پانی سے چلنے والی کار: فراڈ یاحقیقت؟

پانی سے چلنے والی کار: فراڈ یاحقیقت؟

پاکستان میں ایک شخص آغا وقار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پانی سے کار چلانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ شروع شروع میں کسی نے توجہ نہیں دی، پھر توجہ دی گئی تو بہت واہ واہ ہوئی اور پھر اس کی حقیقت کی کھوج شروع ہوئی تو اس پر شکوک و شبہات کے بادل چھا گئے۔ صحافیوں اور اینکرز نے تو زیادہ تر اسے سراہنے تک محدود رکھا۔ کسی نے کوئی سائنسی سوال نہیں اُٹھایا۔ کچھ سائنس دانوں نے سائنسی سوال اُٹھائے، تو اُنہوں نے بھی نہایت دور ازکار باتیں کیں، تو انہوں نے بھی واہ واہ تک سائنس کا اظہار کیا یا یکسر اسے ناقابل عمل قرار دے کر مسترد کر دیا۔ بہتر ہے اس پر مزید معلومات پیش کرنے سے پہلے تھوڑی سی تاریخ کا جائزہ لے لیا جائے۔

 اول تو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ پانی سے کار چلانے کا مطلب دراصل پانی کے ایک جزو، یعنی ہائیڈروجن سے کار چلانا ہے۔ پانی سے ہائیڈروجن کو الگ کرنے کا بہت ابتدائی طریقہ جو ہم نے بھی ابتدائی جماعتوں میں پڑھا تھا، وہ یہی تھا کہ پانی سے بجلی گزاری جائے تو وہ دو گیسوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ ہائیڈروجن ایک الیکٹروڈ پر اور آکسیجن دوسرے الیکٹروڈ پر جمع ہونے لگتی ہے۔ یہ بھی ہمیں اسی وقت بتایا گیا تھا کہ ہائیڈرو جن جلنے والی گیس ہے، جبکہ آکسیجن خود جلتی نہیں، جلنے میں مدد دیتی ہے۔ پانی کو اس طرح دو گیسوں میں تقسیم کرنا مہنگا طریقہ ہے، اس لئے ہمارے ایک سائنس دان نے اسے فوری طور پر مہنگا قرار دے دیا، حالانکہ یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ پانی سے ہائیڈروجن گیس حاصل کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے، اس کے بعد کوئی دوسرا طریقہ قیامت تک دریافت نہیں ہو سکتا۔

1903ءمیں گیس ویلڈنگ کا آغاز ہوا۔ دو فرانسیسیوں ایڈمنڈ فورشے اور چارلیس رکارڈ نے یہ طریقہ دریافت کیا۔ اس میں ہائیڈروجن سے ملتی جلتی گیس Acetylene استعمال ہوتی ہے اور اسے آکسیجن سے جلا کر اس کا بلند درجہ حرارت6330F حاصل کیا جاتا ہے۔ 2002ء میں ایک امریکی ڈینس کلائین نے پانی اور آکسیجن کو ویلڈنگ کے لئے استعمال کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس نے اسے Aquagen کا نام دیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اس سے کوئی بھی چیز چلائی جاسکتی ہے اور یہ دعویٰ غلط بھی نہیں ہو سکتا کہ جو چیز جل سکتی ہے،وہ کسی بھی مشین کو چلا سکتی ہے۔ پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل، نباتاتی تیل اور الکحل وغیرہ وغیرہ سب یہی کام دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ ان کی دستیابی، قیمت یا تیاری کا خرچہ ہے اور یہی معاملہ ہائیڈروجن کے سلسلے میں بھی ہے۔ اگر پانی سے ہائیڈروجن کے اجزاء(مالیکیولز) الگ کرنے کا کوئی سستا طریقہ دریافت کر لیا جائے تو یہ سستا ترین ایندھن ثابت ہو سکتا ہے۔ مسٹر ڈینس کلائین نے دعویٰ کیا کہ حکومت اُن کے ساتھ فوجی گاڑی Hummer کو اس ایندھن پر چلانے کے لئے بات چیت کر رہی ہے، لیکن ایسا کچھ نہ ہُوا۔

2002ءمیں ایک کمپنی Genesis world Energy نے ایک آلہ متعارف کرانے کا دعویٰ کیا، جس کا کام پانی سے آکسیجن اور ہائیڈروجن کو الگ کرنا اور پھر دونوں کو ملا کر توانائی حاصل کرنا تھا۔ 2003ءمیں انہوں نے کہا کہ اسے کامیابی سے کاروں میں استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن یہ ایک مہنگا طریقہ کار تھا اور آغا وقار کے سلسلے میں ایک ٹی وی مذاکرے میں ہمارے ایک سائنس دان نے اسی طریقہءکار کو حوالہ بناتے ہوئے اسے مہنگا اور ناممکن العمل قرار دیا۔ کمپنی 2006ءتک کوئی آلہ مارکیٹ میں نہیں لا سکی۔ 2006ءمیں کمپنی کے مالک پیٹرک کیلی کو عدالت نے پانچ سال قید اور چار لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا سنائی۔ اُس پر الزام تھا کہ اُس نے اس آلے کے نام پر اڑھائی ملین ڈالر سرمایہ کاری کے لئے لوگوں سے ہتھیا لئے تھے۔

2008ءمیں ایک اور کمپنی Genapay water energy system سامنے آئی، جس نے دعویٰ کیا کہ وہ پانی اور ہوا سے کار چلانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ میڈیا نے اسے water fule car کا نام دیا۔ کمپنی نے کہا کہ وہ ابھی تک ایجاد کا اہم ترین حصہ یا اصل چیز سامنے نہیں لا رہی، لیکن اس نے اتنا ضرور بتا دیا کہ انہوں نے ایک جنریٹر بنایا ہے، جس میں وہی طریقہ استعمال ہوتا ہے جو دھات ہائیڈ راڈ سے ہائیڈروجن حاصل کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ایک کمپنی نے ایک Gasoline Pill یعنی پٹرول کی گولی ایجاد کرنے کا دعویٰ کیا۔ یہ گولی وہی چیز تھی، جو گیس ویلڈنگ میں استعمال ہونے والے ایک مادے کاربائیڈ سے بنی تھی۔ کار بائیڈ پر پانی ڈالنے سے Acetylene gas پیدا ہوتی ہے جو جلتی ہے۔ اس کے لیمپ بھی استعمال ہوتے ہیں اور اس کی اس خاصیت کو مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بچے اسے کسی ایئر ٹائٹ ڈبے میں ڈال کر ذرا سا پانی یا تھوک استعمال کر کے پھینک دیتے ہیں۔ ڈبہ گیس کے دباو¿ سے زور دار دھماکے سے پھٹتا ہے۔ یہ گویا آتش بازی کا کھیل ہے.... Gen Pax کمپنی نے 2008ءمیں بھارت کی بنی ہوئی گاڑی Revai کو لندن میں اپنے طریقے سے چلا کر دکھایا تھا، لیکن 2009ءمیں کمپنی نے اپنی ویب سائٹ یہ کہہ کر بند کر دی کہ اس پر بہت زیادہ خرچ آ رہا ہے۔

امریکہ کے علاوہ فلپائن میں ایک شخص ڈینئیل ڈنگل بڑے عرصے سے دعویٰ کر رہا تھا کہ اس نے کوئی ایسا سستا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ 2000ءمیں فارموسا پلاسٹک گروپ نے اس کے ساتھ شراکت کی، تاکہ اس ٹیکنالوجی کو ترقی دے کر عام کیا جائے۔ 2008ءمیں کمپنی نے ڈنگل پر دھوکہ دہی کے الزام میں مقدمہ کر دیا۔ 82 سالہ ڈنگل کو عدالت سے بیس سال قید کی سزا ہوگئی۔ سری لنکا میں توشار پریامل ایدری سنگھا نے پانی سے کار چلانے کا دعویٰ کیا اور کہا اُس نے پانی سے تین سو کلومیٹر گاڑی چلائی، جس پر تین لیٹر پانی خرچ ہوا۔ توشار نے اس سلسلے میں وہی پرانا طریقہ بتایا، یعنی ”برقی پاشیدگی“ کا طریقہ Electrolysis جسے ہمیشہ سے مہنگا سمجھا گیا ہے۔ توشار نے سری لنکا کے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ حکومت نے اس کے ساتھ تعاون کاوعدہ کیا اور اس کی ٹیکنالوجی کو مارکیٹ تک لانے کی ہامی بھرلی، لیکن چند ماہ بعد تو شار کو گرفتار کر لیا گیا۔ اُس پر الزام تھا کہ اُس نے”سرمایہ داری“ فراڈ کیا ہے۔ اب تک لوگ پانی کا نام استعمال کرتے تھے۔ اب لوگوں نے ہائیڈروجن کا نام استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ امریکہ میں ایک اور اصطلاح رائج ہوئی....Hydrogen on demand ....اس کی آج کل بہت شہرت ہے۔

چند سال پہلے جی ایم نے ایک گاڑی ہائیڈروجن سیلز سے چلنے والی بنائی تھی، جس کے نیچے بہت سے ہائیڈروجن سیلز نصب کئے گئے تھے۔ لوگوں نے اسے سراہا بھی تھا، لیکن بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اس گاڑی میں بیٹھنا کسی آتش فشاں کے دہانے پر بیٹھنے کے مترادف ہوگا۔ یہ گاڑی چلی، لیکن قبولیت عامہ نہ حاصل کر سکی۔ اس کی بجائے بجلی سے چلنے والی ہائبرڈ گاڑیاں عام ہوگئیں۔ نیویارک شہر میں سٹی کی ساری بسیں بجلی سے چلتی ہیں۔ بجلی میں ایک خرابی ہے کہ زیادہ فاصلہ طے نہیں کرتی اور چارج ہونے میں بہت وقت لیتی ہے۔ ہائیڈرجن آن ڈیمانڈ کا مطلب ہے کہ جتنی ہائیڈروجن کی ضرورت پڑے، اتنی تیار ہو کر ساتھ ساتھ استعمال ہوتی رہے، ساتھ ساتھ تیار ہوتی رہے۔ اس میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دوسرا اس طریقہ کو پٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے موجودہ ایندھن کے ساتھ اضافی طور پر استعمال کر کے ایندھن کی کارکردگی بڑھائی جا رہی ہے، یعنی اگر کوئی گاڑی عام پٹرول پر پندرہ میل چلتی ہے تو ہائیڈروجن کی مدد سے وہ اسی پٹرول میں دوگنا، تین گنا فاصلے طے کر سکے گی۔ اس کا انحصار گاڑی کے انجن اور سڑک وغیرہ پر ہے۔ امریکہ میں اس وقت ایسی کِٹس عام بِک رہی ہیں۔ ایک کمپنی ہے گلوبل انرجی ڈیوائس جو یہ کِٹ بیچ رہی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ وہ اس کٹ کو چلانے کے لئے گاڑی کے آلٹر نیٹر (ڈائنمو) سے کام لیتے ہیں، کیونکہ آلٹر نیٹر80 سے 140 اے ایم پی AMP ،یعنی ایمپیئر بجلی پیدا کرتا ہے، لیکن کار کے بجلی سے چلنے والے تمام آلات بیک وقت چل کر بھی زیادہ سے زیادہ 20 ایمپیئر بجلی خرچ کرتے ہیں۔ اس طرح آلٹرنیٹر سے فالتو بجلی استعمال میں لائی جاسکتی ہے۔ جس سے خاصی مقدار میں ہائیڈروجن پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ابھی تک وہ صرف ہائیڈروجن سے گاڑی چلانے میں کامیاب نہیں ہوئے، لیکن وہ اس پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔

سائینس ڈیلی نے ایک اور انکشاف کیا ہے کہ Purdue University کے ایک پروفیسر آف الیکٹریکل اینڈ کمپیوٹر انجینئرنگ جیری وڈآل اور اس کی ٹیم نے پانی سے ہائیڈروجن الگ کرنے کا نہایت سستا طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔ پروفیسر وڈ آل اس طریقے کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایلومینیم کو دیگر تین دھاتوں Gallium، Indium اور Tin (قلعی) سے ملا کر کام لیا جاتا ہے۔ ایلومینیم95 فی صد، جبکہ باقی تینوں ملا کر پانچ فی صد کی نسبت ہے۔ اس پانچ فی صد میں کسی دھات کا کتنا حصہ ہے۔ یہی راز کی بات ہے جو ابھی پروفیسر صاحب نے افشا نہیں کی، ورنہ کوئی دوسرا بھی اسے اُڑالے جا سکتا تھا۔ مسٹرووڈل کے مطابق ان دھاتوں کو پگھلا کر آہستہ آہستہ ٹھنڈا کرنے پر یہ یک جان ہو جاتی ہیں، جس پر پانی ڈالا جائے تو پانی سے آکسیجن نکل کر ایلومینیم کے ساتھ مل کر ایلومینیم اوآکسائیڈبناتی ہے اور خاص ہائیڈروجن آزاد ہو کر کام میں لائی جاسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کا خرچ 10 سینٹ فی کلو واٹ ہاور آتا ہے اور اس ایلومینیم کی ری سائیکلنگ ہو سکتی ہے۔ Hall Heroutt process سے اس کی ری سائیکلنگ، ایلومینیم کو کان سے نکلنے والی کیچ دھات Oauxite سے ایلومینیم حاصل کرنے کی نسبت سستا پڑتا ہے۔ اس عمل میں کاربن ڈائی آ کسائیڈ پیدا ہوتی ہے، یعنی ری سائیکلنگ کے عمل میں، لیکن یہ پٹرول سے چلنے والی گاڑی کی نسبت صرف ایک تہائی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایلومینیم کے علاوہ تینوں دھاتیں Inert ہیں، یعنی ان میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ انہیں دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسے استعمال کرنے کے لئے چھوٹی چھوٹی اینٹیں تیار کی جائیں گی۔ اس طریقے کی پیٹنٹ کی درخواست داخل کر دی گئی ہے۔ ریاست انڈیانا کی ایک کمپنی ALGALCO نے اس کی تیاری کا لائسنس حاصل کر لیا ہے۔ پیٹنٹ میں Purdue ریسرچ فاو¿نڈیشن کو پہلی حیثیت حاصل ہوگی۔ آئندہ سال فروری میں Cocoaبیچ فلوریڈا میں ہونے والی ایک کانفرنس میں مسٹروڈ آل 26 فروری کو اپنی دریافت پیش کریں گے یہ کانفرنس 24 فروری سے 27 فروری تک جاری رہے گی۔ کون کہہ سکتا ہے کہ مسٹروڈ آل کا طریقہ ہی آخری اور حتمی ہو۔ پانی دو گیسوں آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مرکب ہے اور سارا زور اسی پر ہے کہ کوئی سستا طریقہ ہاتھ آجائے جس سے کام لیا جاسکے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سستا طریقہ آغا وقار نے معلوم کر لیا ہو، لیکن بہرحال اُس کا دعویٰ مکمل جھوٹ نہیں ہے، کم از کم ایک امکان کا اظہار ضرور اپنے اندر رکھتا ہے۔

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)  ٭

مزید : کالم