکا سا مسکرا کر بولی کہ کل تک میں بھی اس حقیقت سے لاعلم تھی کہ رات اچانک مجھ پر دل ناداں کی حقیت آشکار ہوئی۔ ہوا یوں کہ گھر کے لان میں بیٹھے ہوئے اپنے میاں سے، جو آنکھوں کے ڈاکٹر ہیں، لیکن خود بھی عینک لگاتے ہیں.... میں نے یہی سوال کر دیا کہ دل ناداں کیا ہے .... ڈاکٹر صاحب، مجھے ادھر ادھر کی باتوں میں ٹالنے لگے .... چائے کی پیالی میں چینی ملاتے ہوئے میں نے ان کی آنکھوں میں جھانگا اور دل نادان کی حقیقت جاننے پر اصرار کیا کہ .... ڈاکٹر صاحب نے ، جو میرے سوالوں سے تقریباً تنگ آئے ہوئے تھے، چائے کا گھونٹ لیا اور تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گئے .... ان کی آنکھوں میں چمک آئی .... اور میری طرف دیکھ کر بولے .... تم آج بہت اچھی لگ رہی ہو .... یہ سن کر میں ایک ہی گھونٹ میں گرم چائے کا پورا کپ پی گئی .... اور مجھے پتہ چل گیا ہے کہ .... دل ناداں کیا ہوتا ہے؟  ٭

مزید : کالم