اسلام آباد میں پتھر دل والوں کا راج

اسلام آباد میں پتھر دل والوں کا راج

 افطاری سے کچھ دیر پہلے شیدے ریڑھی والے کے پاس جانے کا اتفاق ہوا تو وہ اس بات پر سیخ پا تھا کہ بجلی تو بارہ بارہ گھنٹے نہیں آتی، لیکن اس کا بل پانچ ہزار روپے آگیا ہے، جبکہ گھر میں صرف ایک پنکھا چلتا ہے۔ پھر اس نے کہا: ”بابو جی یہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے حکمران کیا پتھر کے ہیں، انہیں رمضان المبارک میں بھی ہم غریبوں پر ترس نہیں آرہا ہے“؟ میں شیدے کی بات سن کر اندر سے رنجیدہ ہو گیا، جمہوری حکمرانوں نے عوام کو کس حال تک پہنچا دیا ہے، ان سے ہر خوشی چھین لی ہے اور انہیں زندہ لاش بن کر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔ گھر آیا تو اپنے سٹڈی روم میں وقت گزرنے کے لئے مختلف کتب کی ورق گردانی کرنے لگا۔ مخدوم جاوید ہاشمی کی کتاب ”ہاں مَیںباغی ہوں“ پر نظر پڑی تو اسے اٹھا لیا۔ فہرست پر نگاہ دوڑائی تویک دم مجھے شیدا ریڑھی والا یاد آگیا،کتاب کے ایک باب کا عنوان تھا: ” اسلام آباد، پتھر کا شہر“ جو شہر ہی پتھر کا ہو، اس میں نرم دل والے حکمران کیسے آسکتے ہیں؟ مَیں نے اس باب کو پڑھنا شروع کیا تو تاریخ کے کئی در مجھ پر وا ہوتے چلے گئے۔ مخدوم جاوید ہاشمی لکھتے ہیں....”1969ءمیں ہم چند ساتھی جنرل ایوب خان سے ملنے گئے ،وہ اپنے اسلام آباد والے گھر میں رہتے تھے۔ ایک دراز قد بارعب شخص کو ہم نے پھولوں کی کیاری کے قریب کھڑے دیکھا۔ انہوں نے اوور کوٹ پہنا ہوا تھا۔ جس کے بٹنوں پر ایفل ٹاور بنا ہوا تھا۔ وہ خود کو ایشیا کا ڈیگال سمجھتے تھے۔ یہ وہ شخص تھا جس نے 1951ءسے 1968ءتک قوم کی قسمت کے فیصلے کئے، آخری دس برس تو وہ مختار کل تھے۔انہوں نے ہمارے ساتھ گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔ ہمیں اپنے ہاتھ سے کافی بنا کر پلائی اور بڑی دیر تک گفتگو کرتے رہے۔مَیں نے یہ سوال اٹھایا کہ آپ نے ایک نیا شہر بنانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ کہنے لگے ایک محفوظ دار الحکومت کی ضرورت تھی جو دشمن کے قبضے میں نہ آسکے اور کراچی ویسے بھی شورش پسند شہر ہے اور ملک کے آخری کونے پر واقع ہے۔

مَیں نے کہا کہ مجیب کہتا ہے کہ مجھے اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی ہے، کہنے لگے اس سے بڑی غداری کیا ہو سکتی ہے۔ مَیں نے تو ڈھاکہ میں سیکنڈ کیپٹل بنانے کا کام شروع کر دیا تھا۔ مَیں نے کہا ،بیسویں صدی میں ایک آدھ کے علاوہ کوئی نیا دارالحکومت نہیں بنا، کیونکہ غریب ملک تو چھوڑیں، کوئی امیر ملک بھی نیا دارالحکومت بنانے کے لئے سرمایہ ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ کہنے لگے برازیل نے بھی برازیلیہ کا نیا شہر بسایا ہے، مَیں نے عرض کی برازیل رقبے کے لحاظ سے روس کینیڈا اور امریکہ کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کا دارالحکومت ریوڈی جنیریو ملک کے آخری کونے میں ہے اور برازیل دنیا کی چھٹی بڑی معیشت ہے اور برازیلیہ کا سنگ بنیاد ابھی رکھا جا رہا ہے۔ معلوم نہیں ان کا تجربہ کامیاب بھی ہوتا ہے کہ نہیں اور پھر ان کا صنعتی شہر ساﺅپالو پہلے ہی معیشت میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے ۔ایوب خان کہنے لگے، مولوی احتشام الحق تھانوی نے اسلام آباد کے خلاف زیادہ پروپیگنڈہ شروع کیا ہے۔ وہ کہتا ہے ملک میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ اس سے پوچھو جب پاکستان بنا تو اس کی گردن کتنی موٹی تھی اور اب کتنی موٹی ہے، پھر کہنے لگے ”میری دو باتیں یاد رکھنا ایک تو یہ کہ مشرقی پاکستان کی ترقی کے لئے دن رات کام کیا ہے۔ قائد اعظمؒ نے تو کلکتہ کے بغیر پسماندہ بنگال کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا“۔

مَیں سمجھتا ہوں دارالحکومت کراچی سے تبدیل ہونے سے پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچا ہے۔ کراچی سے دارالحکومت کو اسلام آباد لانے سے مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے ایک ہزار میل کی بجائے 2 ہزار میل کے فاصلے پرچلا گیا۔ کراچی شہر میں آج بھی 15لاکھ بنگالی موجود ہیں۔ کراچی میں بنگالی خوش تھے۔ یہاں کا موسم ڈھاکہ سے ملتا جلتا ہے، اسلام آباد سردیوں میں سخت سرد ہوتا ہے۔ بنگالی اسلام آباد میں رہتے ہوئے اکثر بیمار ہو جاتے تھے۔ اگر کراچی دارالحکومت ہوتا تو موسم کی یکسانیت کی وجہ سے یہ بنگالی پچاس لاکھ سے زیادہ ہوتے۔ مغربی پاکستان میں مشرقی پاکستان کا ایک اور شہر آباد ہوتا تو پاکستان توڑنے کے منصوبے پر عمل کیسے ہوتا؟

 ایوب خان نے غریب ملک میں ایک نیا شہر بسا کر ساری معیشت نچوڑ لی۔ پچھلے پچاس سال میں دنیا بھر میں سوائے برازیل کے کسی امیر ترین ملک نے بھی نیا شہر بسانے کی حماقت نہیں کی۔ 1969ءمیں ایوب خان کی ملاقات سے لے کر آج تک مَیں اپنی سوچ تبدیل نہیں کر سکا۔ اسلام آباد کے قیام سے راولپنڈی اور ارد گرد کے چند علاقوں کو درجہ چہارم کی کچھ نوکریاں ضرور مل گئی ہیں، مگر زیادہ غریب پٹھان جنوبی پنجاب کے لوگ اندرون سندھ کے سندھی اور بلوچستان کے بلوچ اور پشتون علاقوں کے عوام تلاش روز گار کے لئے کراچی کو ترجیح دیتے ہیں۔ شمالی پنجاب، خصوصاً گجرات، جہلم کے لوگ بیرون ملک جاتے ہیں۔ سرحد اور پنجاب کے شمالی اضلاع کے لوگ فوج میں روز گار تلاش کرتے ہیں۔

اسلام آباد کی بنیاد کے پتھر نے پاکستان کے وفاق کو منتشر کر دیا اور جمہوریت کی روح پر بھی قبضہ کر لیا۔ جہاں صدائے احتجاج نہیں پہنچ سکتی۔ یہ شہر کسی غریب ملک کا دارالحکومت نظر نہیں آتا۔ یورپ کے کسی ملک کا حصہ لگتا ہے، جہاں کی زبان اور کلچر کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ ایوب خان نے کہا تھا کہ محفوظ دارالحکومت کی ضرورت تھی۔ دارالحکومت تو واقعی محفوظ ہے ،مگر ملک محفوظ نہ رہ سکا۔

ہم ایوب خان سے مل کر باہر نکلنے لگے تو انہوں نے میرے کندھے تھپتھپاتے ہوئے کہا کہ مَیں آپ کی گفتگو سے متاثر ہوا ہوں۔ میرے ساتھی باہر آکر مجھے کہنے لگے تم بلاوجہ ایوب خان کے خلاف باتیں کرتے ہو، انہوں نے تمہاری تعریف کی، یہ بڑے اعزاز کی بات ہے ،مَیں چپ تھا۔ ہم ساری عمر اعزازات سمیٹتے رہتے ہیں۔ ہماری سوچوں کو خریدنے کے لئے ایک تھپکی کافی ہے۔

مَیں پہلی مرتبہ 1962ءمیں اسلام آباد کی سیر کرنے آیا تھا۔ جب نئے شہر کی بنیادیں اٹھائی جارہی تھیں۔ 1970ءتک مری جاتے ہوئے سیاحت کی غرض سے یہاں ضرور رکتا۔ 1970ءسے 1977ءتک اسمبلی کی کارروائی دیکھنا بھی میرے اسلام آباد سے تعلق کی وجہ بنا رہا۔ 1978ءمیں مَیں بھی اس ملک کے نام نہاد حکمرانوں کی فہرست میں شامل ہو گیا اور اسلام آباد کے ساتھ رشتے کی نوعیت تبدیل ہو گئی اب یہ ملتان کے بعد میرا دوسرا گھر بن گیا ہے۔ مَیں اس کے حسن سے مسحور ہو چکا ہوں، اس کے کونے کونے میں تنہا گھومتا ہوں اور کبھی اپنے ساتھیوں کے جلو میں ۔ اس کے حسین قدرتی نظارے دل کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ ہر طرف سبزے کی بہار ہے، لیکن کیا یہ سبزہ مشرقی پاکستان کے حسین نظاروں کا متبادل ہو سکتا ہے۔ اس شہر کی معاشی سر گرمیاں کراچی کے برابر ہوسکتی ہیں یا اس شہر میں جمہوریت کراچی کی طرح پھل پھول سکتی ہے؟کیا اس شہر کا چاروں صوبوں سے وہ تعلق بن سکتا ہے، جو کراچی کا تھا۔ اگر مجھ سے یہ سوال پوچھا جائے تو میرا جواب نفی میں ہو گا۔

ایک تقریب میں سوئٹرزلینڈ کے سفیر کی بیوی مجھے کہنے لگیں، اسلام آباد کیسا شہر ہے، جہاں کوئی قبرستان نہیں اور اب قبرستان بنایا جارہا ہے تو قبریں بھی گریڈ کے حساب سے بنتی ہیں۔مَیں نے ان سے کہا کہ یہ بہت پرانا شہر ہے، اڑھائی ہزار سال پہلے اس جگہ سے کچھ فاصلے پر پہلا تحریری آئین وجود میں آیا تھا۔ اس کی یونیورسٹی میں پوری دنیا کے طالب علم اپنے علم کی پیاس بجھانے آتے تھے۔ جب سکندر اعظم ٹیکسلا میں شان و شوکت سے داخل ہوا تو اس کے راستے میں کوئی مزاحمت نہیں تھی۔ اشوکا اپنے استاد چانکیہ کے ساتھ کھڑے ہو کر مستقبل کے خواب دیکھ رہا تھا اور اسی اشوک اعظم کا یہ دارالحکومت بنا اور آج تک ارد گرد کی پہاڑیوں پر اشوک کے احکامات کی تختیاں موجود ہیں۔ مَیں ماضی میں گم ہو گیا۔ کیونکہ مَیں حال کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ٹیکسلا کے معنی ہیں تراشیدہ پتھروں کاشہر.... ہم اسلام آباد کو بھی ناتراشیدہ پتھروں کا شہر کہہ سکتے ہیں“۔

مَیں نے سوچا مخدوم جاوید ہاشمی بھی ایک اچھے افسانہ نگار کی طرح بہت کچھ علامتی انداز میں کہہ جاتے ہیں، سو انہوں نے اس باب میں بھی کہا، تاہم مخدوم جاوید ہاشمی کے اس خیال سے اتفاق کرنا آسان نہیں کہ اسلام آباد نہ بنتا اور کراچی ہی ملک کا دارالحکومت رہتا تو بنگلہ دیش معرض وجود میں نہ آتا۔ بنگلہ دیش بننے کی وجوہات کچھ اور تھیں جنہیں پروان چڑھانے میں بھارت کا بھی ہاتھ تھا۔ ویسے بھی کراچی میں جس طرح لسانی ،گروہی اور طبقاتی کھچڑی پکی ہوئی ہے، اگر یہ ملک کا دارالخلافہ ہوتا تو سفارت خانوں کی حفاظت ملک کے لئے سب سے بڑی سردردی ہوتی۔ کراچی کو پاکستان بننے کے بعد ملک کا بڑا شہر ہونے کے ناتے دارالخلافہ بنا دیا گیا تھا۔ متحدہ ہندوستان میں اس کی ایسی کوئی حیثیت نہیں تھی، اس لئے اگر ایوب خان نے اسلام آباد کی شکل میں ایک نیا دارالخلافہ بنانے کا فیصلہ کیا تو اس میں کوئی انہونی بات نہ تھی۔

نیا ملک دارالخلافہ بناتا ہے تو اس کے پس پردہ یہی جواز کافی ہے۔ البتہ مخدوم جاوید ہاشمی کی اس بات سے اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد کسی غریب ملک کا دارالحکومت نظر نہیں آتا۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے تو یہ بات شاید اسلام آباد کی جدت اور خوبصورتی کے حوالے سے کی ہے، تاہم مَیں اس میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام آباد اس لئے بھی پاکستان جیسے غریب ملک کا دارالحکومت نہیں لگتا کہ اس میں مقیم چھوٹے بڑے اختیار والے کروڑوں عوام کی مشکلات و مسائل سے بے پرواہ ہو کر اپنی چمک دمک والی دنیا میں غرق رہتے ہیں ،حتی کہ اس جماعت کے لوگ بھی کہ جو غریبوں کی پارٹی کہلاتی ہے اور جس نے عوام سے روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا تھا۔ اسلام آباد میں چونکہ ہر کوئی خاص آدمی ہے، اس لئے شیدے ریڑھی والے جیسے عام آدمی کے بارے میں کسی کو سوچنے کی فرصت ہی نہیں۔ اس کے اس پہلو نے اسے پتھر بنا دیا ہے اور علامہ اقبال کی اس بات کو سچ ثابت کر دیا ہے کہ سنگ و خشت سے نئے جہاں پیدا نہیں ہوتے۔  ٭

مزید : کالم